ایس۔400 دفاعی نظام ترکی کی فوری ضرورت ہے، وزیر خارجہ

ترکی ایک آزاد اور خود مختار مملکت ہے یہ اپنے فیصلے خود کرنے کا مجاز ہے

وزیر ِ خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ روس سے خریدے جانے والے ایس۔400 دفاعی میزائل سےتعلق ہونے والی توپیں آئندہ سال کے آخیر کی جانب ترکی کے حوالے کی جائینگی۔

چاوش اولو نے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی غرض سے دورہ برسلز کے دوران اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیا۔

روس سے ایس۔ 400 میزائل نظام خریدنے کے بعد نہ صرف متحدہ امریکہ بلکہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک سے بھی اس حوالے سے تنقیدی بیانات سامنے آنے کا ذکر کرنے والے وزیر نے بتایا کہ”ہم اس حوالے سے تیکنیکی تحفظات کو سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایس۔400 کے نیٹو اوراس کے اتحادیوں کو دشمن کے طور پر تصور کرنے کے حوالے سے سوالات اٹھانا یا پھر اسے سمجھنے کی کوشش کرنا بھی ایک معمول کی بات ہے۔ ویسے بھی ہم اس معاملے میں کافی حساس ہیں۔ ہم نے اس نظام کی خرید کے وقت ان تمام پہلووں کو پرکھا ہے، ہمیں دفاعی نظام کی فی الفور ضرورت تھی، جس کو اپنے اتحادیوں سے پورا نہ کر سکنے کی بنا پر روس سے خریدا گیا ہے ، کہ اس کی پیشکش ہمار ے لیے موزوں ترین تھی۔ ترکی ایک آزاد اور خود مختار مملکت ہے یہ اپنے فیصلے خود کرنے کا مجاز ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ “آیا کہ ترکی نیٹو سے دور ہٹ رہا ہے؟” کی طرح کے سوالات ناقابل ہیں ۔ کیونکہ ایسا ہر گز نہیں ہے، اگر نیٹو میں ہمارے اتحادی ممالک ہماری ضرورت کو پورا کر دیتے تو ہم کسی اور سے رجوع نہ کرتے ۔ کیونکہ نیٹو ہی ہماری اولیت ہے۔ لہذا اب اس معاملے کو مزید اچھالنا ایک درست فعل نہیں ہو گا۔