معذور پاکستانی کرکٹرز، ایک ہاتھ سے بیٹنگ کی اور سنچری بنائی

کسی کا ایک بازو نہیں تو کسی کی ایک ٹانگ نہیں لیکن انھیں کرکٹ کھیلتا دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ جسم کے کسی عضو کی کمی کا شکار ہیں۔ میدان میں ی ہ کسی بھی نارمل کرکٹر کی طرح کارکردگی دکھاتے ہیں۔

پاکستانی ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کی یہی خصوصیت رہی ہے کہ اس نے جسمانی طور پر معذور ان کرکٹرز کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ معذوری انسان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی ہے۔

پاکستان کی ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم پہلی بار انگلینڈ کے دورے پر ہے جہاں اسے انگلینڈ اور بنگلہ دیش کے ساتھ سہہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنی ہے۔

پاکستان ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کی اکثریت ایسے کرکٹرز پر مشتمل ہے جو عام زندگی میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں لیکن کرکٹ ان کا جنون ہے اور وہ پاکستان کی گرین شرٹ پہن کر میدان میں کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں۔

جہانزیب ٹوانہ کا تعلق مظفرگڑھ سے ہے اور وہ قومی ڈس ایبلڈ مقابلوں میں ملتان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک وکیل ہیں۔ ان کے والد ریٹائرڈ جج ہیں۔ جہانزیب ٹوانہ کے دونوں پیر ُمڑے ہوئے ہیں لیکن کریز پر آکر وہ کسی نارمل بیٹسمین کی طرح بیٹنگ کرتے ہیں۔

جہانزیب ٹوانہ اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں۔ بنگلہ دیش میں میچ کے دوران وہ اپنے چھکے سے کمنٹری باکس کا شیشہ توڑ چکے ہیں جبکہ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں افغان بولر کو لگائے گئے چھکے پر گیند سٹیڈیم سے باہر جا گری تھی

بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے محمد حارث کا دایاں بازو نہیں ہے۔ ان کے بولنگ ایکشن کی وجہ سے ٹیم کے کھلاڑی انھیں وسیم اکرم کہتے ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے فرحان سعید اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ وہ بیساکھی کی مدد سے فاسٹ بولنگ کرتے ہیں۔ جب وہ دو سال کے تھے تو ان کا بایاں پیر پولیو سے متاثر ہوا تھا۔

کسی کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ فرحان سعید بیساکھی کی مدد سے بھاگتے ہوئے عام بولر کی طرح بولنگ کرتے ہوں گے لیکن جب کوئی انھیں دیکھ لے تو اس پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے۔

فرحان سعید نے جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے متعدد کھلاڑیوں سے ملاقات کی تھی تو وہ بھی ان کے حوصلے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے مطلوب قریشی کا دایاں بازو نہیں ہے لیکن وہ ایک ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں اور انگلینڈ کی ڈس ایبلڈ ٹیم کے خلاف دبئی میں سنچری بنا چکے ہیں۔

پاکستان پہلا ملک ہے جس نے سنہ 2007 میں ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کی داغ بیل ڈالی اس سلسلے میں سلیم کریم، سابق فرسٹ کلاس کرکٹر امیر الدین انصاری، محمد نظام اور دیگر ساتھیوں کی کوششیں اہم رہیں جنھوں نے ڈس ایبلڈ کرکٹ کو نہ صرف پاکستان میں منظم کیا بلکہ ٹیم کے غیرملکی دوروں کو بھی ممکن بنایا۔

اس وقت پاکستان کےعلاوہ انگلینڈ۔، بنگلہ دیش اور افغانستان میں بھی ڈس ایبلڈ کرکٹرز کی ٹیمیں موجود ہیں۔

پاکستان ڈس ایبلڈ کرکٹ ایسوسی ایشن ہر سال باقاعدگی سے قومی چیمپئن شپ اور پنٹنگولر کپ منعقد کرتی ہے۔ ان دونوں ایونٹس کی کارکردگی کی بنیاد پر کرکٹرز کا قومی ڈس ایبلڈ ٹیم میں انتخاب ہوتا ہے۔

اس وقت ایسوسی ایشن کی کرکٹ 16 ریجنز میں ہو رہی ہے اور تقریباً 800 کرکٹرز ایسوسی ایشن سے منسلک ہیں۔ ایسوسی ایشن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

ڈس ایبلڈ کرکٹرز کی اگرچہ کوئی عالمی تنظیم نہیں ہے تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ میں ڈس ایبلیٹی کرکٹ کے سربراہ ای این مارٹن نے اسے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور انہی کی کوششوں کے نتیجے میں آئندہ سال ڈس ایبلڈ کرکٹرز کی ورلڈ چیمپیئن شپ انگلینڈ میں منعقد ہونے والی ہے۔

===========
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی