انکم ٹیکس محکمہ کی ‘کوئنٹ’ پر چھاپہ ماری میڈیا پر حملہ : ایڈیٹرس گلڈ

ایڈیٹرس گلڈ نے ‘دی کوئنٹ’ کے دفتر اور اس کے مدیر راگھو بہل کے گھر انکم ٹیکس محکمہ کی چھاپہ ماری پر اظہار فکر کیا ہے۔ گلڈ نے کہا ہے کہ کسی خاص نیت سے کی گئی انکم ٹیکس محکمہ کی چھاپہ ماری یا پھر سروے میڈیا کی آزادی پر حملہ ہے اور حکومت کو اس سے بچنا چاہیے۔

Editors Guild of India expresses concern over the search and survey conducted by the Income Tax Department at the offices of The Quint and at the residence of its founder Raghav Bahl. pic.twitter.com/uEaAzMOZyl

– Editors Guild of India (@IndEditorsGuild) October 11, 2018
غور طلب ہے کہ راگھو بہل نے ان چھاپوں کے بارے میں دیے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”میں ممبئی میں ہوں اور جمعرات کی صبح انکم ٹیکس محکمہ کے درجنوں افسر میرے گھر اور ‘دی کوئنٹ’ کے دفتر پر سروے کے لیے پہنچے۔ ہم پوری طرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ہم انھیں سبھی مالی دستاویز مہیا کرائیں گے۔ میں نے ایک افسر یادو سے بات کی ہے اور ان سے گزارش کی ہے کہ وہ کسی بھی دیگر میل اور دستاویز کو نہ دیکھیں یا اٹھائیں جس میں بہت سنگین اور حساس صحافتی اشیا ہو سکتی ہیں۔ میں نے افسران سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فون کا غلط استعمال کر غیر قانونی طریقے سے کسی کاپی کی تصویر نہ لیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ میں اس معاملے کو ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کے سامنے اٹھاؤں گا۔ مجھے امید ہے کہ ایڈیٹرس گلڈ اس مسئلے پر مجھے سپورٹ کرے گا۔ میں دہلی کے لیے روانہ ہو گیا ہوں۔” .

My note to the @IndEditorsGuild.

– Raghav Bahl (@Raghav_Bahl) October 11, 2018
.
انکم ٹیکس افسران نے جمعرات کو ‘دی کوئنٹ’ اور ہندی ‘کوئنٹ’ ویب سائٹ چلانے والی کمپنی ‘کوئنٹیلون میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ’ کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ انکم ٹیکس محکمہ کی ٹیم نے ‘کوئنٹ’ کے مالک اور مدیر راگھو بہل اور ان کی بیوی اور کوئنٹ کی سی ای او ریتو کپور کے نوئیڈا واقع گھر پر بھی چھاپہ ماری کی۔ .

ٹیم میں شامل افسران کا کہنا ہے کہ وہ دفتر کی ایک منزل پر تلاشی کر رہے ہیں اور دوسرے پر سروے۔ انکم ٹیکس محکمہ کی ٹیم نے راگھو بہل کے ہی گروپ کی دوسری کمپنی ‘کوئنٹائپ’ اور راگھو کی حصہ داری والی ویب سائٹ ‘دی نیوز منٹ’ کے بنگلورو واقع دفاتر پر بھی چھاپہ ماری کی ہے۔ .

غور طلب ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی دفعہ 132 کے تحت انکم ٹیکس افسران کو تلاشی لینے اور سامان ضبط کرنے کا حق ہے، لیکن اسی قانون کی دفعہ 133 اے کے مطابق اگر افسر سروے کر رہے ہیں تو وہ کچھ بھی سامان یا دستاویز اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے ہیں، ہاں وہ تلاشی لے سکتے ہیں۔ .

جو جانکاری سامنے آ رہی ہے اس کے مطابق انکم ٹیکس افسران نے اکاؤنٹ اور لین دین کی جانکاریوں کے علاوہ ‘دی کوئنٹ’ کے ملازمین کی فہرست اور ان کے رابطہ کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ شروع میں انکم ٹیکس افسران نے کہا تھا کہ وہ صرف دفتر اور گھر پر سروے کرنے آئے ہیں لیکن بعد میں انھوں نے کہا کہ وہ تلاشی بھی لیں گے۔ خبر لکھے جانے تک انکم ٹیکس افسران نے سروے یا تلاشی کا وارنٹ نہیں دیا تھا جس سے پتہ چل سکے کہ انکم ٹیکس محکمہ کے آنے کا مقصد کیا تھا۔ اگر وہ سروے کرنے آئے تھے تو پھر اچانک تلاشی کی بات کیوں کرنے لگے۔ .

یہ جانکاری بھی سامنے آئی ہے کہ انکم ٹیکس محکمہ کی ٹیم نے راگھو بہل اور ریتو کپور کے گھر پر ان کے فون اور دوسرے الیکٹرانک سامانوں کا ڈاٹا کاپی کرنے کی کوشش کی ہے۔ .

IT officers are trying to clone data from @kapur_ritu’s gadgets. When she screamed and asked me about the law of privacy and whether they can clone her journalistic and personal material, while I was standing outside her residence, two IT officers pulled her inside the house.

– Poonam Agarwal (@poonamjourno) October 11, 2018


.
اس سے پہلے ایڈیٹرس گلڈ کے سربراہ شیکھر گپتا سمیت تمام صحافیوں اور سیاستدانوں نے اس چھاپہ ماری پر اظہار فکر کیا۔ شیکھر گپتا نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ”دی کوئنٹ کے دفتر اور اس کے بانی مدیر کے گھر پر انکم ٹیکس محکمہ کی چھاپہ ماری فکر کا موضوع ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ چھاپہ ماری پریشان کرنے اور دباؤ بنانے کے لیے کی گئی ہے۔ اگر چھاپہ ماری کی صحیح وجہ ہے تو حکومت کو بتانا چاہیے، ورنہ ہم اس کارروائی کو اس میڈیا پر حملے کے طور پر دیکھیں گے جو حکومت کی تنقید کرتی رہی ہے۔” .

I.T raids on @TheQuint offices and its founder @Raghav_Bahl home are cause for serious concern. Taxman has the right to ask all questions, but raids look like intimidation. If there is justification, govt must explain quickly. Or it will be seen as targeting critical media.

– Shekhar Gupta (@ShekharGupta) October 11, 2018
.
اس درمیان ‘دی نیوز منٹ’ کی ایڈیٹر ان چیف دھنیا راجندر نے کہا ہے کہ ہم انکم ٹیکس محکمہ کے افسران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ .

Income Tax survey on media baron Raghav Bahl and his company Quintillion Media. They are at our office too. But things have been smooth here. And we have showed our audit books etc https://t.co/G7tb2GYA4f

– Dhanya Rajendran (@dhanyarajendran) October 11, 2018
.
اس معاملے پر نیوز 18 کے سابق صحافی آشوتوش نے ٹوئٹ کر لکھا ہے کہ ”پرنوئے رائے کے بعد اب راگھو بہل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ راگھو بے حد قابل اعتماد میڈیا ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ اب وہ مودی حکومت کی تنقید کرنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔” .

After Pranoy Roy, now @Raghav_Bahl is targeted. Raghav is one of the most credible media personalities. Now he is paying the price for being anti-establishment, criticising Modi Govt.

– ashutosh (@ashutosh83B) October 11, 2018
.
وہیں سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے ٹوئٹ کر کہا کہ ”اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ‘دی کوئنٹ’ اور راگھو بہل کے گھر پر آئی ٹی محکمہ کے چھاپے پڑے ہیں۔ یہ چھاپہ اس لیے پڑا ہے کیونکہ وہ حکومت کی تنقید کرتے ہیں۔ چھاپے کا مقصد میڈیا کو ڈرانا ہے۔ جس طرح کا آئی ٹی، ای ڈی اور سی بی آئی کا غلط استعمال اس حکومت کے ذریعہ کیا جا رہا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔” .

No doubt that Quint & Raghav Bahl are being raided by the IT Dept only because they have been critical of the govt & in order to intimidate the media. IT, ED & CBI are being misused by this govt like never before https://t.co/S8OteLrpdU

– Prashant Bhushan (@pbhushan1) October 11, 2018
.
‘گو نیوز’ کے بانی اور ایڈیٹر ان چیف پنکج پچوری نے کہا کہ ‘دی کوئنٹ’ کے دفتر پر چھاپہ رازداری اور صحافت کے لیے دھمکی ہے۔ .

This is getting seriously threatening to privacy and journalism. https://t.co/Sbd8vdh05E

– Pankaj Pachauri (@PankajPachauri) October 11, 2018
.