پاکستان میں فوج اقتدار پر قبضہ نہیں کرے گی، مائیکل کوگلمین

مائیکل کوگلمین امریکا کے بین الاقوامی ووڈرو ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر ہیں۔ پاکستان میں اسی ماہ ہونے والے انتخابات کے موضوع پر ڈوئچ ے ویلے شعبہ اردو کے ساتھ ان کی خصوصی بات چیت۔

سوال1 آئندہ انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے اور وہ کونسے عوامل ہیں جن کے سبب یہ انتخابات ماضی کے انتخابات سے مختلف ہیں؟

مائیکل کوگلمین: یہ کہنا غلط نہیں کہ آئندہ انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ پاکستان میں جمہوریت کا ایک اور سنگ میل ہو گا، اگر انتہائی غیرمتوقع مسائل پیدا نہ ہوئے، تو اقتدار کی ایک اور پر امن منتقلی ہو گی۔ 2013 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اقتدار جمہوری طریقے سے ایک سے دوسری حکومت کو منتقل ہوا تھا۔ پاکستانی قوم کو فوجی آمریتوں کا گہرا تجربہ ہے لیکن گزشتہ دہائی میں ہم نے کسی رکاوٹ کے بغیر عوام کے منتخب نمائندوں کی حکمرانی دیکھی ہے۔ یہ جمہوریت کی بڑی کامیابی ہے۔

ان انتخابات کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ طےشدہ سیاسی گھرانوں کے برعکس، ایک غیر روایتی سیاسی جماعت کے جیتنے کے امکانات بہت روشن ہیں۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سول انتظامیہ پر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) غالب رہی ہیں لیکن آئندہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے پاس بہت حقیقی موقع ہے کہ وہ پاکستانی سیاست میں روایتی سیاسی گھرانوں کی حاکمیت کو ختم کرکے پہلی مرتبہ ایک تیسری قوت کے طور پر اقتدار حاصل کرے۔

آئندہ انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات اگرچہ ہمیشہ مشکل رہے ہیں لیکن اس وقت یہ تعلقات شدید خراب ہیں۔ لہذا انتخابی مہم اور انتخابات اس تناظر میں بھی دیکھے جائیں گے کہ کیا طاقتور فوجی انتظامیہ نسبتا” کمزور لیکن پرعزم سابق حکمران جماعت کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی یا نہیں۔ یہ امر ابھی غیر واضح ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ بہت بڑی خبر ہو گی اور اس حوالے سے عالمی سطح پر بہت تجسس ہو گا۔

سوال 2 کیا آپ ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار کی پر امن منتقلی کی توقع کر رہے ہیں؟

مائیکل کوگلمین: جی ہاں، انتخابی مراحل اور جمہوری طریقہ کار کے اعتبار سے میں ایک پرامن تبدیلی اقتدار کی توقع رکھتا ہوں۔ پاکستان میں ایک نگران حکومت موجود ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ منتخب حکومت کو جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار منتقل نہ ہو۔ اس حوالے سے واحد مشکل، جس کی خاصی توقع کی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ انتخابات کے نتیجہ میں ایک ایسی معلق مقننہ سامنے آئے جس میں کسی کو واضح برتری حاصل نہ ہو اور حکومت سازی میں خاصا وقت صرف ہو جائے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی تقسیم کو دیکھا جائے تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ اتحادی حکومت بنانے کا عمل بہت مشکل اور تناؤ سے بھرپور ہو گا۔

تاہم مجھے یقین ہے کہ بالاخر اتحادی حکومت بن جائے گی اور ایسا نہیں ہو گا کہ یہ دوراہا ایک لانیحل بحران کی صورت اختیار کر لے، سیاسی نظام مفلوج ہو جائے اور نتیجتا” فوج کو مداخلت کرنا پڑے۔ میری نظر میں یہ بدترین امکان ہے اور اسکے حقیقت میں ڈھلنا قرین قیاس دکھائی نہیں دیتا۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ یہاں جمہوریت اسقدر مضبوط ہو چکی ہے کہ اس نوعیت کی مشکل صورتحال میں خوش اسلوبی سے انتقال اقتدار ہو جائے۔ 2013 میں یہی دیکھا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے فورا” تبدیلی اقتدار ممکن بنائی۔ اسی طرح حالیہ برسوں میں سپریم کورٹ نے حال ہی میں نواز شریف سمیت، کئی وزرائے اعظم برطرف کیے۔ اگرچہ ان فیصلوں کے غیر جمہوری اسباب پر بات ہو سکتی ہے (اس پہلو پر بھی کہ فوج نے عدلیہ پرنواز شریف کو برطرف کرنے کا دباؤ ڈالا ہو) لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ایسے ہر موقع پر تبدیلی اقتدار کا عمل بہت تیزی سے سر انجام دیا گیا۔

سوال 3 : آپ قبل از انتخابات مے مرحلے میں انتظامیہ خصوصا” فوج کے کردار کے بارے میں کیا کہیں گے؟

مائیکل کوگلمین: ایک بات واضح ہونی چاہیے اور وہ یہ کہ مسلم لیگ (ن) کا ایک مرتبہ اور اقتدار میں آنا فوج کے لیے پسندیدہ منظر نامہ نہیں ہو گا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں فوج اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کئی مناقشے ہو چکے ہیں اور فوج انہیں اقتدار سے دور رکھنے کے لیے پس منظر میں رہ کر اپنا اثرورسوخ استعمال کر سکتی ہے۔ انتخابات سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی ترغیب دینے سے لیکراعلی عدلیہ پر مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کے خلاف فیصلے دینے کا دباؤ ڈالنے تک یہ کام کئی طریقوں سے ہو سکتا ہے۔

میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ یہ بیانیہ بہت واضح نہیں کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس صورتحال سے الٹا مسلم لیگ (ن) سیاسی فائدہ اٹھا چکی ہے۔ اس نے بہت کامیابی سے یہ تاثر دیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی اور اس نوعیت کے دیگر فیصلوں کے پیچھے دراصل فوج کا ہاتھ کارفرما ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے خود کو مظلوم ثابت کر کے ہمدردی حاصل کرنے کا بیانیہ اختیار کیا ہے لہذا اگر عدلیہ انتخابات سے کچھ دن پہلے مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کے خلاف فیصلے دیتی ہے تو وہ اسے مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

مزید براں، گو فوج کو یقینا” مسلم لیگ (ن) کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے متعلق تحفظات ہیں، لیکن شخصیات سے فرق پڑتا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوتی ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے اور فوج کے ساتھ انکے تعلقات اپنے بھائی نوازشریف کی نسبت بہتر ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ گو اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ فوج پس منظر میں رہ کر مسلم لیگ (ن) کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی منظر نامہ بہت پیچیدہ ہے اور ہمیں مفروضے قائم کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہیے۔

سوال4 : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حالات قابو سے باہر ہونے کی صورت میں فوج پاکستان کی جمہوری قوتوں کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کرے گی؟

مائیکل کوگلمین: یہ قرین قیاس نہیں۔ واحد منظر نامہ جو فوج کی مداخلت کا جواز پیدا کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک معلق مقننہ حکومت سازی میں بری طرح ناکام ہو جائے اور سیاسی بحران ایک لمبے عرصہ تک قائم رہے اور بالاخر لانیحل ہو جائے۔ اس صورت حال میں فوج اقتدار پر یہ کہتے ہوئے قبضہ کر سکتی ہے کہ وہ ایسا ملک کے فائدے میں کر رہی ہے۔ دوسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سادہ اکثریت حاصل کر لے اور پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھر دھاندلی کا نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جس کے نتیجے میں، ایک لمبے عرصہ کے لیےپرتشدد سیاسی فضا قائم ہو جائے۔ ایسی صوت حال میں فوج مداخلت کر سکتی ہے۔

لیکن میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا دونوں منظرنامے قرین قیاس نہیں۔ پاکستان میں جمہوریت اس قدر مضبوط ضرور ہو چکی ہے کہ فوج کی مداخلت آسان نہیں رہی۔ جس طرح گزشتہ دہائی میں پاکستان میں جمہوری عمل پرامن اور ہموار رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے میں پرامید ہوں اور سمجھتا ہوں کہ مستقبل قریب میں فوج کی جانب سے مداخلت کے حوالے سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسا نہیں کہ سولین لیڈروں اور فوجی اداروں میں اختلافات نہیں ہوں گے، یقینا” ہوں گے لیکن فوج کی جانب سے عملی طور پر اقتدار پر قبضہ کر لینے کا خیال خاصا بعید از قیاس ہے۔

سوال5 : کیا پاکستان ایک اور مارشل لاء کا متحمل ہو سکتا ہے؟

مائیکل کوگلمین: دیکھیں، پاکستان نے گزشتہ مارشل لاء ادوار کو سہہ لیا تو اس مرتبہ بھی وہ اسے برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن یہ جمہوریت کے لیے تباہ کن دھچکہ ہو گا۔ ایک ادارے کے طور پر پاکستانی جمہوریت نے ماضی قریب میں بہت سی کامیابیاں دیکھی ہیں جیسا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی اور اختیارات کی عدم مرکزیت کے قوانین۔ تاہم، پاکستان میں جمہوریت ابھی تک کمزور ہی ہے جیسا کہ حال ہی میں میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر کریک ڈاؤن سے ظاہر ہوتا ہے۔

ایک اور مارشل لاء پاکستانی جمہوریت کی مذکورہ بالا کامیابیوں کو ضائع کر دے گا اور دنیا میں جمہوریت کے حوالے سے ایک بری مثال قائم کرے گا۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ خراب ہو گی اور بیرونی سرمایہ کاری سمیت معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سوال6 : آپ کے خیال میں آئندہ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا کردار کیا ہو گا؟

مائیکل کوگلمین: پاکستان کی مذہبی جماعتیں انتخابی سیاست سے ذیادہ احتجاجی سیاست میں مہارت رکھتی ہیں۔ لہذا میں آئندہ انتخابات میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتا۔ اس مرتبہ جو بات مختلف ہے وہ یہ ہے کہ لشکر طیبہ سمیت کئی انتہا پسند اور تشدد پسند گروہ سامنے آئے ہیں۔ یہ ریاست کی جانب سے ان گروہوں کو، تشدد سے دور کرنے کے لیے، مرکزی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

اگرچہ میں کسی مذہبی جماعت کو قابل ذکر ووٹ حاصل کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہا لیکن یہ جماعتیں دونوں بڑی جماعتوں کے ووٹ خراب کر سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) دونوں قدامت پسند خیالات کی مالک ہیں اور پنجاب جیسے اہم صوبے میں، ان دونوں جماعتوں کے انتہائی قدامت پرست ووٹروں کا جھکاؤ ان مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب ہو سکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ جماعتیں چند نشستیں جیت کر بھی ملک میں پہلے سے موجود مذہبی انتہا پسندی کے ماحول کو مزید تقویت دے سکتی ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے سے انکے انتہا پسند نظریات کو معاشرے میں ایک نئی قبولیت مل سکتی ہے۔

سوال 8 : کیا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے برسراقتدار آنے والی حکومت مستحکم ہو گی؟

مائیکل کوگلمین: یہ سچ ہے کہ ایک فوج مخالف حکومت کی بجائے فوج کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی حامل حکومت کو اندرون ملک کم مشکلات کا سامنا ہو گا۔ اگر سن 2008 سے سن 2013 تک آصف علی زرداری بطور صدر اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہے تھے تو اسکی وجہ شاید یہی تھی کہ انہوں نے فوج سے محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ فوج کے ساتھ نسبتا” خوشگوار تعلقات کی حامل پی ٹی آئی اگر اقتدار میں آتی ہے تو اسے اس بات کا خدشہ نہیں ہوگا کہ کوئی اسکی حکومت کو گرا دے گا۔ لیکن یہ معاملہ اس قدر سادہ نہیں۔ گو ان کے فوج کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن میرے خیال میں عمران خان کا وزیراعظم بن جانا فوج کے لیے کچھ زیادہ خوش کن نہیں ہو گا۔ 2014 ء میں حکومت مخالف تحریک کے دوران انکے بعض بیانات خصوصا” آرمی پبلک سکول کے اندوہناک واقعے کے بعد بھی طالبان سے مذاکرات پر اصرار فوج کو یاد ہو گا اور ممکن ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خان کو ایک طابع فرمان حلیف کی بجائے ناقابل اعتبار اور بے جا طور پرغصیلا شخص سمجھتی ہو۔

سوال9 : پاکستان کے ہمسائے بھارت اور افغانستان، کون سی حکومت کو خوش آمدید کہیں گے؟

مائیکل کوگلمین: کابل اور دہلی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پسند کرتے تھے، جس نے کم از کم ابتدا میں فوج کی جانب سے عملی مخالفت سے پہلے، ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے ارادے کا واضح اظہار کیا اور اس حوالے سے کوشش بھی کی۔ لیکن یہ دونوں حکومتیں، امریکا اور دیگرعالمی قوتوں کی طرح، بخوبی آگاہ ہیں کہ خارجہ تعلقات کے حوالے سے فیصلہ کن طاقت فوج کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا، جمہوری حکومت کوئی بھی ہو، بھارت اور افغانستان کی حکومتیں اس وقت تک پریشان رہیں گی جب تک ان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کی حمایتی فوج کے پاس طاقت ہے۔

نئی دہلی اور کابل کے لیے یہ بات اہم ہو گی کہ فوج کی طرف سے علاقائی تعلقات کے حوالے سے کیسے اشارے ملتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے یہ امید رکھنا غلط نہیں کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی توقع ہے جہاں حال ہی میں پاکستان کے فوجی سربراہ نے دورہ کیا ہے تاہم بھارت کے ساتھ تعلقات میں جمود قائم رہے گا۔ ان دونوں ملکوں میں آئندہ برس انتخابات ہونا ہیں اور نئی حکومتوں سے پتہ چلے گا کہ پاکستانی فوج ان کے بارے میں کن خیالات کی حامل ہے۔

سوال10 : امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں میں پاکستان کے آئندہ سیاسی سیٹ اپ کے حوالے سے کیا خدشات ہیں؟

مائیکل کوگلمین: مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مغرب ایک ایسی حکومت چاہتا ہے جو مستحکم ہو اور جسکے ساتھ وہ کام کر سکے۔ اس میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔ مثال کے طور پر جہاں پی ٹی آئی کی نسبت مسلم لیگ (ن) کی حکومت مغربی ملکوں کے لیے ذیادہ قابل قبول ہو گی وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کی حکومت نسبتا” کم مستحکم ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج کا غلبہ قائم رہے گا۔ پاکستانی فوج کی بعض پالیسیاں، مثال کے طور پر افغانستان اور بھارت میں حملے کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت، مغرب کے لیے پریشان کن ہے۔ لیکن آئندہ حکومت سے قطع نظر، پاکستان کا اندرونی عدم استحکام مغرب کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ رہے گا۔

سے حاصل کیا گیا ہے، مضمون کو بنا کسی تبدیلی کے شیہ کیا گیا ہے، تیسری جنگ کا اسے کوئی تعلق نہیں ہے dw.com نوٹ : یہ مضمون