سوات میں پہاڑ پر ’گوتم بدھ‘ دوبارہ ایستادہ

اسلام آباد 12 جولائی [یو این آئی] طالبان نے زائد از ایک دہائی قبل پاکستان کی سوات وادی میں گوتم بدھ کے جس قدیم مجسمے کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی اُسے ٹھیک کر کے ایک بار پھر ایستادہ کر دیا گیا ہے۔یہ مجسمہ وادی کے ایک بلند مقام پرہے۔

پاکستانی طالبان نے 2007 میں اس مجسمے کو ڈائنامائیٹ سے اُڑا دینے کی کوشش کی تھی جس میں مجسمے کو کافی طور پر نقصان پہنچاتھا۔ اس تہذیب کش واقعے سے قبل افغان طالبان نے بھی افغان صوبہ بامیان میں کئی سو سال پرانے بدھ کے مجسموں کو اپنی حکومت کے زمانے میں تباہ کر دیا تھا۔

آن لائن میڈیا کے مطابق سوات میں بودھ فلسفے کے ماہر اناسی سالہ پرویش شاہین کا کہنا ہے کہ سانحے کے بعد انہیں ایسا لگا تھا جیسے کسی نے ان کے باپ کو مار ڈالا ہو۔انہوں نے کہا کہ ’’ طالبان نے میری تہذیب اورمیری تاریخ کو نشانہ بنایا تھا۔‘‘

ویسے بھی گوتم بدھ کے مجسموں کو تباہ کرنے کی اس طرح کی کوشش کو زائد از ایک حلقوں نے تہذیب سوزی کا ایک قابل مذمت اقدام گردانا تھا۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق سوات میں بدھا کے مجسمے کی بحالی کی نگران اطالوی ماہر آثار قدیمہ لوکا ماریا اولیوے اِیری نے اے ایف پی کو بتایا،’’ اس مقام کی بحالی آسان کام نہیں تھا۔ اسے مرحلہ وار انجام دیا گیا اور سب سے پہلے ٹوٹے ہوئے حصے پر کوٹنگ کی گئی۔ مجسمے کے چہرے کی تعمیر نو سے پہلے اس پر لیبارٹری میں کام کیا گیا۔ جہاں تھری ڈی ٹیکنالوجی اور مجسمے کی پرانی تصاویر سے مدد لی گئی۔‘‘

سوات میں 1955 سے سرگرم اطالوی آرکیالوجیکل مشن نے اس علاقے سے طالبان کے خاتمے کے بعد اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا تھا۔