سپریم کورٹ کا فرید آباد کانت انکلیو کے انہدام کا حکم

نئی دہلی،(یو این آئی) سپریم کورٹ نے ہریانہ کے فریدآباد میں اراولی پہاڑی علاقے میں غیر قانونی طور سے تعمیر شدہ کانت انکلیو کو 31 دسمبر تک پوری طرح منہدم کرنے کا منگل کو حکم دیا ہے۔
جسٹس مدن بلی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا کی خصوصی بنچ نے 18 اگست 1992 کے بعد غیر قانونی تعمیر کے انہدام کا حکم دیا ہے۔ عدلات نے حالانکہ 17 اپریل 1984 سے 18 اگست 1992 کے درمیان ہوئے تعمیرات کو نقصان نہ پہنچانے کو کہا ہے۔
جسٹس لوکر نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ’’ 18 اگست 1992 کے بعد غیر قانونی تعمیر ات کے انہدام کا ہریانہ حکومت کو ہدایت دینے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے،تعمیرات کے انہدام کا کام 31 دسمبر تک پورا کر لیا جا نا چاہئے‘‘۔
عدالت نے کہا کہ کانت انکلیو کے معاملے میں بلڈر آر کانت اینڈ کمپنی اور ہریانہ کے ٹاون اینڈ کنٹری ڈپارٹمنٹ 18 اگست 1992 کوجاری قانونی نوٹس کے بارے میں پوری طرح سے واقف تھے اس کے باوجود کانت انکلیو تعمیر ہوئی ،عدالت نے متأثرہ خاندانوں کو معاوضہ ینے کا بھی حکم دیا ہے ۔