بھگوان رام ‘امام ہند’ ۔ ہندوستانی اقدار کی علامت , جلد مندر بنا کر ہندو مسلم کا جھگڑا ختم کرو : موہن بھاگوت

نئی دہلی ۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر پر زور دیا اور کہاکہ رام مندر کوجلد سے جلد تعمیر کرکے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے کو ختم کردیا جائے۔ جب تک یہ مسئلہ رہیگا کشیدگی برقرار رہے گی۔ انہوں نے بھگوان رام کو ”امام ہند” قرار دیا اور کہا کہ رام نہ صرف ملک کے بعض افراد کیلئے بھگوان ہیں بلکہ یہ ہندوستانی اقدار کی نشانی بھی ہیں۔ سماج کے 11 طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام ان کی پوجا کرتے ہیں۔ ایک سنگھ ورکر کی حیثیت سے، سنگھ کی سربراہ کی حیثیت سے بلکہ رام جنم بھومی آندولن کے حصہ کے طور پر میں چاہتا ہوں کہ ایودھیا میں ایک عظیم الشان رام مندر تعمیر کیا جانا چاہئے۔ ہمیں جب تک خوشی حاصل نہیں ہوگی تاوقتیکہ رام مندر تعمیر کیا جائے۔ یہ مسئلہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑا کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ ایک مرتبہ مندر بنادیا جائے تو یہ جھگڑا ہی ختم ہوجائے گا۔ ملک کی مضبوط یکجہتی اور ثقافت کا معاملہ ہے۔ یہ ملک کے کروڑوں عوام کے عقیدہ کا مسئلہ بھی ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر مذاکرات کی بھی حمایت کی لیکن کہا کہ رام مندر کی تعمیر پر ہی یہ مسئلہ حل ہوگا۔ یہ حکومت کا اختیار تمیزی ہیکہ وہ رام مندر کی تعمیر کیلئے آرڈیننس جاری کرے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والا ہر شہری ہندو ہے۔ اس کی شناخت قومیت سے ہوگی۔ ہندوستانی سماج کے تمام طبقات کا احاطہ ہوتا ہے۔ آر ایس ایس کے تین روزہ کانکلیو کے اختتام پر موہن بھاگوت نے کئی تحریری سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کئی حساس مسائل پائے جاتے ہیں ان میں رام مندر، بین ذات پات شادیاں، تعلیمی پالیسی، خواتین کے خلاف جرائم اور گاؤرکھشکوں کی کارروائیاں بھی مسائل بنی ہوئی ہیں۔ آر ایس ایس سربراہ نے مزید کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے تعلق سے سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت جلد آنے کی توقع ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا 2 اکٹوبر کو سبکدوش ہورہے ہیں۔ انہوں نے مختلف طبقات کیلئے موجودہ کوٹہ سسٹم کی بھی پرزور حمایت کی اور کہا کہ اس مسئلہ پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ عوام بڑے پیمانے پر ہندوتوا کو قبول کررہے ہیں۔