جرمنی: نیو نازی دہشت گرد گروہ کی خاتون رکن کو عمر قید کی سزا

جرمنی کی ایک عدالت نے نیو نازی دہشت گرد گروپ این ایس یو کی رکن بیآٹے شَیپے کو دس افراد کے قتل کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔


جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے دہشت گرد گروپ این ایس یو کے ارکان کے ہاتھوں قتل کے واقعات سے متعلق مقدمے میں عدالتی فیصلہ آج بدھ کو سنایا گیا۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران میونخ کی ایک اعلیٰ صوبائی عدالت نے پانچ سال سے زائد عرصے تک حقائق کے تعین کی کوشش کی۔

میونخ کی عدالت کے جج مانفریڈ گوئٹزل نے تینتالیس سالہ بیآٹے شَیپے کو اس دہشت گرد گروہ کی بانی رکن ہونے کا مجرم بھی قرار دیا۔ شَیپے کے علاوہ اس نیوز نازی دہشت گرد گروپ ’نیشنل سوشلسٹ انڈرگراؤنڈ‘ کے ارکان کو اسلح فراہم کرنے کے جرم میں رالف ووہل لیبن کو بھی دس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس گروہ کی معاونت کرنے کے الزام میں آندرے ای کو بھی ڈھائی برس قید، ہولگر گیرلاخ نامی مجرم کو تین برس قید کی سزا سنائی گئی ہے جب کہ کارسٹین ایس نامی ایک نوجوان مجرم کو بھی تین سال قید کی سزا سنائی گئی، اسے نوجوان قیدیوں کے لیے خصوصی جیل میں قید رکھا جائے گا۔

’نیشنل سوشلسٹ انڈرگراؤنڈ‘ نامی اس دہشت گرد گروپ نے دو بم حملے کرنے کے علاوہ ایک خاتون پولیس اہلکار اور دس ترک اور یونانی نژاد مردوں کو قتل کیا تھا۔ غیر ملکی پس منظر رکھنے والے افراد کے قتل کے یہ واقعات سن 2000 سے لے کر 2007ء کے درمیان پیش آئے تھے۔ اس مقدمے میں جن پانچ افراد کو دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے، وہ اس گروہ کی خاتون رکن بیآٹے شَیپے اور اس کے چار مبینہ مددگار ہیں۔ شَیپے کے لیے استغاثہ نے عمر قید کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

چار نومبر 2011ء کو شہر آئزے ناخ ميں ايک گاڑی کو آگ کے شعلوں نے اپنی لپيٹ ميں لے ليا تھا۔ پوليس اس گاڑی ميں چھپے دو ڈاکؤں کو گرفتار کرنا چاہتی تھی۔ تاہم گاڑی ميں پوليس کو دو افراد کی لاشيں مليں، جنہوں نے خود کو گولياں مار کر خود کشی کر لی تھی۔ يہ اس دہشت گرد گروپ کے دونوں اراکين اُووےبوئن ہارٹ اور اُووے مُنڈلوس تھے۔ اس کے کئی دن بعد گروپ کی تيسری رکن بیآٹے شيپے نے خود کو گرفتاری کے ليے پيش کر ديا تھا۔

اس کے بعد کے ہفتوں ميں اس نيو نازی گروپ کے جن جرائم کا انکشاف ہوا، اُنہوں نے جرمنی کو ہکا بکا کر ديا۔ يہ پتہ چلا کہ تين افراد پر مشتمل اس گروپ نے کئی برسوں کے دوران ترکی اور يونان سے تعلق رکھنے والے چھوٹے تاجروں اور ايک خاتون پوليس افسر کو دن دہاڑے قتل کيا تھا۔ انہوں نے شہر کولون میں تارکين وطن کے ایک محلے ميں بم بھی پھينکا تھا۔ ليکن پوليس نے تفتيش کے دوران دائيں بازو کے انتہا پسندوں کے سراغ ملنے کے باوجود اپنا يہ شبہ جاری رکھا کہ يہ جرائم منظم غير ملکی مجرم کر رہے تھے۔ اسی نسبت سے تفتيشی کميشن کا نام بھی ’باسفورس‘ رکھا گيا تھا۔