اقوام متحدہ کا شام میں انسانی امداد پہنچانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے معاون برائے انسانی حقوق مارک لوکوک نے پیر کی شام سلامتی کونسل کے سامنے مطالبہ کیا کہ سرحدوں اور محاذوں کے راستے شامی شہریوں تک انسانی امدادات پہنچانے کی کارروائیوں کا دائرہ پھیلایا جائے۔ اس امر کو روس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

لوکوک نے بتایا کہ “2018ء کے ابتدائی نو ماہ کے دوران اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کے ذریعے سرحدوں اور محاذوں کے راستے ماہانہ 7.5 لاکھ افراد کو غذائی امداد پہنچائی گئی۔ ان کارروائیوں کا جاری رہنا اور قرار داد نمبر 2165 اور 2393 کو توسیع دینا بنیادی اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے”۔

لوکوک نے سلامتی کونسل کی توجہ شام کے علاقے الرکبان (آبادی 50 ہزار) کی جانب مبذول کروائی جہاں رواں سال جنوری سے کوئی امداد نہیں پہنچی اور وہاں کے حالات “مشکل” ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ “بعض رپورٹوں کے مطابق صحت کی خراب صورت حال اور علاج کی عدم فراہمی کے سبب بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں”۔ انسانی حقوق کے معاون نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے قافلوں کو الرکبان پہنچنے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر فرنسوا دولاتر کا کہنا ہے کہ “انسانی امداد شام میں تمام علاقوں تک منتقل ہونی چاہیے۔ یہ بات ناقابل قبول ہے کہ شامی حکومت دو ماہ سے زیادہ عرصے سے اُن انسانی امداد کے قافلوں کو روک کر عقوبتی حکمت عملی کا نشانہ بنا رہی ہے جن میں کئی امدادی ایجنسیاں شریک ہیں”۔ فرانسیسی سفیر کے مطابق الرکبان میں حالات “آفت زدہ” ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز سکیورٹی وجوہات کی بنا پر الرکبان کیمپ کے لیے امدادی قافلوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دمشق میں اقوام متحدہ کی خاتون عہدے دار فدوی عبد ربہ کا کہنا ہے کہ الرکبان کیمپ کے لیے اقوام متحدہ اور عرب ہلال احمر کے انسانی امداد کے مشترکہ قافلوں کو سکیورٹی اور لوجسٹک وجوہات کے باعث ملتوی کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالات کے اجازت دینے پر اقوام متحدہ اب بھی پچاس ہزار افراد کو امداد پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔