فلسطينی اسرائيلی تنازعے کے حل کے ليے عنقريب نئی تجويز متوقع

مشرق وسطیٰ ميں قيام امن کے ليے جیرڈ کشنر آئندہ ماہ ایک نئی حکمت عملی پيش کرنے والے ہيں۔ تاہم ماہرين کا کہنا ہے کہ نئی تجويز ميں کوئی نئی بات نہيں ہو گی۔

مشرق وسطیٰ کے تنازعے پر نظر رکھنے والے سفارت کاروں اور مبصرين کے ليے ڈونلڈ ٹرمپ کا اقتدار ميں آنا پريشان کن تھا۔ امريکی صدر ٹرمپ نے اسرائيلی فلسطينی تنازعے کا حل تلاش کرنے کی ذمہ داری اپنے داماد جیرڈ کشنر کو دی۔ کشنر کے اسرائيل ميں دائيں بازو کی قوتوں کے ساتھ گہرے روابط ہيں اور وہ خارجہ پاليسی ميں بھی کوئی خاطر خواہ تجربہ نہيں رکھتے۔ ابتداء ميں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’سب کچھ ٹھيک ہی ہو گا‘۔ پھر صدر ٹرمپ نے اسرائيل کے ليے امريکی سفير کے طور پر ڈيوڈ فريڈمين کو نامزد کيا، جو مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے ميں اسرائيل کی جانب سے آبادکاری کی پاليسی کے حامی ہيں۔

پچھلے ڈيڑھ سال ميں ان فيصلوں کے کئی اثرات سامنے آئے، جن میں مشرق وسطیٰ کے ليے امريکی پاليسی ميں واضح تبديلياں اور فلسطينيوں اور اسرائيلی فوج کے مابين مسلح تصادم کے متعدد واقعات بھی شامل ہیں۔ اب اطلاعات ہيں کہ جیرڈ کشنر کی جانب سے اس عشروں پرانے اور بہت پيچيدہ تنازعے کے حل کے ليے ستمبر ميں کوئی نیا منصوبہ يا تجويز سامنے آنے والی ہے۔ سابق امريکی صدر باراک اوباما کے دور ميں يمن کے ليے امريکی سفير اور اس وقت واشنگٹن کے ’مڈل ايسٹ انسٹيٹيوٹ‘ سے وابستہ جيرالڈ فائراسٹائن کے مطابق افواہيں ہے کہ کچھ سامنے آنے والا ہے مگر يہ کوئی جامع منصوبہ نہيں ہو گا۔ ان کے بقول قوی امکانات ہيں کہ تجويز ميں ابتدائی حکمت عملی يا پھر غزہ پٹی کے علاقے میں انسانی ہمدردی کی بنياد پر امداد کے حوالے سے چند نکات شامل ہوں گے۔

ماہرين کا کہنا ہے کہ جیرڈ کشنر کے اس منصوبے ميں فلسطينيوں کے ليے امداد شامل ہو گی، جس کا مقصد غزہ پٹی ميں استحکام ہو گا اور يہ بھی کہ فلسطينيوں کی اقتصادی سرگرميوں ميں اضافہ ہو سکے تاکہ وہ اس علاقے کا بنيادی ڈھانچہ بہتر بنا سکيں۔ لیکن شرط يہ ہو گی کہ وہ چند معاملات پر سمجھوتہ کر ليں۔ سب سے بڑا معاملہ فلسطينيوں کے واپسی کے حق کا ہے۔ فلسطینیوں کا موقف ہے کہ دنيا بھر ميں مختلف مقامات پر رہائش پذير فلسطينی مستقبل ميں اپنی باقاعدہ رياست کے قيام کے بعد واپس آ سکيں گے۔ اسرائيل اسے مسترد کرتا ہے کيونکہ اسرائيلی حکام کا کہنا ہے کہ ان ميں سے بہت سے ایسے فلسطینی بھی ہيں، جو سن 1948 ميں اسرائيل کے وجود ميں آنے کے وقت وہاں سے چلے گئے تھے اور يوں ان کا اس خطے سے کوئی تعلق نہيں۔ علاوہ ازيں اسرائيلی حکومت اس معاملے کی مخالفت اس ليے بھی کرتی ہے کہ کئی ملين فلسطينيوں کی واپسی کی ممکنہ صورت ميں خطے ميں يہودی اکثريت خطرے ميں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ کشنر کی تجويز ميں فلسطينيوں سے يہ حق واپس لینے کی کوشش کی جائے اور اسے ديگر معاملات ميں سودے بازی کے ليے استعمال کیا جائے۔

فائراسٹائن کا کہنا ہے، ’’يہاں حکمت عملی يہ نظر آتی ہے کہ امريکا يہ کہتا ہے کہ ہم اسرائيلی حکومت کی حمايت کريں گے اور يہ بات منوانے ميں مدد فراہم کريں گے کہ خطے ميں پناہ گزينوں کا کوئی مسئلہ نہيں اور نہ ہی دو رياستی حل کا کوئی امکان ہے اور پھر فلسطينيوں کو خريد ليا جائے۔‘‘ فائراسٹائن کے بقول اس مقصد کے حصول کے امکانات کچھ زيادہ نہيں۔

’مڈل ايسٹ انسٹيٹيوٹ‘ سے وابستہ جيرالڈ فائراسٹائن کے بقول ايسا معلوم ہوتا ہے کہ جیرڈ کشنر اسرائيلی فلسطينی تنازعے اور اس خطے کی تاريخ کو بالکل نہيں سمجھتے۔ اسی ليے وہ اس مسئلے کا حل ايک ايسے نقطہ نظر سے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہيں، جو واضح طور پر اسرائيل کی جانب زيادہ جھکاؤ والا موقف ہے اور کشنر نے فلسطينیوں کے موقف کو سمجھنے کی بظاہر زيادہ کوشش بھی نہيں کی۔

پچھلے سال دسمبر ميں جب صدر ٹرمپ نے يہ اعلان کيا تھا کہ امريکی سفارت خانہ تل ابيب سے يروشلم منتقل کر ديا جائے گا اور يہ کہ واشنگٹن يروشلم کو اسرائيل کا دارالحکومت تسليم کرتا ہے، تو اس وقت فلسطينيوں کو يہ يقين ہو گيا تھا کہ امريکا فلسطينيوں کے ساتھ ’ايمان دار‘ تھا ہی نہيں۔

جیرڈ کشنر کا آئندہ ماہ سامنے آنے والا منصوبہ جو بھی ہو، ماہرين کا کہنا ہے کہ اس ميں کچھ نيا نہيں ہو گا اور يہ بھی کہ ايسا سمجھنا کہ کوئی مجوزہ منصوبہ اس عشروں پرانے مسئلے کو یکدم حل کر دے گا، یہ بھی جادو پر يقين رکھنے کے مترادف ہو گا۔