ترکی، قبرصی ترکوں کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑے گا، صدر ایردوان

ترکی، قبرصی ترک عوام کو عدم حل کا شکار بننے کے سامنے کبھی بھی خاموش نہیں رہے گا

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے دورے پر تشریف لیجانے والے صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے”قبرص ہمارا ایک قومی دعوی ہے، ہماری پوری کوشش ہے کہ جزیرہ قبرص میں ایک منصفانہ اور پائدار حل تلاش کیا جائے۔”

آذربائیجان سے شمالی قبرص تشریف لیجانے والے صدر ایردوان نے صدر مصطفی آکنجی سے بلمشافہ ملاقات اور اموری ضیافت کے بعد ایوانِ صدر میں مشترکہ پریس کانفرس کا اہتمام کیا۔

صدر ترکی نے اس موقع پر کہا کہ “ترکی، قبرصی ترک عوام کو عدم حل کا شکار بننے کے سامنے ہر گز خاموش نہیں رہ سکتا اور نہ ہی یہ قبرصی ترکوں کو قبرصی یونانی ریاست کے ماتحت اقلیت بننے کی اجازت دے گا۔”

انہوں نے شمالی قبرص کی سب سے اہم ضرورت پانی کی ترسیل کو ممکن بنائے جانے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ” اس وساطت سے شمالی قبرص کو حکمتِ عملی کے اعتبار سے بالا تر اور اقتصادی لحاظ سے بار آور بننے میں مدد ملی ہے۔آئندہ کے ایام میں شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو مشرقی بحیرہ روم کے ایک جاذب مرکز کی ماہیت دلاتے ہوئے فی کس آمدنی کو دوگنا تک بڑھانا ہمارا اولین ہدف ہے۔ اس چیز کو مشترکہ مفاہمت و سوچ کے ساتھ جاری رکھا جائیگا۔”

صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ جناب آکنجی سے ہونے والی دو طرفہ ملاقات میں ایجنڈے میں شامل متعدد معاملات پر غور کیا گیا ہے، مسئلہ قبرص کے سلسلہ حل میں موجودہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ہے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ترک فریق نے اس معاملے میں گزشتہ 50 برسوں میں ہر طرح کی کوششیں صرف کی ہیں ، تا ہم بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جزیرے میں ایک وسیع پیمانے کے حل کا ہدف رکھنے والا سلسلہ ٹھیک ایک سال قبل قبرص کانفرس میں غیر نتیجہ خیز ثابت ہوا تھا۔ جس کی اصل وجہ کچھ یوں تھی :’قبرصی یونانیوں کی جانب سے پورے جزیرے کے مالک ہونے کی سوچ کو جاری رکھنا اور قبرصی ترکوں کے ہمراہ سیاسی مساوات کی بنیادوں پر شراکت داری و طاقت کی تقسیم کرنے سے دور بھاگنا ۔ ‘ اس کانفرس کے بعد ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس حوالے سے قبرصی یونانی ذہنیت میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں آئی۔