شامی خانہ جنگی ميں روسی مداخلت کے تين سال، اٹھارہ ہزار اموات

شام ميں پچھلے تين برسوں کے دوران روسی فضائی حملوں ميں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار سے زائد ہے، جن ميں سے تقريباً نصف عام شہری تھے۔ شامی خانہ جنگی ميں روسی مداخلت نے اس تنازعے پر گہرے اثرات مرتب کيے۔

شام ميں خانہ جنگی مارچ سن 2011 ميں شروع ہوئی تھی جب کہ روس نے وہاں فضائی حملوں کا سلسلہ باقاعدہ طور پر تيس ستمبر سن 2015 کے روز يعنی آج سے ٹھیک تين سال قبل شروع کيا تھا۔ شامی اپوزیشن تنظیم سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق اس دوران روسی فضائی حملوں ميں مجموعی طور پر 18 ہزار 96 افراد ہلاک ہوئے، جن ميں سے تقريباً نصف يا 7,988 عام شہری تھے۔ روسی حملوں ميں داعش کے 5,233 جنگجو بھی مارے گئے جبکہ باقی ماندہ ہلاک شدگان شامی باغی اور جہادی تھے۔

انسانی حقوق کے ليے سرگرم متعدد گروپ اور مغربی ممالک کی حکومتيں شام ميں روسی فضائی حملوں پر تنقيد کرتے آئے ہيں۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے بلا تفريق اہداف کو نشانہ بنايا جاتا ہے اور ايسے ميں شہری علاقے اور ہسپتال وغيرہ بھی بمباری کی زد ميں آتے ہيں۔ شام ميں اپوزيشن کے زير کنٹرول علاقوں ميں سرگرم ’وائٹ ہيلمٹس‘ نامی ايک ريسکيو فورس کے مطابق سن 2015 سے لے کر اب تک اس کے کارکنوں نے کئی ايسے واقعات ميں امدادی کارروائیاں کیں، جن ميں عام شہريوں کے زير استعمال عمارات روسی بمباری کا نشانہ بنی تھیں۔ ’وائٹ ہيلمٹس‘ کی اس بارے ميں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق انيس اسکول، بارہ عوامی مارکيٹیں، بيس طبی مراکز اور اس تنظيم کے بھی کم از کم اکيس مراکز پچھلے تين سالوں ميں روسی فضائی حملوں کی زد ميں آ چکے ہيں۔

شام کے ساحلی صوبے طرطوس ميں کئی دہائيوں سے روس کا ايک بحری اڈہ بھی ہے تاہم گزشتہ تین برسوں سے روسی افواج نے حميميم کے فضائی اڈے پر بھی اپنی سرگرمياں بہت بڑھا دی ہيں۔ علاوہ ازيں صدر بشار الاسد کی حکومت کے زير قبضہ علاقوں ميں کئی مقامات پر روس کی خصوصی فورسز بھی تعينات ہيں۔

ايران اور روس شامی صدر بشار الاسد کت اتحادی ہیں۔ روسی مداخلت ہی کے نتيجے ميں شامی خانہ جنگی ميں صدر اسد کے دستوں کو بڑی کاميابياں ملنا شروع ہوئی تھیں اور وہ کئی اہم مقامات پر پيش قدمی کے قابل ہوئے تھے۔

سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ جب روس نے شام ميں فضائی کارروائیاں شروع کیں، تو اس وقت ملک کے صرف چھبيس فيصد حصے پر بشار الاسد کی افواج کا کنٹرول تھا جبکہ اس وقت شام کا دو تہائی حصہ اسد حکومت کی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔