افغان خواتین کی بہبود کا امریکی پروگرام ناکامی سے دوچار

ماہرین کے مطابق افغانستان میں خواتین کی ترقی کے لیے امریکا کے فنڈ سے چلنے والا پروگرام ناکامی سے دو چار ہو رہا ہے۔ افغان سول سوسائٹی میں خواتین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

افغانستان کی تعمیر نو کی ذمہ دار اتھارٹی ’اسپیشل انسپکٹر جنرل فار ری کنسٹرکشن آف افغانستان‘ یا ’سگار‘ کی رپورٹ کے مطابق یو ایس ایڈ پروگرام کے تحت صرف پچپن خواتین ہی افغان حکومت میں نوکریاں حاصل کر سکیں۔ ہدف دو ہزار ایک سو خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنا تھا۔

یہ رپورٹ جمعرات کو شائع کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا ایک حصہ بارہ ہزار پانچ سو خواتین کو بہتر یا نئی نوکریاں فراہم کرنا تھا لیکن یو ایس ایڈ نے یہ تعداد کم کر کے ایک ہزار آٹھ سو چوبیس خواتین کو ہی مدد فراہم کی۔

اس پروگرام کو سن 2014 میں شروع کیا گیا تھا اور اس ایڈ پراجیکٹ میں امریکا کی جانب سے دو سو سولہ ملین ڈالر کا بجٹ فراہم کیا گیا تھا


یو ایس ایڈ کا کہنا ہے کہ یہ عالمی سطح پر خواتین کی بہبود کے لیے کی جانے والی سب سے بڑی امریکی سرمایہ کاری ہے۔ یہ پروگرام سن 2020 یا سن 2021 تک جاری رہے گا۔ قدامت پسندانہ سماجی رویوں، دفاتر میں ہراساں کیے جانا اور اچھی تعلیم تک رسائی نہ ہونا وہ عوامل ہیں جو افغان خواتین کو معاشرے میں بھر پور کردار ادا کرنے سے روکتے ہیں۔

رواں برس جون میں ہی بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس وقت تین اعشاریہ سات ملین افغان بچوں کا ساٹھ فیصد حصہ بچیوں پر مشتمل ہے جنہیں اسکول جانے کی سہولت میسر نہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے بے انتہا دباؤ کے باوجود افغانستان آج بھی خواتین کے لیے ایک انتہائی مشکل ملک ہے۔