بنگلہ دیش اور میانمار آئندہ چند ہفتوں کے دوران روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی پر متّفق

ڈھاکہ – ایجنسیاں
بنگلہ دیش اور میانمار منگل کے روز اس امر پر متفق ہو گئے ہیں کہ عسکری آپریشن کے سبب فرار ہو کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی واپسی نومبر کے وسط سے شروع ہو جائے گی۔

گزشتہ برس حکومت کی جانب سے سخت فوجی آپریشن کے نتیجے میں اگست 2017ء کے بعد سے 7 لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان بُدھ اکثریت کے حامل ملک میانمار کی مغربی سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ شہید الحق نے ڈھاکہ میں میانمار کی وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار “مینت سُو” کے زیر قیادت وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد شہید الحق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ “ہم نومبر کے وسط سے کوچ کا عمل شروع ہو جانے کی توقع رکھتے ہیں”۔

اس موقع پر مینت سُو کا کہنا تھا کہ “ہم نے متعدد اقدامات کیے ہیں تا کہ واپس آنے والوں کے لیے محفوظ ماحول کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے”۔

بنگلہ دیش اور میانمار گزشتہ برس نومبر میں بھی اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ دو ماہ کے اندر پناہ گزینوں کی واپسی شروع ہو جائے تاہم اس پر عمل نہ ہو سکا۔ روہنگیا مسلمان ابھی تک میانمار کی سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میانمار کے شمالی صوبے راکھین جہاں سے پناہ گزینوں کی اکثریت آ رہی ہے ،،، وہاں کے حالات ان کی واپسی کے لیے اب بھی نامناسب ہیں۔