یہ کام بھی کوئئ آسان کام تھوڑی ہے

Zaib Nisa
==============
ہمارے ہاتھ میں اس کی لگام تھوڑی ہے
وہ ہمسفر ہے ہمارا غلام تھوڑی ہے

دئیے کی سمت ہوا نے تو یوں بھی آنا تھا
ہماری اس سے دعا وسلام تھوڑی ہے

ہم اپنے آپ سے ملتے ہیں تو، سنورتے ہیں
کسی کے واسطے یہ اہتمام تھوڑی ہے

یہ خواب آنکھ سے اک بار پھر جنم لیں گے
یہ انہدام کوئی انہدام تھوڑی ہے

خرید لایا ہےجو چائے بیچ کر شہرت
وہ ایک عام سا لڑکا بھی عام تھوڑی ہے

یہ ہم جو آنکھ میں دریا چھپا رہے ہیں افق
یہ کام بھی کوئئ آسان کام تھوڑی ہے

شمامہ افق