اپوزیشن کا وسیع تر اتحاد بی جے پی کی خطرناک صف بند سیاست کو ناکام بنادے گا : ندیم جاوید

نئی دہلی  [یو این آئی] ہندوتو کے سماجی بیانئے کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوشش بی جے پی کو مہنگی پڑے گی ۔ اس استدلال کے ساتھ کانگریس کی کل ہند اقلیتی کمیٹی کے سربراہ ندیم جاوید نے آج امید ظاہر کی کہ کانگریس سمیت اپوزیشن کا وسیع تر اتحاد 2019 میں حکمراں پارٹی کی خطرناک صف بند سیاست کو ناکام بنادے گا ۔
یہاں نامہ نگاروں سے غیر رسمی بات چیت میں انہوں نے کہا کہ کثرت میں وحدت کےہندستانی سماجی مزاج کو منفی طور پر متاثر کرنے کی کوشش پہلے بھی ناکام بنائی جا چکی ہے اور اس مرتبہ تو سماج کے ایک سے زیادہ طبقات بالخصوص اقلیتوں ، دلتوں اور مراعات سے محروم دیگر حلقوں نے اندیشوں کو امکانات میں بدلے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔
کانگریس کے اندر نوجوانوں کی سطح پر قائدانہ صلاحیتوں کی اقلیتوں میں نشاندہی اور انتخاب کی سرگرم ذمہ داری اسی سال مئی میں سنبھالنے والے ندیم جاوید نے کہا کہ کانگریس کےصدر راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس 2019 کی انتخابی حکمت کو عملی شکل دینے میں مصروف ہے جو وسیع تر اپوزیشن اتحاد کو انتخابی کامیابی کی منزل تک لے جائے گی۔
دہلی یونیورسٹی کے انتخابات میں این ایس یو آئی کو اپنی قیادت میں تمام سیٹوں پر کامیاب بنانے والے مسٹر ندیم نے کہا کہ بہر حال کچھ ریاستوں میں اپوزیشن کے وسیع تر اتحاد کو آزمائش کا بھی سامنا ہے لیکن کل کے بھارت بند کے مجموعی اثرات سے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ جزوی رکاوٹوں پر بھی قابو پالیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے ووٹ کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں میں پہلے بھی بٹتے رہے جس کا اثر بھی ہردس سال بعد مرتب ہوتا آیا ہے لیکن اس مرتبہ اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو شدید تر اندیشے کا سامنا ہے اس لئے اس بار حکومت بیزار ووٹوں کے بٹنے کا خطرہ کم ہے اور سیکولر سیٹوں کی مناسب تقسیم بھی مرکز میں حکومت کی تبدیلی کو یقینی بنائے گی۔
کانگریس کو اپنے روایتی ووٹروں سے مزید مربوط کرنے کی کوشش کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں، سکھوں، جینیون، مسیحیوں اور دوسرے فرقوں کے ارتکاز والے علاقوں میں یاتراوں، مباحث والی مجلسوں اور پینٹنگ کے مقابلوں کا اہتمام کیا جائے گاجس میں پارٹی کے دیگر رہنمایان بھی حصہ لیں گے۔