جھوٹ یہ کتنا پیارا تھا…..تبدیلی کا نعرہ تھا

Usman Jamaie
===============·
جھوٹ یہ کتنا پیارا تھا
محمد عثمان جامعی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبدیلی کا نعرہ تھا
ہر اک مرض مٹانے کو
ہاتھ میں امرت دھارا تھا
جیب میں تھا جادو کا چراغ
قسمت کا ہر تارہ تھا
”قرضہ لوں تو مرجاو¿ں“
کل تک راگ تمھارا تھا
سب شیطان فرشتے تم
جھوٹ یہ کتنا پیارا تھا
بات عوام کی کرتے تھے
کیا خوش رنگ نظارہ تھا
تم نے منہگائی کے خلاف
کیسا نعرہ مارا تھا
پولس سیاست سے آزاد
دعویٰ کیسا نیارا تھا

دھاندلی دھندے سے آئے
چھینا ووٹ ہمارا تھا
کُھل گئے چند ہی روز میں تم
جھوٹ کھلا جو سارا تھا
بس اب یہ سچ بول ہی دو
ہر اک وعدہ لارا تھا