جنات کا سایہ حقیقت یا فسانہ؟

اچانک حرا نے بلند آواز میں قہقے شروع کردیئے اور یکدم اس کے قہقے رونے میں تبدیل ہوگئے اور اُس نے عجیب قسم کی آوازیں نکالنا شروع کردیئے

ناہید جہانگیر سے
بچپن میں کبھی والدہ تو کبھی دادی مجھے جنات، پریوں اور دیگر مخلوقات کے قصے سناتی تھی جن کو میں بہت شوق سے سنتی تھی، ان قصوں کا شوق اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ پھر ہر رات والدہ یا دادی سے پریوں اور جنات کے قصے سنتی تھی، جب بھی والدہ یا دادی قصے سناتی تھی تو میں غور سے سننے کےلئے بستر میں لیٹ جاتی اور کبھی کبھی قصہ سننے کے بیچ میں ہی مجھ پر نیند طاری ہو جاتی اور بے فکر ہوکر والدہ کی گود میں خوابوں کی وادی میں کھو جاتی، لیکن سمجھ نہیں آتا کہ یہ قصے فرضی تھے یا اُن کے پیچھے کوئی حقیقت تھی؟۔

چند روز قبل میں نے ان فرضی قصوں کا ایک منظر حقیقت میں اُس وقت دیکھا جب میں اپنی ایک سہیلی (فرضی نام حرا) کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی، اس دوران اچانک حرا نے بلند آواز میں قہقے شروع کردیئے اور یکدم اس کے قہقے رونے میں تبدیل ہوگئے اور اُس نے عجیب قسم کی آوازیں نکالنا شروع کردیئے جس سے میرے بھی اوسان خطاء ہوگئے کہ یہ حرا کو کیا ہورہا ہے اور اسی دوران اُس نے بھاری آواز میں کہا ”یعنی تم جنات کو نہیں مانتی؟”۔

اگر حقیقت بتاؤں تو اس سے قبل مجھے انسان پر جنات کے سائے پر کوئی یقین نہیں تھا، حرا پر جنات کا سایہ آنے کے بعد بھی مجھے شک تھا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟، میری طرح اور بھی بہت سارے لوگ ہوں گے جو ان واقعات پر یقین نہیں رکھتے اور خصوصاً ڈاکٹرز کی ایک بڑی تعداد انسان پر جنات کے سائے کو جھوٹ اور بے بنیاد سمجھتے ہیں اور اسے متاثرہ انسان کی نفسیاتی بیماری قرار دیتے ہیں۔

ایسے واقعات نفسیاتی ہوتے ہیں یا جناتی؟ اپنا شک دور کرنے کےلئے میں نے اسلامیہ کالج اینڈ یونیورسٹی پشاور کے ایک پروفیسر ڈاکٹر حیات اللہ سے رابطہ کیا جنہوں نے کہا کہ نفسیات اور جنات کا عمل ایک دوسرے سے منسلک ہے لیکن ان کی پہچان کرنا بہت ضروری ہے جو ایک عام انسان نہیں کرسکتا، اس کے لئے ماہرین موجود ہیں جو اپنے علم کی بنیاد پر معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ نفسیاتی حرکات ہیں یا جنات کے اثرات ہیں۔

ڈاکٹر حیات اللہ نے کہا کہ جنات سے مکمل طور پر انکار کرنا غلط بات ہیں کیونکہ موجودہ دور میں جنات پر امریکہ اور یورپ میں بھی تحقیق جاری ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ ذہنی یا نفسیاتی مرض کے علاوہ بھی ایک ایسی چیز ہے جو انسان پر دباؤ یا اثر رکھتی ہے۔

دوسری جانب پشاور کا رہائشی ایک عالم دین قاری سہیل خان جو انسانوں سے جنات کے اثرات کو ختم کرنے کےلئے کوششیں کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ انسانوں کی طرح جنات میں اچھے اور بُرے موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ قرآنی آیات کے ذریعے متاثرہ شخص پر موجود سائے کو ظاہر کرنے اور اُس کو اپنے سائے میں رکھنے کی وجوہات معلوم کئے جاسکتے ہیں۔

قاری سہیل نے بھی ڈاکٹر حیات اللہ کی اس بات سے اتفاق کیا کہ بعض لوگ ایک انسان کے نفسیاتی مرض کو جنات کا نام دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ آیات کریمہ اور وظائف کی مدد سے معلوم کرسکتے ہیں کہ متاثرہ شخص پر جنات کے اثرات ہیں یا اُسے نفسیاتی مسئلہ ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر حیات اللہ نے مزید کہا کہ جب ایک انسان پر غیر معمولی سا جھٹکا آتا ہے یا معمول سے ہٹ کر کوئی ایسی حرکت کرتا ہے جو اُس نے پہلے کبھی نہیں کیا ہو اُس کے پیچھے بہت سی وجوہات موجود ہوتی ہیں جیسے زندگی سے دور رہنا، گھریلو مسائل، کمزور اعصاب، ایک واقعے کا بار بار ذکر ہونا ان تمام وجوہات کی بناء پر ایک شخص آہستہ آہستہ اپنی زندگی سے دور ہوجاتا ہے اور 20 سے 25 فیصد تک اُس پر غیبی سایہ غالب آجاتا ہے جس کے بعد انسان کی آواز بدل جاتی ہے اور وہ عجیب و غریب باتیں کرنے لگتا ہیں، انہوں نے کہا کہ آواز کا بدل جانا صرف جنات کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ نفسیاتی بیماری میں بھی دباؤ کے باعث آواز بدل جاتی ہے۔

ڈاکٹر حیات اللہ نے مزید کہا کہ جنات موجود ہیں کیونکہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں لیکن 100 فیسد اثرات جنات کے نہیں ہوتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنات بھی زیادہ تر اُس انسان پر اثر کرتے ہیں جو نفسیاتی اور اعصابی طور پر کمزور ہو لیکن ایک تربیت یافتہ اور ذہین ٹرینر اُس کو کونسلنگ اور علاج کے ذریعے ٹھیک کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نفسیاتی مریض کا علاج ایک کلینیکل اور دوسرا کونسلنگ کے ذریعے ممکن ہے لیکن بہتر ہوگا کہ ایک مریض کا علان کونسلنگ کے ذریعے کیا جائے کیونکہ کلینیکل علاج کے ذریعے مریض کی حالت خراب ہوسکتی ہے۔