آ ج کیا پکے گا ۔۔۔۔

Zaara Mazhar
==============
آ ج کیا پکے گا ۔۔۔۔

عمر کل چلا جائے گا ۔۔۔ تھرڈ سمیسٹر اسٹارٹ ہو رہا ہے ۔۔۔۔ اس بار عید سے پہلے سیکنڈ سمسٹر کے فائنلز دے کرآ یا تو کافی بدلا بدلا سا محسوس ہوا فضول عادتیں چھوڑ یا بھول چکا تھا ۔۔۔۔ بات بات میں ضد یا بھائی سے بحث بھی نہیں ۔۔۔۔ سارہ کو ستانا ، رلانا اور تنگ کرنا سب ختم کر کے لاڈ اٹھاتا رہا چل چھوٹی تجھے گھما لاؤں ۔۔۔ اپنی پاکٹ منی سے چاکلیٹس اور آ ئس کریم بھی دلوا لاتا ۔۔۔۔ اکیڈمی کا پک اینڈ ڈارپ مکمل اپنے ذمہ لے کر تھکے ہارے ابا کو آ رام کا موقعہ فراہم کرتا رہا ۔ سدا کی سُست سارہ کی اسکول بس روز چھوٹ جاتی ۔۔۔ رات کو لیٹ سونے کے بعد گہری نیند میں ہوتا مگر ایک آ واز پہ اٹھ جاتا لڑاپ شڑاپ پانی کے چھپاکے مارتا بہن کو ڈراپ کر دیتا ۔۔۔ جہاں ضرورت کی کوئی چیز کم پڑی ایک منٹ میں حاضر ۔۔۔ گاہے بگاہے بجنے والی ڈور بیل سب اس نے سنبھال کر آ نے والوں کو انتظار کی کوفت سے بچائے رکھا ۔ مجھے پردیسی بیٹے پہ روز ہی پہلے سے بڑھ کر پیار آ تا ۔۔۔ مام وہاں ہاسٹل کا کک کھانا پکانا ہی نہیں جانتا ۔۔اسے بھی سکھا دیجئے ۔۔۔ دیسی گھی کے پراٹھے من پسند سالن کے ساتھ بڑی رغبت سے کھاتے ہوئے کہتا ۔۔۔ میں نہال ہوتے ہوئے اچھے سے اچھا کھانا پکانے کی کوشش کرتی رہی ۔ سارہ اور ہشام کو صاف کہہ دیا کہ عمر جب تک ہے کھانے اسی کی مرضی کے بنیں گے ۔ میرا بچہ کیسا کالا کالا اور کمزور ہو رہا ہے دو انگل کی کلائی رہ گئی ہے ۔۔۔میری آ نکھیں چمکار سا مار کر رہ گئیں ۔۔۔کچھ زیادہ ہی لاڈلے نہیں بن رہے موصوف ( ہشام کا ہنکارا )۔۔۔۔۔ دونوں کو تکلیف تو کافی ہوئی مگر میرا حتمی لہجہ اور واری صدقے جاتی مامتا کے آ گےطوعاً کرہاً چپ ہوگئے ۔۔۔۔۔ میں بصد اصرار اسی سے پوچھ پوچھ کر کھانے پکانے کی کوشش کرتی مگر اس نے بہت ہی کم فرمائش کی جو چاہیں پکا لیجئے سعادت مندی سے کہتا رہا سو میں نے خوب سبزیاں بنائیں یا سبزی گوشت۔۔۔ شکر ہے اس بدبودار چکن سے جان چھوٹی ۔۔۔ دونوں چھوٹوں کو سبزی کے سالن پہ برے برے منہ بناتے دیکھ کر کہتی ۔۔۔ ساری چھٹیاں اسکی فرمانبرداری کی مثالیں دیتے گزر گئیں ۔ دیکھو کتنا اچھا بچہ ہے ۔۔۔ اس کے لیئے میرا پسندیدہ جملہ دن میں تین سے چار بار چھوٹوں کو سننا پڑتا ۔ ہشام تو چِڑ ہی گیا عمر تم کب جاؤ گے ذیادہ ہی اچھا بننے کا شوق چڑھا ہوا ہے انہیں ۔۔۔ منہ ہی منہ میں بدبداتا ۔۔۔۔ اصل میں یہ ہاسٹل کے بدمزہ کھانوں کا کمال ہے سارا اس نے تشخیص کی ۔۔۔ ساری حِسیں ہی مر گئیں ہیں بیچارے کی ۔۔۔۔ ورنہ عمر ہو اور اتنا فرمانبردار ۔۔۔۔ ناممکن ۔۔۔ عمر خوش دلی سے مسکراتا رہتا ۔ جانے کی تیاری کر رہا تھا آ ج ۔۔۔ چھٹیوں پر آ نے سے پہلے ہاسٹل خالی کر کے چھوڑنا ہوتا ہے اور نئے سال کے شروع ہونے پہ دوبارہ الاٹمنٹ کے لیئے اپلائی ۔۔۔ سو چیدہ چیدہ سارا سامان لے آ یا تھا اب پھر اکٹھا کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔۔ صبح سے دو تین دفعہ پوچھ چکی کیا بناؤں ۔۔ اس نے مصروفیت میں سنی ان سنی کر دی ۔۔ پھر پوچھا کیا بناؤں ۔۔۔ جو جی چاہے اس نے مختصراِ جواب دیا ۔۔۔۔ میں تو اس کے جانے کے خیال سے اداس تھی اور وہاں کے ناپسندیدہ کھانے بھی خیال میں تھے ۔۔ آ خری لمحے تک ٹھونسوا کر بھیجنا چاہتی تھی جیسے کہ اندر ذخیرہ ہی تو رہے گا ۔۔
تھوڑی دیر پہلے پھر بوچھا بولو کیا بناؤں ۔۔۔ بستر بند کی زِپ کستے کستے اچانک سیدھا ہوا ۔۔ نا یہ تعریفیں کر کر کے مجھے کچھ بولنے جوگا چھوڑا ہے ۔۔۔ جو کچھ فرمائش کروں ۔۔۔۔ سبزیاں کھلا کھلا کے ادھ موا کر دیا ہے ۔۔۔۔ کبھی چکن بریانی ہی بنا لیتیں پتہ بھی ہے مجھے کتنی پسند ہے ۔ اس نے غصے سے آ نکھیں نکالیں ۔۔۔ عمر بہت اچھا ہو گیا ہے ۔۔۔ عمر ایسا ہے عمر ویسا ہے ۔۔ صبح شام ایک ہی الاپ سن سن کر کان پک گئے میرے ۔۔۔۔۔ کوئی کام اپنے لاڈلے ہشام سے بھی کہہ دیا کریں ۔۔۔۔۔ میری آ نکھیں نم ہوگئیں بیچارہ پھر قید ہونے جا رہا ہے ۔۔۔ چِڑے گا تو سہی ۔۔۔ چکن بریانی دم پہ رکھی ہے ۔۔۔

ز ۔ م
20ستمبر 2018ء