امریکا شام کے خلاف غیر قانونی جارحیت سے باز رہے، روس

روس نے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شام میں کسی قسم کی غیر قانونی جارحیت سے باز رہے۔ ماسکو حکومت کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن شام میں نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکا میں تعینات روسی سفیر ایناتولی اینتونوف نے رواں ہفتے امریکی حکام کو بتایا کہ ماسکو حکومت کو اس طرح کی علامات پر شدید تحفظات ہیں کہ امریکا شام میں نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اینتونوف نے واشنگٹن کو ’’شام کے خلاف بے بنیاد اور غیر قانونی جارحیت‘‘ سے خبردار بھی کیا۔

واشنگٹن میں موجود روسی سفارت خانے نے اپنے فیس بُک پر لکھا ہے کہ ایناتولی اینتونوف نے رواں ہفتے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں شام کے لیے خصوصی امریکی نمائندے جیمز جیفری بھی شامل تھے۔

شامی حکومتی فورسز ان دنوں ملک کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بدھ 29 اگست کو یہ بات دمشق حکومت کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتائی تھی۔ خیال رہے کہ ادلب شام میں باغیوں کا آخری مضبوط ٹھکانہ ہے۔ شامی حکومت کو امید ہے کہ اگر یہاں سے باغیوں کا صفایا کر دیا گیا تو شام میں گزشتہ قریب سات برس سے جاری خانہ جنگی کا اختتام ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق فوجی کارروائی کا آغاز صوبہ ادلب کے جنوبی اور مغربی حصوں سے کیا جائے گا لیکن ادلب شہر کو فی الحال نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

ان حالات میں اس بات کے امکانات اور خدشات سامنے آئے ہیں کہ امریکی اتحادی فورسز شامی حکومتی فورسز کو اس طرح کی کسی کارروائی کو روکنے کے لیے حملے کا نشانہ بنا سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں روسی سفارت کار کی طرف سے واشنگٹن حکومت کے لیے یہ انتباہ سامنے آیا ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے بھی بدھ 29 اگست کو خبردار کیا کہ ادلب میں ایک بڑی فوجی کارروائی اس خطے میں ’’انسانی حوالے سے المیے‘‘ کو جنم دے سکتی ہے۔ گوٹیرش نے اس خطرے سے بھی خبردار کیا کہ ایسی کسی کارروائی کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نا قابل برداشت ہو گا