مذہبی معاملات میں حکومت کی مداخلت ناقابل قبول : مفتی ابوالقاسم نعمانی

دیوبند:(سمیر چودھری)مودی کابینہ کے ذریعہ تین طلاق پر آرڈنینس منظور کرنے پر دارلعلوم دیوبند نے مودی حکومت کے اس فیصلہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور کہاکہ حکومت کا یہ قدم دستور ہند کی روح کے منافی ہے۔مرکزی حکومت کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کے متعلق بنائے گئے قانون اور کابینہ کے ذریعہ منظور کئے گئے آرڈنینس پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے تشویش کااظہار کیا ہے اور اس آرڈیننس کو مذہبی معاملات میں مداخلت مانتے ہوئے اس کی مذ مت کی ہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ دستور ہند ہمیں مذہبی آزادی دیتا ہے اور طلاق و نکاج جیسے مسائل خالص مذہبی امور ہیں ،ان میں کسی بھی حکومت کی مداخلت ناقابل قبول ہے، ہم حکومت کے اس اقدام کو دستور کی روح کے منافی مانتے ہیں ۔

مودی سرکار کا آرڈنینس غیر آئینی ہے
مودی سرکار کے اس قدم سے مسلم خواتین کو نہیںملے گا انصاف
مودی کابینہ کے ذریعہ طلاق ثلاثہ پر آرڈنینس منظور کرنے پر علماء و دانشوران نے کیا سخت رد عمل کااظہار
دیوبند،19؍ستمبر(سمیر چودھری)مشن 2019؍ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مودی کابینہ نے آج تین طلاق پر آرڈیننس کو منظوری دے دی ،جس میں طلاق ثلاثہ کو جرم مانا گیاہے،اب اس قانون کے تحت تین طلاق دینے والے ملزم کو مجسٹریٹ کے یہاں سے ضمانت مل پائے گی،گزشتہ چار سال سے تین طلاق کو ایشو بناکر مرکزکی نریندر مودی سرکار اس خالص مذہبی معاملہ پر سیاست کررہی ہے،اسی کے تحت آج اس نے تین طلاق پر آرڈنینس پاس کردیا ہے، جس پر علماء دیوبندو دانشوران نے سخت اعتراض کرتے ہوئے مودی حکومت کے فیصلہ کو غیر آئینی بتایا اور کہاکہ اس قانون سے مسلم خواتین کو انصاف نہیںملے گا۔واضح رہے کہ آج وزیر اعظم مودی کی صدارت میں کابینہ نے آج تین طلاق پر آرڈیننس کی منظوری دے دی اور اب اسے 6 ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس کو منظور کرانا ہوگا۔دارلعلوم دیوبند نے مودی حکومت کے فیصلہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو مذہبی معاملات میں مداخلت بتاتے ہوئے حکومت کے اس قدم کو دستور ہند کی روح کے منافی بتایا ہے ۔وہیںجمعیۃ علماء ہند کے خازن مولانا حسیب صدیقی نے اس آرڈیننس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلم خواتین کے خلاف بتایا ہے اور کہاکہ مودی سرکار تین طلاق کی کشتی پر سوار ہوکر 2019ء کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں، اگر مودی حکومت کو مسلم خواتین کی اتنی ہی فکر ہے تو انہیں مسلم خواتین کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزریشن د ینا چاہئے اور ملک کی لاکھوں ایسی خواتین کے لئے قانون بناچاہئے جنہیں بغیر طلاق دیئے ہی چھوڑ دیا گیاہے۔ انہوںنے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس آرڈنینس کے خلاف کورٹ جانا چاہئے اور مضبوطی سے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس آرڈنینس کی مخالفت میں اپنی رائے رکھنی چاہئے۔ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی نے کہاکہ تین طلاق کے خلاف لائے گئے آرڈیننس سے مسلم خواتین کو انصاف نہیں ملے گا۔انہوں نے کہاکہ ‘یہ آرڈیننس مسلم خواتین کے خلاف ہے’ اس آرڈیننس سے مسلم خواتین کو انصاف نہیں ملے گا، اسلام میں شادی ایک سماجی معاہدے ہے، اور اس میں سزا کی شق کو جوڑنا سراسر غلط ہے۔ممتاز عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ یہ آرڈنینس غیر آئینی ہے، جوآئین میں دی گئی مساوات کے حقوق کے خلاف ہے، کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کے لئے بنا گیا ہے،مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر تنظیموںکو اس آرڈنینسکو کورٹ میںچیلنجز کرنا چاہئے۔انہوںنے کہاکہ ان شادی شدہ خواتین کو قانون کی زیادہ ضرورت ہے جنہیں بغیر طلاق کے چھوڑا گیاہے۔جمعیۃ دعوۃ المسلمین کے بانی قاری اسحاق گورا نے کہاکہ حکومت کا یہ آرڈنینس شریعت میں کھلی مداخلت ہے، انہوںنے کہاکہ اس آرڈنینس سے لوگ زنا اور حرام خوری جیسے سنگین عذاب میں مبتلا ہونگے، جس کا اثر ہماری آنے والی نسلوں پر بھی پڑیگا۔