دنیا کی ثقافت کا تعین کرنے والے پانچ ممالک

کسی بھی ملک کے عالمی سطح پر اثرورسوخ کا اندازہ عمومی طور پر اُس کی فوج، سیاست یا معیشت کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے لیکن بعض ممالک کی ثقافت، کھانے، فیشن یا تفریحی صنعت ہی انھیں دنیا میں ممتاز درجہ دلواتی ہیں۔

ایک عالمی رپورٹ میں ثقافتی لحاظ سے اہم ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

گو کہ اس فہرست میں شامل اٹلی، سپین، فرانس اور برطانیہ سمیت پہلے دس ممالک کا تعلق یورپ سے ہے لیکن جدید اور شاہانہ ہونے کی درجے میں جاپان سب سے اوپر ہے۔ برازیل کا شمار تفریح اور خوش عوام والے ملک میں ہوتا ہے جبکہ امریکہ ثقافتی طور کافی اہمیت رکھتا ہے۔

اس مضمون میں ہم نے ثقافتی اثرروسوخ رکھنے والے پہلے پانچ ممالک کے عوام سے بات چیت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اُن کی قوم کیسے اہم ہے اور اتنے اہم ملک میں رہنا کیسا ہے؟

اٹلی

معروف ڈیزائنر آرمانی، ورساچی اور گوچی جیسے فیشن برانڈ اٹلی کے ہیں۔ ‘فیشن ایبل اور ٹرینڈی’ ہونے میں اٹلی کے دس میں دس نمبر ہیں۔

روم سے تعلق رکھنے والے لیسیو بیفلمانو کا کہنا ہے کہ ‘یہ ایک گھسی پٹی بات ہے لیکن اٹالین اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کیا اچھا لگ رہا ہے اور انھیں فیشن ایبل نظر آنے کی کافی فکر رہتی ہے۔’

انجیلا کوریس کا کہنا ہے کہ ہر وہ چیز جس میں سٹائل یا انداز نمایاں ہوں، جیسے کھانوں سے لے کر فرنیچر تک، اُس میں اٹلی کافی نمایاں ہے۔ اٹلی کے کھانے بہت مشہور ہیں۔ اس بات کو جائزہ لینے کے لیے روم جائیے۔

کوریس کہتی ہیں کہ مالیاتی بحران کے دنوں میں بھی رومیوں نے کبھی باہر کھانا کھانا نہیں چھوڑا۔ یہاں آپ کو روایتی کھانے اور ذائقوں میں جدید امتزاج ملے گا۔ گو کہ یہ سننے میں بہت عجایب لگتا ہے لیکن پنیر اور سی فوڈ کا ملاپ بہت ہی ذائقے دار ہے۔

اٹلی آنے والوں کے لیے دیگر ثقافتی مراکز میں بولونگا اور فیشن کا مرکز میلان بھی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔

فرانس
‘جدید، شاندار اور فیشن ایبل’ ان تمام میں فرانس سب سے آگے ہے۔

پیرس میں رہنے والے روبن فلس کو اپنی ثقافت کی اہمیت کا اندازہ اُس وقت ہوا جب وہ مشرق وسطیٰ اور ایشیا گئے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘دیہی علاقوں میں رہنے والے بھی فرانس کے آرٹ، فوڈ اور فیشن سے متاثر ہیں اور اُس سے محبت کرتے ہیں۔’

گو کہ پیرس میں فرانس کی ثقافت جابجا دکھائی دیتی ہے لیکن لیون اور بورڈیو میں بھی بہت کچھ ہے۔

فلس کہتے ہیں کہ ‘بورڈیو بہت ہی شاندار شہر ہے اور یہاں بہت اچھی شراب بنتی ہے۔ یہاں بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں۔’

لیون فرانس کا آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں کے کھانے بہت مشہور ہیں۔

فرانسیسی عوام اپنا شناخت بہت نازاں ہیں جیسے دنیا کو انھوں نے کیسے تبدیل کیا؟ نئے آنے والوں کو فرانسیسی زبان کا چیلنج وغیرہ۔

فلس کہتے ہیں کہ ‘نئے آنے والوں کو فرانسیسی طرز اپنانا پڑتا ہے کیونکہ فرانسیس کبھی آپ کے لیے اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتے۔’

امریکہ
‘جدید اور انٹرٹینمنٹ میں نمایاں’ ہونے میں امریکہ سرفہرست ہے۔ امریکہ فلمیں، موسیقی اور ٹی وی پروگرام پوری دنیا میں دیکھے جاتے ہیں۔ یہاں تک وہ پروگرام جو پہلے کسی اور ملک میں شروع ہوئے جیسے برطانیہ میں شروع ہونے والے رئیلٹی ٹی وی شو وغیرہ لیکن جب امریکہ نے انھیں بنایا تو وہ زیادہ مقبول ہوئے۔

فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، ایمازون امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی دین ہیں۔ روزانہ اربوں افراد ان کمپنیوں اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔

دنیا پر اثرانداز ہونے والے امریکیوں کی شناخت ممکنات کی کامیابی اور بڑے خواب دیکھنے کے طور پر ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر اینڈریو سلیپیک کا کہنا ہے کہ ‘ہم ابھی بھی امریکن ڈریمز پر یقین رکھتے ہیں۔ جو صرف یہاں ممکن ہے جو کہ ماضی میں برطانیہ کی نوآبادیات تھا، غلام تھے، قرض داروں تھے، مذہبی طور پر دبے ہوئے اور دنیا کے پسماندہ ترین افراد تھے۔’

ملک کا سب سے بڑا شہر نیویارک ان قدروں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے دوسری جانب لاس اینجلیس ہے جہاں ہالی وڈ ہے اور انٹرٹینمنٹ کا وہ مواد تیار ہوتا ہے جو امریکہ اور اس سے باہر کلچر کو نئی شکل دیتا ہے۔

اینڈریو سلیپیک کہتے ہیں کہ ‘امریکن ٹی وی شوز، فلمیں یہ تاثر دیتی ہیں کہ ہم کیسے بات کرتے ہیں کیا پہنتے ہیں کیا دیکھتے ہیں اور ہم کیاں ہیں؟’

ان دو شہروں کے درمیان وسیع جغرافیہ ہے جس میں صحرا، سمندر، پہاڑ، میدان ہیں اور کروڑوں افراد بستے ہیں۔ یہ ملک اپنے ثقافتی تنوع پر ناز کرتا ہے۔ امریکہ کے ہر شہر میں آپ کا تجربہ مختلف ہو گا جیسے میامی شکاگو سے مختلف ہے تو شکاگو نیویارک سے مختلف۔ ہر شہر اپنی تاریخ اور وہاں بسنے والے افراد کے بارے میں بتاتا ہے۔

سپین
ایک زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی بادشاہت سپین میں ہوتی تھی۔ سپین کی تاریخ کے اثرات ان کی جغرافیائی حدود باہر جنوبی امریکہ تک نظر آئیں گے۔

چینی زبان کے بعد ہسپانوی زبان کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان میں ہوتا ہے۔ ہسپانوی زبان کی فلمیں، ٹی وی اور موسیقی نے اس ملک کو بلندی تک پہنچا دیا ہے۔

نما جرجوریا کا کہنا ہے کہ ہسپانوی زبان سے لے کر مذہب تک، کھانے، تہوار اور بہت کچھ جب کبھی میں سفر کرتی ہوں تو مجھے اپنے ملک کے بارے میں کافی چیزین ملتی ہیں۔’

سپین کا تاپیس کلچر دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن یہ لوگوں کو مقامی سطح پر بھی جوڑ رہا ہے۔

بارسلونا سے تعلق رکھنے والے ایندرے اریزا کا کہنا ہے کہ ‘کھانا یہاں سہن کا انداز ہے۔ دوستوں کے ساتھ یا پھر اپنے اردگرد اجنبیوں کے ساتھ کھانا کھانا، ایک طرح کا اشتراک ہے،

کھانا پینا یہاں سوشلائیزنگ کا ذریعہ ہے۔

سپین یہاں باہر سے آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

اگر آپ کو ہسپانوی زبان آتی ہے تو یہاں گھومنا پھرنے آپ کے لیے آسان ہو جائے گا لیکن زبان نہ آنا کو کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اکثر بڑے شہروں میں ہسپانوی زبان سکھانے والے سکول موجود ہیں اور لوگ بھی مدد کرتے ہیں۔ سپین کے عوام دوستانہ مزاج رکھتے ہیں۔

برطانیہ
’شاہانہ‘ اس رینکنگ میں برطانیہ سب سے آگے ہے۔ برطانیہ کے عوام نئی ایجادات، وسعتِ قلبی، تخلیق اور مختلف افراد کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت پر فخر کرتے ہیں۔

لندن کے رہائشی این ہاکنز کا کہنا ہے کہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں یہاں ہیں۔ یہ بھی نہ بھولیں کہ مشین کوڈ کمپیوٹر، ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو کے ایجاد کرنے والے بھی ہم برطانوی ہیں۔‘

انگریزی زبان کے اثرات اور اس میں پنہاں لوچ نے برطانیہ کو ایک ایسے مقام کے طور پر پھلنے پھولنے کا موقع دیا جہاں لوگ آ کر اپنے نئے مستقبل کی تخلیق کر سکیں۔

ہاکنز کہتے ہیں: ‘ہماری زبان دوسری زبانوں سے استفادہ کرنے میں مالا مال ہے اور اس کے سیکھنے والوں کے لیے فراخ دل بھی ہے۔’

انھوں نے مزید کہا: ‘وینزویلا کے میرے دوست 11 سال قبل صرف سات سو پاؤنڈ کے ساتھ انگریزی زبان سے نابلد لندن آئے۔ آج وہ بزنس کنسلٹینٹ ہیں اور 30 سے زیادہ ریستوراں اور دکانیں چلاتے ہیں۔ کوئی بھی برطانیہ آ کر برطانوی باشندوں کی طرح کام کر سکتا ہے۔ اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہیں تو میں آپ سے شوربے پر بات کر سکتا ہوں۔’

باہر سے آنے والوں کو یہ جاننا چاہیے کہ برطانوی ہمیشہ وہ نہیں کہتے جو ان کا مدعا ہوتا ہے اس لیے آپ کو بین السطور چیزوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بوٹیک ایڈونچر کے لیے بلاگ لکھنے والی آسٹریلیا کی امانڈا او برائن کہتی ہیں کہ ‘آپ کے لیے یہ اہم ہے کہ آپ زبان کی باریکیوں اور جسمانی حرکات و سکنات کو سمجھیں۔’

مثلا ‘آئی ایم ناٹ شیور’ کا مطلب ہمیشہ ‘نہیں’ ہوتا ہے۔ ہاکنز کہتے ہیں کہ ‘انگریز اکثر جو کہتے ہیں اس کا بالکل الٹ ان کا مطلب ہوتا ہے۔ یہ زبان رمز و کنایہ اور ذومعنی الفاظ و اظہار سے بھری ہوئی ہے۔’

ملک کی تجارت کے مرکز کے طور پر لندن بیرون سے کام کے لیے آنے والوں کی منزل اور مرکز رہا ہے۔ ہر چند کہ اس شہر میں سستے رہائیشی مکانات کی کمی ہے لیکن یہاں میوزیم، کنسرٹ ہالز، تھیئٹرز وغیرہ وافر تعداد میں ہیں جو ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس سے یہاں کے باشندوں کو تہذیبی برتری حاصل ہوتی ہے۔

پیرس سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ کے رہائیشی گریگوری گولنسکی نے کہا کہ انگریزی کے معروف مصنف ‘سیموئل جانسن کا معروف قول ہے کہ جب کوئی شخص لندن سے تھک جائے تو سمجھو وہ زندگی سے تھک گیا ہے۔’

‘میرا اس سے بہت اتفاق ہے۔ یہاں دلچسپی کی اتنی چیزیں ہیں کہ آپ ہر ہفتے چھٹیوں کے دن ایک نئی جگہ جا سکتے ہیں۔ آپ کو ایک ہی چیز دبارہ کرنے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔’

لیکن یہ برتری صرف دارالحکومت تک ہی ختم نہیں ہوتی۔ ثقافتی اثرات کے تعلق سے ایڈنبرگ کی اہمیت اس کے نام سے بھی زیادہ ہے جہاں فنون کے تعلق سے دنیا کا سب سے بڑا فرنج فیسٹیول منعقد ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ ہیری پوٹر کی جائے پیدائش بھی ہے۔ اہمیت کے سلسلے میں ملک کے وسط میں موجود برمنگھم بھی مقابلے میں ہے۔ ہاکنز کہتے ہیں کہ ‘کلب سے لے کر آرکسٹرا تک برمنگھم کا شاندار کلچر ہے۔ اس شہر میں نہروں کے لیے دنیا میں مشہور شہر وینس سے بھی زیادہ نہریں ہیں اور جواہرات کے محلے ایسے ہیں جہاں جدید فیشن روایتی ہنر کے ساتھ گلے ملتے ہیں۔’

=============
لنڈسی گیلووے
بی بی سی ٹراویل

=======