اقلیتی اداروں میں شیڈولڈ کاسٹ ریزرویشن کا مطالبہ غیر آئینی : پروفیسرطاہر محمود

نئی دہلی :–[یو این آئی]اقلیتی اداروں میں شیڈولڈ کاسٹ ریزرویشن کا مطالبہ غیر آئینی قرار دیتے ہوئےممتاز ماہر قانون پروفیسرطاہرمحمود نے آج کہاہے کہ آئین اور عدالتی فیصلوں کے تحت اقلیتی اداروں میں درج فہرست ذاتوں کیلئے ریزرویشن لازمی نہیں ہے۔

قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین نےیواین آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1992 کے اپنے جس فیصلے میں اقلیتی اداروں میں اقلیتی طلباء کیلئے پچاس فیصد سیٹیں محفوظ رکھنے کی بات کہی تھی اسی میں عدالت عظمیٰ نےیہ بھی کہا تھا کہ باقی ماندہ سیٹیں ‘‘خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ‘‘ بھری جائیں اس لئے اس عدالتی فارمولے میں درج فہرست ذاتوں کیلئے ریزرویشن کی کوئی گنجائش نہیں ۔

پروفیسرمحمود نے بتایا کہ قومی اقلیتی کمیشن کے اپنے دور صدارت میں انہوں نے کمیشن کی طرف سے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی اس وضاحت پر مبنی میمورنڈم جاری کیا تھا جسے مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو بھیج دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے بعد کے فیصلوں میں سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اقلیتوں کے لئے محفوظ پچاس فیصد سیٹوں کی بات کوئی ’’حدّ آخر‘‘ متعیّن نہیں کرتی بلکہ کسی ریاست میں اقلیتوں کی آبادی کے حساب سے ان کیلئے محفوظ سیٹوں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر طاہر محمود نے کہاکہ ’’پی اے انعام دار بنام ریاست مہاراشٹر‘‘( 2005) کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئین کی دفعہ15 میں ایک شق بڑھاکر یہ واضح کردیا گیا تھا کہ حکومت اپنی ریزرویشن پالیسی عام اداروں میں نافذ کرسکتی ہے ، اقلیتی تعلیمی اداروں میں نہیں۔
انہوں نے مزید بتا یا کہ اس ترمیم کی بنا پرہی بمبئی ہائی کورٹ نے پچھلے سال ایک واضح فیصلہ سنایا تھا کہ اقلیتی اداروں میں درج ذیل فہرست ذاتوں کے لئے ریزرویشن لازمی نہیں ہے۔ اس کے خلاف ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی جس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔

پروفیسر محمود نے کہا کہ اس سلسلے میں آئینی اور قانونی حیثیت بالکل واضح ہے اس لئے علی گڑھ اور جامعہ میں شیڈیولڈ کاسٹ ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والے اور کوئی راستہ نہ پاکر انکی اقلیتی حیثیت ہی سے انکار کرتے ہیں لیکن آج کی تاریخ میں یہ دونوں مطلق اقلیتی ادارے ہیں کیونکہ انکی اس حیثیت کو چیلنج کرنے والے مقدمات ابھی تک فیصل نہیں ہوئے۔