حجاج کرام کو حج مبارک ہو، اخلاص کو اپنی پہچان بنائیں، امام حرم

مکہ مکرمہ…. مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے فرزندان اسلام سے کہا ہے کہ وہ غفلت شعاری ختم کریں، اچھی بات غور سے سنیں اور اس پر عمل کریں۔ خوش قسمت وہ ہے جو توبہ کرنے کے بعد سچی پکی زندگی گزارے۔ کامیاب وہ ہے جو گناہوں کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دے۔ وہ حج 1439ھ سے فراغت کے بعد آنے والے پہلے جمعہ کے موقع پر لاکھوں حجاج کرام کو خطبہ دے رہے تھے۔ امام حرم نے ضیوف الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ حضرات حج کے کام انجام دے چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے ہمارا حج قبول فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرمائے اوراعمال صالح پر اجر سے نوازے۔ تمام حجاج کو ان کے وطن اور اہل و عیال کے پاس بسلامت واپس لے جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے حال و مستقبل کو دین اسلام پرقائم دائم رکھے۔ آپ لوگو ں نے یہاں ارض مقدس میں اپنی زندگی کے مبارک ایام گزارے۔ یہاں رہ کر آپ نے عبادت کی، اچھے کام کئے، اپنے رب سے گناہوں کی مغفرت کے امیدوار ہوئے، اللہ تعالیٰ سے اپنے سفرحج کی قبولیت کے آرزو مند بنے۔ امام حرم نے کہا کہ اہل اسلام کو سب سے زیادہ جس بات کی فکر کرنی ہوگی وہ خدا ترسی کا حصول ہے۔ خدا ترسی کی نعمت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک دلوں کی آلودگی دور نہ ہو اوردل پاک صاف نہ ہوں۔ دلوں کی صفائی پر ہی انسان کے اعضاءو جوارح کار خیر کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ دل کی اصلاح پر انسان کے تمام اعمال کی بہتری کا دارومدار ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ا رشاد گرامی کا مفہو م یہی ہے کہ انسان کے جسم میں ا یک ایسا لوتھڑا ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہوجائے تو اسکا پورا جسم ٹھیک ہوجائے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو اسکا پورا جسم خراب ہوجائے، وہ لوتھڑا دل کے سوا کچھ نہیں۔ امام حرم نے کہاکہ دل کی اصلاح کی اساس اخلاص ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ ”اے اللہ! مجھے ایسے حج کی توفیق عطا فرما جو ریا کاری اور شہرت طلبی سے پاک ہو۔ اخلاص، دین کا جوہر ہے ۔ انبیاءکرام علیہ السلام کی دعوتی تحریکوں کا ماحصل ہے، اخلاص خلوص سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل ہر طرح کے مشرکانہ تصورات کی آلودگی سے پاک ہو۔ اس کا ہر عمل اس کی ہر سوچ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ امام حرم نے بتایا کہ اخلاق کی پہچان یہ ہے کہ انسان کار خیر کو صیغہ راز میں رکھے۔ سلف صالحین کہہ چکے ہیں کہ مخلص انسان وہ ہوتا ہے جس میں ریا کاری کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ الصادق وہ ہوتا ہے جسے اپنے کئے پر کوئی غرور نہیں ہوتا۔ اخلاص صدق کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور صدق اخلاص کے بغیر نا مکمل رہتا ہے اوریہ دونوں صبر کے بغیر ناتمام رہتے ہیں۔ امام حرم نے کہا کہ اخلاص کی بدولت انسان کا اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے۔ بعض اوقات کام معمولی ہوتا ہے لیکن مکمل اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے اسکی وجہ سے اسکا اجر عظیم ہوتا ہے۔ امام حرم نے اس حوالے سے احادیث مبارکہ میں مذکور اخلاص کے نمائندہ واقعات کا سرسری تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کو پیاسے کتے کو پانی پلانے پر معاف کردیا تھا،یہ منحرف خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اخلاص پر اس کی مغفرت کردی تھی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس انسان کی مغفرت کر دی جس نے راستے میں پڑی ہوئی کانٹے دار شاخ ہٹا دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے غار میں بند ہوجانے والے ان 3 نوجوانوں کی مشکل آسان کردی تھی جنہوں نے اپنے طور پر چھوٹے چھوٹے اچھے کام نیک نیتی سے کئے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک ایسے انسان کی قیامت کے روز مغفرت کرے گا جس کے گناہوں کے 99رجسٹر ہونگے اور 100ویں رجسٹر میں صرف کلمہ شہاد ت و نبوت ہوگا۔ یہ سب نیک نیتی اورخلو ص دل کا ثمر ہوگا۔ امام حرم نے کہا کہ خالص توحید کی بدولت اخلاص کی نعمت نصیب ہوتی ہے۔ رات کے آخری پہر کثرت سے عبادت، ذکر و فکر ، خفیہ طریقے سے صدقہ و خیرات، گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں، مخلص نیک بندوں کی صحبت اور تنہائی میں عبادت سے اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جن بندوںکو نوازنا چاہتاہے انہیں نیک نیتی کی نعمت سے نواز دیتا ہے۔ ایسے لوگ جو اخلاص کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں اللہ تعالیٰ انکے اٹھنے بیٹھنے، جاگنے سونے ، سفر حضر ، خرید و فروخت سمیت ان کے ہر عمل کو عبادت کا درجہ دیدیتا ہے۔ امام حرم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سعودی عرب کو امن و امان اور بہترین قیادت عطا کررکھی ہے۔ مملکت اور اس کے قائدین نے حجاج کرام کو شاندار خدمات فراہم کیں۔ یہاں حرمین شریفین اور مشاعر مقدسہ کے توسیعی منصوبوںکی اہمیت و افادیت کا پورا جہا ن معترف ہے۔ سرکاری و نجی ادارے ہر سال حجاج ، معتمرین اور زائرین کی خدمت بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کو روبعمل لاتے ہوئے ہر ادارہ او ر ہر فرد ضیوف الرحمن کی خدمت بڑھ چڑھ کر کرتا ہے۔دوسری جانب مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ عبداللہ البعیجان نے حجاج کرام کو حج کے تمام کام مکمل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے حج کی قبولیت کی دعا بھی کی۔ البعیجان نے مسجد نبوی شریف کے زائرین کو جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ حجاج بیت اللہ کو خانہ خدا کا حج مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو حج سے نوازا ۔ حج کے اعمال کی ادائیگی میں سہولت عطا کی۔ بہت سارے لوگوں پر آپ کو ترجیح دی۔ اسلام کے پانچویں رکن کیلئے آپ نے لبیک کہا۔ آپ لوگوں نے دولت، وقت ، محنت اور جذبات کا خزانہ لٹایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر قربانی پر آپ کو بہترین اجر سے نوازے۔ البعیجان نے کہا کہ اب حجاج کرام مقامات مقدسہ کو الوداع کہنے لگے ہیں۔ یہ لوگ زبان حال سے گویا ہیں کہ ہم اپنے رب کی حمد و ثناءکرتے ہوئے توبہ و مغفرت کی درخواستیں پیش کرکے اپنے وطن اور اہل و عیال کے پاس واپس جارہے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے وطن اس طرح سے واپس ہوں گویاکہ انکی ماں نے ابھی جنم دیا ہو۔ وہ پاک و صاف ہوں۔ البعیجان نے کہا کہ حجاج کرام دنیا کے ہر دور دراز علاقے سے اپنے دنیاوی و دنیوی مفادات دیکھنے کیلئے یہاں آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف بولیوں، رنگوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والوں کو یہاں مشاعر مقدسہ میں جمع کیا۔ اسلام نے ان سب کا پراگندہ شیرازہ یہاں اکٹھا کیا۔ یہاں حجاج نے ایک قبلے ، ایک عمل، ایک لباس ، ایک ترانے او ر ایک دعا کے ساتھ یہاں اپنا انمول وقت گزارا۔ حج عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے عبرت ہے، نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت کا ذریعہ ہے۔ اس سے انسان کے اندر تابعداری کا جذبہ برپا ہوتا ہے۔ حج اللہ سے قریب کرتا ہے۔ حجاج حج قوانین و ضوابط اور سعودی عرب کی جاری کردہ ہدایات کی پابندی کرتے ہوئے امن و امان کو یقینی بنائیں۔