لمبے بال ۔۔۔ جی کا جنجال ۔۔۔۔۔

Zaara Mazhar _ Pakistan

===========
مُنّی بیگم ساری زندگی اس غم میں مبتلا رہیں کہ اپنے چھوٹے چہرے کو بڑا کیسے کریں ۔۔۔ امّاں لمبے بالوں کو پیچھے کھینچ کر کس کے چٹیا باندھ دیتیں تو موٹے ڈیلے باہر نکل آ تے ۔ آ نکھیں حلقوں سے کچھ یوں باہر نکل جاتیں کہ بڑے بھیا کو بھینس کی آنکھوں کا گمان ہوتا ۔۔۔اور شدید نیند میں بھی بند نا ہوپاتیں ۔۔۔اماں بیگم ڈانٹتیں کہ اتنی رات ہوگئی سوتی کیوں نہیں ۔۔۔ بڑے بھیا جو ازخود ابّا کے قائم مقام تھے فرماتے چوٹی ڈھیلی کریں گی تو آ نکھیں بند ہوں گی نا بیچاری کی ۔۔۔ ان کی شفقت میں بھی دبا دبا مذاق ہوتا ۔ اماں چوٹی کے بل ڈھیلے کرتیں تو سر چوٹی کے وزن سے پیچھے گر جاتا ۔۔۔ مگر چہرہ کسی طور بڑا نا دکھتا ۔۔۔ خدا کا کرنا کہ اسی چھوٹے چہرے پر ساس نند فریفتہ ہوگئیں ۔۔۔ منّی بیگم پیا دیس سدھاریں ۔۔۔ انہوں نے سوچا شادی ہوتے ہی پہلا کام بالوں کو کٹوا کے جان چھڑانے کا کریں گی کہ ہر خواہش کے اظہار پر اماں بیگم یہی فرماتیں کہ اپنے گھر جاکے جو مرضی کرنا ۔۔۔۔۔
ایک دن ساس امی کی گود میں سر رکھے رکھے اس خواہش کا اظہار کیا وہ تو کرنٹ کھا گئیں۔۔۔ بھید کھلا کہ منی بیگم کے چہرے پہ نہیں بالوں پہ فدا ہوئیں تھیں محترمات ۔۔۔ وہ جو شادی کو بہت سی آ زادیوں کی کنجی سمجھتی تھیں پتہ چلا یہ تو نری قید ہے ۔ بال انکے سر پہ ہوتے ہوئے بھی ان کے نا تھے۔۔۔ پہلے والدہ محترمہ کی جاگیر تھے۔۔۔۔۔۔ کس کے باندھنا ، اتوار کے اتوار بیری کے پتے ابال کر اس پانی سے سر دھونا ۔ کولہو سے اپنی نگرانی میں بادام کھوپرے کا تیل نکلوانا اور بال دھوتے ہی سکھا کر دوبارہ تیل چپیڑ دینا ۔۔۔ کالج میں لڑکیاں پکڑ پکڑ کے حسرت سے دیکھتیں ۔۔۔ کسی روز بغیر تیل کے اور کھلے چھوڑ کر آ نا سکھیاں فرمائش کرتیں اور منی بیگم بھرم بھری مسکراہٹ دانتوں میں دباتی رہ جاتیں ۔۔۔ اب سسرالی مافیا کے قبضے میں چلے گئے ۔ ان کو باندھ کے رکھا کرو ۔۔ روز روز نہ دھویا کرو ۔۔ ساری چمک مر جائے گی ۔۔۔۔اماں جی بند کمرے میں ہئیر ڈرائیر کی ہوا ہولے ہولے لہراتیں ۔۔۔ نلکے میں کھارا پانی آ تا ہے اور کھارا پانی بالوں کی ساری ملائمت اور نرمی چوس جاتا ہے وہ اپنی دُم سی چٹیا آ گے کرتیں چار دیہات سے عورتیں میرے بال دیکھنے آ تی تھیں کلّر لگ گیا ا ن کو کھارے پانی سے ۔۔۔افسردگی سے سر ہلایا ۔ دیور جی سے روز کین میں واٹر سپلائی کا پانی منگوا کر رکھتیں ۔ منی بیگم کا دل چاہتا بالوں کو چوٹی سے آ زاد کریں ہر وقت ناگ کی طرح وجود پہ کنڈلی مارے رہتے ہیں ۔۔ کبھی کھول دیں مگر جب کھولتیں تو ان کا منحنا سا وجود اور ننھا سا چہرہ اس کالے جنگل میں گم ہوجاتا ۔۔۔اماں جی کا آ رڈر آ تا جلدی سے لپیٹ دو نظر لگ جائے گی ۔۔۔ جوڑا بناتیں تو چہرے سے ڈبل پیچھے فٹ بال سا بن جاتا اور سر حسبِ معمول پیچھے کو جا گرتا ۔ ہر وقت اسی الجھن میں رہتیں کہ یہ کالا گھنا جنگل کسی طرح ترش جائے ۔۔۔ مگر اکلوتی نند کو اپنی سہیلیوں میں بھابھی جی کے لمبے بالوں کی شو مارنی ہوتی اور اماں جی کو برادری میں ۔۔۔ گھر کی پہلی بہو تھیں لاڈلے ڈاکٹر بیٹے کی دلہن ۔۔۔ خوب چاؤ چونچلےاور نخرے اٹھائے جاتے ۔۔۔ اماں جی اپنے ہاتھوں سے گھر کے نکلے مکھن سے بلوں والے کُرکُرے ، خستہ نمکین پراٹھے بنا کر کھلاتیں ۔۔۔ اٹھتے بیٹھتے بسم اللہ بسم اللہ کا ورد ہوتا مگر بالوں پہ کوئی اختیار نا دیا جاتا ۔۔۔ وہی گھر کا نکلا مکھن اور دیسی گھی بالوں میں چپیڑ دیتیں ۔۔۔۔ گھر کے سرہانے اور کمبل دیسی گھی کی بساند میں بسے ہوئے تھے کہ اٹھانے میں بھی ہاتھ لسلسا جاتے ۔۔ منی بیگم کے منحنی وجود کو توانائی بخشنے کے لیئے منگوائے گئے دیسی انڈے ، مختلف مربہ جات ، ڈرائی فروٹس اور ادھ رڑکے سب بال کھا پی کر ہی توانا ہوئے جاتے ۔ حتٰی کے چہرے کا بھی لہو پی لیتے ۔ پور ے اٹّھ چک میں سوا گز کی چوٹی نہیں ہے کسی کی ۔۔۔۔اماں جی بڑی مسرور ہوکے فرماتیں ۔ منی بیگم نے صاحب سے شکایت کی ۔۔۔ دیکھئے ہمیں تو کچھ لگتا نہیں سب کھایا پیا بالوں والی رگیں چوس لیتی ہیں کٹوا نا لیں ؟ وہ قہقہ لگا کر ہنستے ۔۔۔۔ انہیں کھانے پینے دو ۔۔۔ ایسے خوبصورت بال بھلا کب ہوتے ہیں کسی کے ۔۔۔۔۔ وہ چوٹی کے بل بازو میں لپیٹتے ہوئے شرارت سے فرماتے ۔۔۔۔ عورت کی ساری خوبصورتی اس کے بالوں میں ہوتی ہے ۔ وہ محبت سے کہتے ۔۔۔ ہم نے تو آ دھی خوبصورتی کا سنا تھا منی بیگم منہ بسور کر رہ جاتیں ۔۔۔۔۔بڑی سے بڑی چادر اوڑھ کر باہر نکلتیں مگر بال چادر کی حدیں توڑ کر باہر جھولتے رہتے ۔۔ انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ گھر سے نکلنے سے پہلے دو بل گردن کے گردا گرد لپیٹتیں اور پھر دوپٹہ ، چادر اوڑھتیں ۔۔۔ بال تو چھپ جاتے مگر پتلی گردن میں سے سانس رک رک کر آ تا اور گرمی میں تو دم گھٹ جاتا ۔۔۔ آ خر جب ذرا قدم جم گئے ۔۔ گود میں دو بچے کھیلنے لگے تو پتہ چل گیا کہ سسرال میں بھی انسان ہی بستے ہیں خون آ شام بلائیں نہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ سب اتنی محبت کرتے ہیں کیا فائدہ اگر ہم اپنی بات ہی نا منوا سکیں ۔۔۔سو ایک دن ہمت کر کے میکے سے واپسی پہ بال کٹواکر شانوں پہ گرا کر ہلکی پھلکی ہو گئیں ۔۔۔۔سب وقتی صدمے سے نکل آ ئے تو خوب لہرا لہرا کر چلتیں بلکہ تیرتیں ۔۔ کبھی چلتے چلتے بالوں میں نزاکت سے انگلیاں پھراتیں ۔۔ کبھی رک کر جھٹکے سے مڑتیں کہ بال شان بے نیازی سے جھٹکا کھا کے چہرے پہ ، شانوں پہ اور پشت پہ بوسے لینے لگتے ۔ نہانا دھونا اور سکھانا آ سان ہوگیا ۔۔۔ کہیں جانا ہوتا تو منی بیگم پانچ منٹ میں تیار ۔۔۔ ان کا سارا وقت تو بال جمانے میں خرچ ہوتا تھا ۔۔۔۔۔ مگر چہرہ اب بھی بڑا ہوکے نہ دیا شاید بڑھوتری کی عمر گزر چکی تھی ۔۔۔ شیشے کے آ گے کھڑے ہو کے گھوم گھوم کے خوب غور سے چہرے کا معائنہ کیا اور اپنے پتلے سے چہرے کو خوب ڈانٹا ڈپٹا اور مزید کُھلا کھلانے لگیں ۔۔۔ مگر جس منہ سے کھاتی پیتیں وہیں نا لگتا اور ہر جگہ پہنچ جاتا ۔ کھا کھا کے کّپّا ہو گئیں ۔۔۔ انہوں نے چند سال اور دینے کا فیصلہ کر لیا بہت سے ٹوٹکے آزمائے ۔۔ چہرے کو تکیے پر اوندھا کر سوتیں ۔ شاید کچھ چپٹا ہو کر چوڑا سا لگے ۔۔۔۔ مگر منہ ان کا نہیں صاحب کا بڑا ہوگیا ۔۔۔۔ ( غصے سے ) ۔ ساری دلچسپی ہوا گئی ۔۔۔ تو منی بیگم نے مارے جلن کے بال کچھ اور اوپر تک کٹوا لیئے ۔۔۔ مگر منہ بڑھ کر نہیں دیا ۔۔۔ اب تو ہمارے بڑھنے کی عمر بھی گزر گئی ہے ۔۔۔منی بیگم نے انتہائی بے بسی اور مایوسی سے سوچا ۔۔۔ چلو اسی چھوٹے منہ سے گزارا کرتے ہیں قیامت تک ۔۔ بعد جنت میں جانے کے سب سے پہلے فرشتوں سے اسی کی ریپئرنگ کی بات کریں گے ۔۔

ز ۔ م
14 اکتوبر 2018ء