’اِدھر سے نہیں تو پھر کس در سے ملے گا ہمیں‘

پاکستان میں کئی لوگوں کے لیے مزاروں کی روحانی اہمیت ہے لیکن کیا اس کے کوئی نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ تین قسطوں پر مشتمل سیریز کے آخری حصے میں نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ پہنچے لاہور میں بی بی پاک دامن کے دربار جہاں روزانہ ہزاروں لوگ اپنے جسمانی اور روحانی مسائل کے حل کے لیے منتیں چڑھانے آتے ہیں اور جاننے کی کوشش کی کہ کیا اس عمل میں انسانی نفسیات بھی کارفرما ہوتی ہے۔

منصور رضا شیرازی درباروں، پیروں فقیروں کو ماننے والوں میں سے ہیں۔ چند برس قبل جب روزگار کی غرض سے لاہور آئے سب بڑے درباروں پر حاضری دی۔ گڑھی شاہو کے علاقے میں واقع بی بی پاک دامن کے دربار پر پہنچے تو وہاں ایک دیرینہ منت مان ڈالی۔

انھیں نرینہ اولاد کی خواہش تھی۔ چار ماہ قبل ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو منصور کا عقیدہ مزید پختہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’علاقے کی معیشت بابا فرید کے دربار سے جڑی ہے‘

’300 برس سے راگ کا سلسلہ یونہی جاری ہے‘

اب وہ اس دربار پر زیادہ باقاعدگی سے آتے ہیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن سے شِملہ پہاڑی کی جانب آتے ہوئے ایمریس روڈ پر ذرا ہٹ کے قدیم لاہور شہر کی پیچیدہ سی گلیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

انھی پُررونق گلیوں کے بیچ سے گزرتے وہ شام کے وقت بی بی پاک دامن کے باہر پہنچتے ہیں، ایک دکان سے نذرانے کی مٹھائی خریدتے ہیں اور دربار کے احاطے میں داخل ہونے سے پہلے جھُک کر سلام کرتے ہیں۔

’ہمارا تو عقیدہ ہے اس در پر، کیونکہ یہ حضرت علی کی بیٹی کا در ہے۔ ادھر سے نہیں تو پھر کس در سے ملے گا ہمیں۔ ساری کائنات ان ہی کے صدقے کھا رہی ہے۔‘

اس دربار کی جانب ان کی کسی نے رہنمائی نہیں کی۔ وہ اس سے قبل بھی کسی اور غرض سے بھی یہاں آتے رہے ہیں۔ ’مجھے نوکری نہیں مل رہی تھی اور یہاں دعا مانگنے سے مجھے نوکری بھی اچھی ملی ہے۔‘

بی بی پاک دامن تمام مسالک کے لیے متبرک مقام تصور کیا جاتا ہے۔ تاثر یہ ہے کہ یہاں چھ مقدس بیبیوں کی قبریں واقع ہیں۔ وہ بیبیاں کون ہیں اس کا کوئی مستند تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔

یہاں موجود مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ چھ قبروں میں سے بی بی حج نامی کتبے والی قبر دراصل مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کی صاحبزادی حضرت رقیہ کی ہے۔ تاہم اس دعوے اور اس سے جڑی روایت کہ وہ واقعہ کربلا کے بعد یہاں کیسے پہنچیں اور ان کی وفات کیسے ہوئی، اس کی تصدیق کے لیے کوئی تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔

بی بی پاک دامن کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ لاہور ہی میں دفن گیارہویں صدی کے صوفی داتا گنج بخش بھی یہاں فاتحہ پڑھنے آتے تھے۔ بی بی پاک دامن پر حاضری دینے والے زائرین میں قدرتی طور پر خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

منصور شیرازی کی طرح ہر ایک کے مختلف مسائل ہوتے ہیں۔ دربار پر کام کرنے والے بشیر سائیں مجاور کہتے ہیں خواتین کی منتیں بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی بھی ہوتی ہیں۔

چار دیواری کے اندر ایک کونے میں پڑے تیل کے دیے صاف کرتے ہوئے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں وہ کہتے ہیں ’کئی تو آ کر یہ شکایت بھی کرتی ہیں کہ ان کے خاوند ان کی بات نہیں مانتے یا انھیں پیسے نہیں دیتے۔‘

منتیں ماننے کے کئی طریقے ہیں۔ بی بی پاک دامن میں ان میں زیادہ تر نظر آتے ہیں۔ بشیر سائیں کہتے ہیں ’دربار پر پڑے دیوں میں پہلے سرسوں کا تیل ڈالا جاتا ہے۔ جب منت پوری ہو جائے تو لوگ پھر دیسی گھی لا کر ڈالتے ہیں۔‘

ساتھ ہی چند کتبے نصب ہیں۔ ان کی آہنی جالی کے ساتھ سیکنڑوں چھوٹے بڑے تالے لگے نظر آتے ہیں۔ بشیر سائیں کہتے ہیں یہ زیادہ تر خواتین لگا جاتی ہیں۔

’منت مانتے وقت تالا لگایا جاتا ہے، جب پوری ہو جائے تو آ کر کھولنا ہوتا ہے۔‘

مرکزی قبروں کے درمیان بنے ایک چوبارے پر سٹیل کے پیالوں میں نمک اور جلی اگر بتیوں کی خاک رکھی ہوتی ہے۔ آنے جانے والا ہر شخص یہ ساتھ لے جاتا ہے یا چکھتا ضرور ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ اس سے بیماریوں سے شفا ملتی ہے۔

یہ بات کس حد تک درست ہے؟ یہاں کی طرح درباروں پر آ کر صحت کی دعا مانگنے والے کئی افراد دعوٰی کرتے ہیں کہ انہیں یہاں آ کر دعا کرنے سے شفا ملتی ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہاں مُڑ مُڑ کر آتے ہیں؟

پروفیسر ڈاکٹر فرح ملک پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اطلاقی نفسیات کی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس رجحان کی وضاحت علمِ نفسیات کے ذریعے با آسانی کی جا سکتی ہے۔ اس کو ممکنات کے قانون سے واضح کیا جا سکتا ہے۔

’یہ محض اتفاق ہے۔ آپ نے ایک دعا مانگی جو آپ گھر پر کھڑے ہو کر بھی کر سکتے تھے مگر اس وقت آپ نے دربار کر کھڑے ہو کر مانگی۔ بعد میں آپ نے وہ دعا نہیں مانگی، جب وہ پوری ہو گئی تو آپ کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ دعا دربار پر مانگنے سے پوری ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا اس میں ممکنات کا پہلو عمل پیرا ہوتا ہے۔ فرض کیا سو لوگ دربار پر جا کر دعا مانگتے ہیں۔ ان میں سے پانچ کی دعا پوری ہو جاتی ہے۔ ’اس کا مطلب ہے یہ ہونا ہی تھا۔ اب یہ اتفاق ہے کہ یہ لوگ اس وقت دربار پر کھڑے تھے۔‘

اور یہ انسانی نفسیات ہے کہ جس جگہ ’اس کی دعا قبول ہو گی وہ اس کے لیے مقدس بن جائے گی۔ وہ اس کے لیے ایک وسیلہ بن جائے گا جہاں وہ اپنی ہر ضرورت کے لیے جا سکتا ہے۔‘

اور یہ بات پھر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ پروفیسر فرح ملک کا کہنا تھا کہ وہ پانچ لوگ جن کی دعائیں انھیں لگا کہ دربار پر کھڑے قبول ہوئی ہیں وہ اپنے اعتقاد کو پھر مزید سو لوگوں تک پہنچائیں گے۔

ان میں سے پھر پانچ کی پوری ہو جائیں گی جو اس کو سو مزید لوگوں تک پہنچائیں گے اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ فرض کریں کہ ایک شخص بیمار ہے اور دوا کھا رہا ہے تاہم وہ کہتا ہے کہ اسے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ پھر وہ دربار وغیرہ پر جاتا ہے، دعا مانگتا ہے اور ٹھیک ہو جاتا ہے۔

اس میں اکثر ہوتا یہ دوا اپنا اثر کر رہی ہوتی ہے تاہم انسان صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ ’ہو سکتا ہے دوا نے سات روز میں اثر کرنا ہو لیکن ہم پانچ دن میں اکتا گئے اور چھٹے روز دربار پر چلے گئے اور دعا مانگی، ساتویں روز ہم ٹھیک ہو گئے۔ تو ہمارا اعتقاد دوا پر نہیں، دربار پر ہو گا۔‘

اگر یہ انسانی نفسیات ہے تو یہ محتلف لوگوں میں مختلف کام کیوں کرتی ہے۔ پروفیسر ملک کہتی ہیں اس میں انفرادی شخصیات اور گھر سے ملنے والی تربیت کا عمل دخل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہب نے بھی بیماری سے شفا کے حوالے سے دعا کی اہمیت کی جانب رہنمائی کی ہے۔ کئی آیات کا ذکر ملتا ہے جو اس زمانے میں جب دوائیں زیادہ نہیں ہوتی تھیں، تو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے پڑھنے کا کہا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر انسانی نفسیات ہے کہ وہ وسیلہ ڈھونڈتا ہے۔ اسے کسی بھی چیز پر یقین کرنے کے لیئے ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ ظاہری طور پر دیکھ سکے، چھو سکے، سن سکے یا پھر وہ کسی بھی صورت میں وہ اس کے سامنے ہو۔