’’ایک اور دکھی ماں، ایک اور بیوہ، ایک مرتبہ پھر بچے یتیم‘‘ پاکستان

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی ریلی پر ہونے والے خودکش حملے کی کئی حلقوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔ اس حملے میں ہارون بلور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا خاندان پہلے بھی دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے۔


پشاور میں منگل کو رات گئے کیے گئے اس بم حملے میں اے این پی کے رہنما اور انتخابی امیدوار ہارون بلور بھی مارے گئے۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں ساٹھ سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے پینتیس ابھی تک پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

پاکستان کی سیاسی شخصیات ، آرمی چیف اور دیگرافراد کی جانب سے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

وکیل اور تجزیہ کار بابر ستار نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ ہم ایک محدود نطر رکھنے والی ریاست ہیں، جو ناکام پالیسیوں پر کار بند ہے، جو مختلف آراء کے حوالے سے برداشت کی ترویج نہیں کرتی۔ لیکن کوئی بھی ان غلطیوں کی نشان دہی کرے تو اسے غدار کہا جاتا ہے، تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارض وطن۔‘‘

M. Jibran Nasir

@MJibranNasir
A martyr’s son emulated his father’s legacy of being fearless in the face of intolerance and extremism. Today Pakistan has lost another Progressive voice and leader. The best way to pay our respects is to be more bold, loud and clear against extremism #RestInPower #HaroonBilour

صحافی طحہٰ صدیقی نے لکھا،’’میں نے 2013 میں بھی ہارون بلور کو انتخابی مہم چلاتے دیکھا، جب کچھ روز قبل ہی ان کے والد کو بھی دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ وہ اس وقت پشاور کی گلیوں میں لوگوں سے مل رہے تھے۔ آج وہ یہی کرتے مارے گئے۔‘‘

محمد تقی نے لکھا،’’ اگر کسی شہر کو نشان حیدر دیا جاسکتا تو وہ پشاور کو ملتا، پشاور نے بہت قربانیاں دی ہیں۔‘‘

عبدالمجید خان مروت نے لکھا،’’ ایک اور دکھی ماں، ایک اور بیوہ، ایک مرتبہ پھر بچے یتیم۔ یہاں رات کے بعد اجالے کی کوئی امید نہیں۔‘‘

Dr Nauman
@naumanulhaqkhan
Heart wrenching scenes from Bilour house Peshawar. Danyal Bilour is sitting on top of the ambulance containing his father’s body. He is chanting, “Zinda hay Bilour, Zinda Hay”.

صحافی مہرین زہرہ ملک نے لکھا،’’ ایک خاندان کی اتنی قربانیاں۔ بشیر بلور کو 2012 میں ایک خود کش حملے میں مار دیا گیا، ان کے بھائی غلام بلور کے اکلوتے بیٹے شبیر بلور 1997 میں مارے گئے۔ آج ہارون بلور بھی مارے گئے۔‘‘

ٹوئٹر کے ایک اور صارف عمران خان نے لکھا،’’ہماری موت کو قربانی مت کہو، ہم مظلوم ہیں، ہم پر یلغار ہو رہی ہے۔‘‘

Syed Talat Hussain

@TalatHussain12
Three generations struck by terror.

صحافی احمد نورانی نے لکھا،’’جب پوری پختون قوم زخموں سے چور چور تھی تو ایسے میں راؤ انوار کو رہا کرنا اور پھر ہارون بلور کا شہید ہونا ناقابل فراموش واقعات ہیں، جو آئندہ کے پاکستان کی سمت متعین کریں گے۔‘

Mohsin Dawar

@mjdawar
Shocked to know about the death of Haroon Bilour in a suicide attack. A brave son of a brave father who never surrendered his philosophy instead of a number of attacks. Our heart felt condolences goes with the family of Haroon Bilour and may his soul rest in peace.

صحافی اویس توحید نے لکھا،’’ باچا خان کے تشدد مخالف فلسفے کو اپنا کر ہارون بلور کے بیٹے دانیال بلور نے پارٹی کے جذباتی کارکنان کو صبر کرنے اور پر امن رہنے کی تلقین کی ہے۔‘‘

یہ حملہ پچیس جولائی کے عام انتخابات سے قبل پاکستان میں اب تک کی جانے والی سب سے بڑی دہشت گردانہ کارروائی ہے، جس کی ذمے داری مقامی طالبان عسکریت پسندوں نے قبول کر لی ہے۔