’ پاکستان کی وجہ سے ہم سب سے خراب ہونے سے بچ گئے‘

انڈیا میں بہت سے مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور یہ ہی شکایت بہت سے ہندوؤں کو بھی ہے۔

ان میں گری راج کشور بھی شامل ہیں، بس فرق یہ ہے کہ وہ ک وئی عام آدمی نہیں، طاقتور وفاقی وزیر ہیں جو اکثر مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔

ان کا تعلق بہار سے ہے جہاں ہندوؤں کے تیوہار ‘رام نومی’ کے موقع پر گذشتہ برس کافی مذہبی کشیدگی ہوئی تھی اور اس سلسلے میں کئی مقدمے قائم کیے گئے تھے۔

مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں کچھ ہندوؤں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے رہنما بھی شامل ہیں۔ یہ تنظیمیں حکمراں بی جے پی سے نظریاتی مماثلت رکھتی ہیں۔

اس لیے گری راج کشور ان لوگوں سے ملنے جیل بھی گئے اور اس کا ٹوئٹر پر اعلان بھی کیا۔ اور پھر ان لوگوں کی ضمانت پر رہائی کے بعد ان کے گھر بھی گئے اور ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ کیا ہندوؤں کو دبانا ہی سیکولرزم ہے؟

بس مسئلہ یہ ہے کہ ریاست میں خود ان کی پارٹی بی جے پی حکمراں اتحاد میں شامل ہے اور وہ خود وفاقی حکومت میں شامل ہیں۔

سیکولرزم ہو یا نہ ہو، ہندوؤں (یا کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں) کو نہیں دبایا جانا چاہیے اور اگر دبایا جا رہا ہے تو حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر نہیں کرتی تو حکومت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

بہار میں بی جے پی اور وزیر اعلی نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی مخلوط حکومت ہے۔

جے ڈی یو نے مسٹر گری راج کشور کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ ذمہ داری کے عہدوں پر بیٹھے ہوں، انھیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے معاشرے میں کشیدگی پیدا ہو۔ چاہے وہ مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والوں سے ملاقات ہو یا پھر قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرموں کو پھولوں کے ہار پہنانا۔

ان کا اشارہ ایک اور وفاقی وزیر جینت سنہا کی جانب تھا۔ مسٹر سنہا نے گئو کشی کے نام پر ایک مسلمان کے قتل کے مجرمان کی ضمانت پر رہائی کے بعد انھیں پھولوں کی مالائیں پہنائی تھیں اور ان کے ساتھ ایک تصویر بھی کھنچوائی تھی جو اب وائرل ہوگئی ہے۔

ان لوگوں کو ذیلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی جس پر روک لگاتے ہوئے ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد سے جینت سنہا کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور ان سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہار پہنا کر وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

خود جینت سنہا کے والد اور سابق وفاقی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے ٹوئٹر پر کہا کہ پہلے وہ ‘ایک لائق بیٹے کے نالائق باپ تھے۔۔۔اب اس کا الٹ ہو گیا ہے۔۔۔’

انڈیا میں کس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور کون کر رہا ہے، یہ بحث تو پرانی ہے لیکن جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اس بحث کا محور بدل گیا ہے۔ اور عام طور پر یہ تسلیم کیاجاتا ہے کہ ملک میں عدم رواداری بڑھی ہے۔

تقریباً یہی بات نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے بھی اتوار کے روز کہی۔ وہ اپنی کتاب ‘ہندوستان اور اس کے تضادات’ کے لانچ کے موقع پر بول رہے تھے۔

مسٹر سین نے کہا کہ سنہ 2014 کے بعد انڈیا نے غلط سمت میں بڑی چھلانگ لگائی ہے اور دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معشت ہونے کے باوجود وہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔

مسٹرسین اکثر بی جے پی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’20 سال پہلے خطے کے چھ ملکوں میں انڈیا (سری لنکا کے بعد) دوسرا بہترین ملک تھا۔۔۔ اب (پاکستان کے بعد) دوسرا سب سے خراب ملک ہے۔۔۔صرف پاکستان کی وجہ سے ہم سب سے خراب ہونے سے بچ گئے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘آزادی کی لڑائی کے دوران یہ سوچنا بھی مشکل تھا کہ ہندو شناخت کا کارڈ کھیل کر کوئی سیاسی جنگ جیتی جاسکتی ہے۔۔۔لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔’

==============
سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی