“جسم و کپڑے پر مذی لگنے کے مسائل کا حل، ارشادِ نبوی (صل اللہ علیہ و سلم) کی روشنی میں “

محمد عباس دھالیوال.
مالیر کوٹلہ، پنجاب
Ph. 9855259650
abbasdhaliwal72@gmamil.co

==========

“جسم و کپڑے پر مذی لگنے کے مسائل کا حل، ارشادِ نبوی (صل اللہ علیہ و سلم) کی روشنی میں “

اللہ تعالیٰ کی ذات بے حد عظیم الشان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیار کردہ تخلیقات میں سے انسان ایک عمدہ اور بہترین تخلیق ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک نے اس کائنات میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے. بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات تمام طرح کے ظاہری و باطنی عیوب سے پاک و بالا تر ہے اور وہ اپنے بندوں کو بھی پاک وصاف ہی دیکھنا چاہتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام میں صفائی کو آدھا ایمان کا درجہ دیا گیا ہے. اس سلسلے میں جب ہم لوگ اپنی ظاہری و باطنی صفائی کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بہت سے موقع پر ہم کس طرح سے پاکی حاصل کریں اس سلسلے میں علم کی کمی ہوتی ہے یا علم نہیں کے برابر ہی ہوتا ہے ہم اکثر چاہتے ہوئے بھی اس ضمن میں کسی سے پوچھنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ہمیں کچھ بہت ذاتی قسم کے مسائل دریافت کرنے میں شرم و حیا محسوس ہوتی ہے.

لیکن جب ہم اللہ کے آخری رسول پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کے مختلف موقعوں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو کیے گئے ارشادات پر غور و فکر کرتے ہیں یا انھیں اپنے مطالعے میں لاتے ہیں تو وہ ہماری ہر مسئلے میں نصرت و رہنمائی فرماتے نظر آتے ہیں.
کیونکہ انسان ایک معاشی جانور ہے اور اس کی جسمانی و نفسیاتی مختلف ضروریات ہیں. زندگی کا بیشتر سفر ایک فرد اپنی شریک حیات یعنی بیوی کے ساتھ بسر کرتا ہے اس ازدواجی زندگی کے دوران مختلف موقعوں پر تخلیہ کے بیچ اپنی بیوی سے جب کبھی ایک شخص کھیلتا یا بوس و کنار ہوتا ہے تو کچھ افراد کو بہت زیادہ مزی پیدا ہوتی ہے اور اس مزی کے قطرے اکثر اوقات انکے جسم و کپڑوں پر لگ جاتے ہیں جس کے چلتے وہ اکثر تذبذب کی کیفیت میں رہتے ہیں اور شرم و حیا کی وجہ سے کسی عالم سے پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کرتے. لیکن اس سلسلے میں آپ صل اللہ علیہ و سلم کی مختلف احادیث ہماری رہنمائی و نصرت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں. جیسے کہ سیدنا علی ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا، پس میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو منی ٹپکائے تو جنابت کی وجہ سے غسل کر اور جب تو منی ٹپکانے والا نہ ہو تو غسل نہ کیا کر۔ (مسند احمد :847)
اسی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو مذی دیکھے تو وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور جب تو پانی کا ٹپکنا یعنی منی کو دیکھے تو غسل کر۔ (مسند احمد :1028)
جبکہ ایک اور جگہ سیدنا سہل بن حُنَیف ؓ کہتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے بڑی مشقت ہوتی تھی اور میں اس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کیا کرتا تھا، ایک دن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے تو اس سے صرف وضو کافی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: جو کپڑے کو لگ جائے، اس کا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تجھے یہ عمل کفایت کرے گا کہ تو پانی کا ایک چلّو لے اور کپڑے کے جس جس حصے پر مذی کے لگ جانے کا خیال ہو، اس کو کپڑے کے اُس حصے پر مار دے۔ (مسند احمد :16069)
اسی طرح ایک اور جگہ سیدنا مقداد بن اسودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ نے مجھے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرو جو اپنی بیوی کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس وجہ سے اس سے ماء الحیاۃ تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی میری بیوی نہ ہوتی تو میں نے خود سوال کر لینا تھا۔ پس میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اپنی بیوی سے کھیلتا ہے اور اس سے زندگی والا پانی تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسا آدمی اپنی شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر لیا کرے۔(مسند احمد :24309)
جب کہ اسی ضمن میں ایک اور جگہ عائش بن انس بکری بیان کرتے ہیں کہ، سیدنا علی، سیدنا عمار اور سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌نے مذی کے بارے میں بات چیت کی، سیدنا علی ؓ نے کہا: مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس وجہ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیٹی میرے عقد میں ہے، پس انھوں نے سیدنا عمار یا سیدنا مقداد ؓمیں سے ایک کو کہا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں سوال کرے۔ عطا کہتے ہیں: عائش نے تو کسی ایک کا نام لیا تھا، لیکن میں بھول گیا، بہرحال انھوں نے سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو مذی ہے، اس کو چاہیے کہ اُس کو دھو لیا کرے۔ میں نے کہا: کسی چیز کو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنی شرم گاہ کو، اور اچھی طرح وضو کر لیا کرے اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے یعنی دھویا جائے۔ (مسند احمد :24326)
۔ (تیسری سند) اس سند سے بھی اسی قسم کی روایت بیان کی گئی ہے، البتہ اس میں ہے: اس جگہ چھینٹے مارنے سے مراد دھونا ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پائے تو اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے اور نماز والا وضو کرے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ یہی دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے احکامات و اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کے ارشادات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین