فیس بک کی اب ’صارفین کے بینک ڈیٹا کے حصول‘ کی کوشش

سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک اب اپنے صارفین کے ’بینک ڈیٹا‘ کے حصول کی کوششوں میں ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس کمپنی نے کئی بڑے بڑے امریکی بینکوں سے ان کے صارفین سے متعلق حساس مالیاتی معلومات حاصل کرنے کے لیے رابطے کیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ امریکا میں کئی اہم مالیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ نے جے پی مورگن، سٹی بینک اور ویلز فارگو نامی کئی بڑے بڑے امریکی بینکوں سے اس لیے رابطے کیے کہ ممکنہ طور پر ان کے کھاتہ داروں سے متعلق اہم ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے پیر چھ اگست کے روز اپنی رپورٹوں میں لکھا کہ فیس بک کی خواہش ہے کہ اسے اپنے صارفین سے متعلق یہ معلومات حاصل ہو جائیں کہ وہ رقوم کی منتقلی کس طرح کرتے ہیں، ان کے بینک اکاؤنٹس میں کتنی رقوم جمع ہیں اور وہ روزمرہ زندگی میں زیادہ تر کہاں کہاں خریداری کرتے ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق ایسے ڈیٹا کو بڑے نپے تلے انداز میں کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے فیس بک انتظامیہ کی مبینہ طور پر خواہش یہ ہے کہ یوں وہ اپنے صارفین کو فیس بک میسنجر کے ذریعے نئی پیشہ ورانہ خدمات پیش کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ حد تک اپنے معمولات زندگی فیس بک کے ذریعے ہی انجام دینے کی ترغیب دے سکے۔

اس بارے میں سب سے پہلے رپورٹ شائع کرنے والے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو چند انتہائی باخبر اندرونی حلقوں نے بتایا کہ فیس بک کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے آن لائن پلیٹ فارم کو مالیاتی خدمات پیش کرنے کے لیے بھی استعمال کرے اور ساتھ ہی اسے آن لائن کاروبار کے ایک کامیاب پلیٹ فارم کے طور پر بھی ترویج دی جا سکے۔

دوسری طرف فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ فیس بک نے اس امر کی تردید تو نہیں کی کہ اس نے کئی بڑے بینکوں سے رابطے بھی کیے اور مذاکرات بھی۔ تاہم ساتھ ہی اس کمپنی کی طرف سے یہ بھی کہا گہا کہ بات صارفین کے حساس مالیاتی ڈیٹا کی نہیں تھی۔

فیس بک کی ایک خاتون ترجمان نے کہا کہ ان رابطوں کا مقصد یہ تھا کہ فیس بک میسنجر کے ذریعے صارفین کے ان کے بینکوں کے ساتھ رابطوں کو مزید آسان بنا دیا جائے۔ ترجمان کے مطابق، ’’ان رابطوں کا پس منظر یہ نظریہ تھا کہ صارفین کے لیے یہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے بینک کے کسی متعلقہ ملازم کے ساتھ چیٹ کر سکیں، بجائے اس کے کہ وہ ٹیلی فون کریں اور انہیں دیر تک انتظار کرنا پڑے۔‘‘

ساتھ ہی فیس بک نے یہ بھی کہا ہے کہ مختلف بینکوں اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں سے حاصل کیے گئے صارفین کے اس طرح کے ڈیٹا کو نہ تو کسی بھی طرح کے آن لائن اشتہارات کے لیے استعمال کیا جائے گا اور نہ ہی یہ ڈیٹا کسی تیسرے فرد یا ادارے کو مہیا کیا جائے گا۔

اس بارے میں امریکی بینک جے پی مورگن کی ایک ترجمان نے بتایا، ’’فیس بک کو کوئی ایسی معلومات مہیا نہیں کی جائیں گی کہ ہمارے صارفین نے کب کس کو کتنی رقوم کہاں منتقل کیں اور اسی وجہ سے ہمیں (فیس بک کو) چند معاملات میں انکار کرنا پڑا۔‘‘

عالمی سطح پر اس وقت فیس بک میسنجر سروس استعمال کرنے والے انسانوں کی تعداد 1.3 ارب بنتی ہے۔ فیس بک کو بین الاقوامی سطح پر اس اسکینڈل وجہ سے پہلے ہی شدید تنقید کا سامنا بھی رہا ہے کہ اس نے اپنے صارفین کے ڈیٹا کو ایسی معلومات کا تجزیہ کرنے والی کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا کے ذریعے آگے تک پہنچا دیا تھا۔

یہ اسکینڈل اس بارے میں تھا کہ فیس بک استعمال کرنے والے قریب 87 ملین افراد کا ڈیٹا کیمبرج اینالیٹیکا کے پاس پہنچ گیا تھا، اور اسے بلا اجازت 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن امیدوار (اب امریکی صدر) ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے فیس بک کو بہت اعلیٰ پیمانے پر تفتیش اور چھان بین کے کئی واقعات کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔