امریکا ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جواد ظریف

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا، ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف نفسیاتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ تہران حکومت کے مطابق جوہری معاہدے سے انخلاء کے فیصلے نے امریکا کو نقصان پہنچایا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ،’’امریکا نے ایران اور اس کے کاروباری شراکت کاروں کے خلاف نفسیاتی جنگ کرنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔‘‘

سن 2015 میں امریکا اور بعض دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان ہوئے جوہری معاہدے سے امریکا نے رواں برس مئی میں علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ دوسری جانب اس جوہری ڈیل کے دیگر فریق اس معاہدے کو چانے کی کوشش میں ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی اسنا نے ظریف کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جوہری ڈیل سے باہر نکلنے کے امریکی فیصلے نے خود واشنگٹن حکومت ہی کو نقصان پہنچایا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے بقول،’’جوہری معاہدے سے انخلاء کے وقت سے اب تک امریکا اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکا ہے۔‘‘

واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کا خاتمہ کرے اور شام اور عراق میں عسکری گروپوں کی حمایت بھی بند کرے۔

ظریف نے یہ بھی کہا کہ عالمی جوہری ڈیل نے ایران میں داخلی طور پر بھی سیاسی تنازعے کو جنم دیا ہے۔

امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران میں بعض سخت گیر موقف رکھنے والے نقادوں نے ایرانی صدر حسن روحانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ڈیل ’مشروط اطاعت‘ کے مترادف تھی۔