جرمن شہر ویزباڈن سے ترک صدر کا مجسمہ ہٹا دیا گیا

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا جرمن شہر ویزباڈن میں نصب کیا گیا مجسمہ ہٹا دیا گیا ہے۔ اس چار میٹر بلند مجسمے کی تنصیب ایک آرٹ نمائش کے سلسلے میں کی گئی تھی اور منتظمین کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ مجسمہ صدر ایردوآن کا ہونا تھا۔

وفاقی جرمن صوبے ہیسے کے دارالحکومت ویزباڈن سے بدھ انتیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ویزباڈن شہر کے ایک مرکزی علاقے، جرمن یونٹی اسکوائر میں نصب کردہ یہ مجسمہ چار میٹر یا 13 فٹ بلند تھا اور اسے وہاں پر اسی شہر میں ہر دو سال بعد ہونے والی ایک بین الاقوامی آرٹ نمائش کے سلسلے میں لگایا گیا تھا۔

لیکن غیر معمولی بات یہ تھی کہ شہری انتظامیہ اور آرٹ میلے کے منتظمین کو خبر ہی نہیں تھی کہ انہوں نے جرمن یونٹی اسکوائر میں جس مجسمے کی عبوری تنصیب کی منظوری دی تھی، وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا مجسمہ تھا۔

سہنری رنگ کا یہ مجسمہ ویزباڈن میں پیر ستائیس اگست کو نصب کیا گیا تھا اور اس پر اس شہر میں اور، جرمنی میں جہاں جہاں اس کی تنصیب کی خبر پہنچی تھی، ہر کوئی حیران تھا کہ یہ مجسمہ اچانک کہاں سے آ گیا اور اسے کیوں نصب کیا گیا تھا۔

ڈی پی اے کے مطابق اس بارے میں عوامی شکایات اور شہری انتظامیہ کو بہت سے شہریوں کی طرف سے کی گئی ٹیلی فون کالوں کے بعد منگل اٹھائیس اگست کی شام ویزباڈن میں مقامی فائر بریگیڈ کے محکمے کے اہلکاروں نے یہ مجسمہ وہاں سے ہٹا دیا۔

بریگیڈ کے محکمے کے اہلکاروں نے یہ مجسمہ وہاں سے ہٹا دیا۔

اس بارے میں ویزباڈن کی شہری انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا کہ یہ مجسمہ مقامی حکومت کو بتائے بغیر نصب کیا گیا تھا اور ایسا کرنا اچھی بات نہیں تھی۔ ’’اسی لیے اب اس مجسمے کو ہٹا دیا گیا ہے۔‘‘

یہ مجسمہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں ترک صدر ایردوآن اپنا دایاں ہاتھ ہوا میں بلند کیے ہوئے شہادت کی انگلی سے ایک طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کسی مجسمے کا وہی انداز ہے، جیسا عراق میں ماضی کے حکمران صدام حسین کے اس مجسمے کی صورت میں بھی دیکھا جا سکتا تھا، جسے عراق میں فوجی مداخلت کے بعد امریکی دستوں نے 2003ء میں منہدم کر دیا تھا۔

ویزباڈن کے جرمن یونٹی اسکوائر سے ہٹائے جانے سے پہلے ترک صدر کے اس مجسمے پر نامعلوم افراد کی طرف سے متعدد کلمات بھی لکھے دیے گئے تھے۔

شہری انتظامیہ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ مجسمہ شہر میں آرٹ کی جس بین الاقوامی نمائش کے ایک حصے کے طور پر نصب کیا گیا تھا، وہ ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے اور اس مرتبہ اس نمائش کا موضوع ’بیڈ نیوز‘ یا ’بری خبریں‘ ہیں۔

جرمنی اور ترکی کے مابین اس وقت کئی مختلف وجوہات کے باعث سفارتی کھچاؤ پایا جاتا ہے۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترک صدر ایردوآن اگلے ماہ جرمنی کا ایک سرکاری دورہ بھی کرنے والے ہیں۔

بہت سے جرمن شہری ترک سربراہ مملکت کے سیاسی نظریات سے اتفاق نہیں کرتے اور اس بات سے بھی نہیں کہ رجب طیب ایردوآن جرمنی میں مقیم لاکھوں ترک باشندوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے ایک رہنما اور ترک نژاد جرمن برادری کی معروف ترین سیاسی شخصیت چیم اوئزدیمیر نے ابھی گزشتہ ماہ ہی کہا تھا کہ ترک صدر ایردوآن نے اپنے ملک کو ’ایک طرح کا ترکمانستان یا آذربائیجان بنا دیا ہے، جہاں سنسرشپ ہے، اقربا پروری بھی، اور خود پسندانہ طرز سیاست بھی۔‘‘