اسلام آ باد سے جاری ہونے والی آ ج کی فیکس ۔۔۔۔۔

Zaara Mazhar – Chashma, Pakistan
============
اسلام آ باد سے جاری ہونے والی آ ج کی فیکس ۔۔۔۔۔

دوستو کچھ عرصہ قبل اپنے تجربات کی روشنی میں ایک کالم ،، فیس بکی منگتے ،، کے عنوان سے تحریر کیا تھا ۔۔۔ میرا خیالٰ ہے کہ ایسا کالم پہلے نہیں لکھا گیا تھا یعنی کسی نے اس مسئلے روشنی نہیں ڈالی تھی ۔۔۔ بہت ساری سائٹس اور گروپس اور اخبارات میں شائع ہوا ۔ بہت سے چپ لوگ بول پڑے کہ انہیں کس کس طرح مجبور کر کے ۔۔۔۔ صبا اور غفوروں نے لوٹا ۔ سو وارداتیوں کے وار میں وقتی طور پر کافی کمی آ گئی ۔۔۔ سوشل میڈیا پر ہمارے ہم عمروں کا ایک مخصوص سرکل ہے جو اپنی تحریروں اور صاف ستھرےکمنٹس کے ذریعے اپنی ایک واضح پہچان رکھتے ہے ۔۔۔ + 40 ایسی عمر ہے کہ ہر باشعور انسان اپنے بال بچوں کی خیر اور آ خرت کے لیئے تھوڑا تھوڑا سامان روا نہ کرنا شروع کر دیتا ہے ۔۔ اور یقینا اپنی کچھ آ سائشات میں کمی کر کے ممکن بناتا ہے ۔ ایسے میں کچھ کل کے بچے اور کچھ ہمارے ہی ایج فیلو ہمارے اندر پارسائی اور جزبۂ ایمانی جگانے کے لیئے چندہ مہم شروع کر دیتے ہیں تو بہت ہی برا لگتا ہے ۔ ہمارے سرکل کے کچھ بڑوں نے میٹنگ کر کے فیصلہ کیا ہے کہ آ ئیندہ ان مہذب منگتوں کے اسکرین شاٹس لگا دیئے جائیں گے ۔۔۔ بہت سے معززین کے اسکرین شاٹس ایک جگہ جمع کئے جا چکے ہیں ۔۔۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جو عزت کما لی اپ نے اسی پہ اکتفا کیجئے اس عزت کا جنازہ نکال کر کیش کروانے کی کوشش نہ کیجئے ۔۔۔ ایک بات کان کھول کر سن لیجئے کوئی دیار غیر میں پردیس کاٹ کر پیسے کمائے یا دیس میں بچت کر کر کے اپنے بال بچوں کے لیئے کچھ بنائے بہت محنت طلب اور مشکل ترین کام ہے آ پ بھی ہمت کیجیئے اور اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کمائیے اور کچھ پیسے ان لوگوں کو چندے کے لیئے روانہ کر دیجئے جن سے آ پ گایے بگاہے مانگ رہے ہیں یقین کیجیے اس میں زیادہ مزہ ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہت اچھا ہے ۔ لہذا چندہ مانگ کر ۔۔۔۔ یا اپنے کاروبار میں گھاٹا کھا کر سوشل میڈیا سرکل کو شرمندہ نا کیا کیجیئے ۔۔۔ اپنے گھر لوٹ جائیے چندہ مہم بھی وہیں سے شروع کیجئے اور کاروباری نقصان کی تالیفِ قلبی کے لیئے بھی رشتہ داروں کے پاس جائیے وہ آ پکی عادات اور نقصانات جانتے ہیں بہتر طور پر مدد کر سکیں گے ۔۔۔
( پیغام کو آ گے نشر کر کے فراڈیوں کی حوصلہ شکنی میں ایک دوسرے کی مدد کیجیئے )

6 اکتوبر 2018ء

نوٹ : مضمون سوشل میڈیا فیس بک سے حاصل کیا ہے، تیسری جنگ اردو کا اسے کوئی واسطہ نہیں ہے، مضمون مے ظاہر خیالات مصنف کے اپنے ہیں