امریکی رویہ چین ، دنیا اور خود امریکا کے لیے نقصان دہ

امریکی حکام نے ان 200 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات کی فہرست جاری کر دی ہے، جن پر دس فیصد محصولات عائد کی جانے والی ہیں۔ اس نئی پیش رفت سے امریکا اور چین کے درمیان ’اقتصادی جنگ‘ میں مزید شدت کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے اس فہرست کے اجراء پر خود امریکی تاجروں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جب کہ چین نے بھی اس نئے امریکی منصوبے کی مذمت کی ہے۔

امریکا نے منگل کے روز ایک فہرست جاری کی ہے، جس میں دو سو ارب ڈالر کی چینی مصنوعات کی تفصیلات درج ہیں، جن پر جلد ہی محصولات عائد کر دی جائیں گی۔ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان اس پیش رفت سے کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات ہیں

امریکی محکمہ برائے نمائندگانِ تجارت کے مطابق چین کی چھ ہزار اکتیس مزید ایسی مصنوعات ہیں، جن پر دس فیصد محصولات عائد کی جانا ہیں۔ یہ فہرست کو اگلے دو ماہ میں حتمی شکل دے دی جائے گی، جس کے بعد صدر ٹرمپ اس پر عمل درآمد کے احکامات جاری کریں گے۔ کہا گیا ہے کہ ان چینی مصنوعات پر محصولات ستمبر تک عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان مصنوعات میں خوراک، کیمیائی مادے، معدنیات، تمباکو، الیکٹرانک اور دفتری سامان وغیرہ شامل ہے۔

چینی وزارت برائے اقتصادیات نے امریکی محصولات کی اس نئی لہر کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس امریکی اقدام کا جواب دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے، ’’امریکی رویہ چین کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ دنیا کو نقصان پہنچا رہا ہے اور خود امریکا کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔‘‘

امریکی کی تجارتی برادری کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکا میں متعدد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا، جس کا نقصان عام افراد کو اٹھانا پڑے گا۔