لوٹ کے آ جا ۔۔۔۔۔ وقتِ گردیدہ

Zaara Mazhar

Lives in Chashma, Pakistan
===============
لوٹ کے آ جا ۔۔۔۔۔ ( وقتِ گردیدہ )

سوشل میڈیا ہماری زندگیوں ، میں خصوصا متوسط طبقے کے پڑھے لکھے افراد کے لیئے انتہائی ممتاز حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔۔۔ بلکہ اکثر اوقات ہماری بنیادی ضروریات کا وقت بھی کھا جاتا ۔ اسکی اہمیت سے انکار کسی طور ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔ جہاں ہمیں کتھارسس کا موقعہ فراہم کرتا ہے وہیں ہماری بہت سی پوشیدہ صلاحیتوں کو صیقل کر کے اعتماد سے بات کرنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے ۔ خصوصا گھر بیٹھی خواتین کو اس کے استعمال سے بہت فائدہ ہوا ۔۔۔ بغیر گھر سے نکلے ایک واضح شناخت کا مل جانا معمولی بات نہیں ہوتی ۔ دوسری طرف دلیل سے بات کرنا اور مقابل کو قائل کر لینا بھی بہت اہم ہے ۔ یہ نا ہوتا تو ہم میں سے بہت کم خواتین کو اعتماد سے بات کرنے کا سلیقہ اور ڈھنگ ہوتا ۔۔۔
مگر یہ بات آ جکل شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ یہ ہماری بنیادی گھریلو و انسانی ضروریات کا وقت بھی چاٹ جاتا ہے ۔۔۔ یوں لگتا ہے وقت کا پنچھی ناراض ہو بیٹھا ہے کسی کے پاس وقت ہی نہیں رہا ۔۔۔ سب لوگ جو ایف بی پہ ایکٹو ہیں ہزاروں کی تعداد میں خواتین و حضرات کو دوست رکھتے ہیں ۔۔۔۔ اس طرح بہت وقت برباد ہوتا ہے ۔۔۔ تنگئ وقت کے سبب گھریلو زندگی ڈسٹرب رہنے لگی ہے ہر ضروری کام ایک لپک جھپک کے ساتھ بھگتایا جاتا ہے ۔۔۔ گھروں میں ٹیبل پر اکٹھے بیٹھ کر کھانے کا رواج ختم ہو تا جا رہا ہے ۔ کھانا اگر گھر میں بنتا بھی ہے تو ہر فرد اپنی ٹرے کمرے میں ہی منگوا کر کمرہ بند ہو جاتا ہے ۔ ورنہ ہوم ڈیلیوری زندہ باد ۔۔۔۔۔ گھر کے افراد کی شکل دیکھے ہفتہ ہفتہ بھر گزر جاتا ہے ۔ متوسط طبقے کے جن گھروں میں پہلے صرف ایک ملازمہ صفائی کے لیئے کافی سمجھی جاتی تھی باقی سارے کام خاتونِ خانہ بڑی خوش اسلوبی سے سنبھال لیتی تھی ۔ بہت سے دھندے دن چڑھنے کے ساتھ توجہ کے منتظر ہوتے ۔ اچھے اچھے گھرانوں میں ناشتے کے بعد ماسی صفائی ستھرائی سنبھالتی اور گھر کی خواتین سلائیاں ، کڑھائیاں اور بُنائیاں کھول لیتیں ۔ کبھی سردی کے بستروں کی ادھڑائی پنجائی ۔۔۔۔تو کبھی گرمی کے استقبال کو مچھردانیوں کی مرمت و دھلائی ۔۔۔ مگر اب تو ہر چیز ریڈی میڈ اور ڈسپوزل ایبل مل جاتی ہے ۔۔۔ سنبھال کی فکر نا دھلائی سنبھلائی کی ۔ پہلے گھروں سے سلائی کڑھائی کا کام رخصت ہو کر درزیوں کے حوالے ہوا سب ۔ اس میں بھی زلالت ہونے لگی کہ درزی سے لاکھ سر پھوڑ لو گھنٹہ گھنٹہ بھر ڈیزائن سمجھا لو وہ کرے گا اپنی مرضی ۔۔۔ سو بوتیکس زندہ باد ہو گئے ۔ ایک ہی طرح کے کئی رنگوں میں ڈیزائن کھڑے ہیں اٹھائیے اور کھال کھنچوا کے گھر آ جائیے ۔۔۔۔ مگر پرواہ کس کو ہے ۔ اب درمیانہ آ مدنی والے گھروں میں بھی وقت کی تنگی کے سبب کئی کئی ملازم کام کر رہے ہیں ۔ صفائی ستھرائی کے علاوہ کپڑے دھونے اور پریس کرنے کی ماسی الگ ہے ۔ کُک رکھنے کا رواج بڑی تیزی سے رائج ہو رہا ہے ۔ بچت کرنے کی عادت ختم ہو چکی ہر مہینے جتنا آ تا ہے اڑا دیا جاتا ہے ۔ کمانے والے کی کمر تھک کر دوہری ہوچکی ہے مگر گھر والے ڈو مور ڈومور کا چابک برسائے رکھتے ہیں بیچارے پر ۔۔۔
اس کے لیئے ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟؟؟ ۔۔۔
کیا بہتر نا ہوگا کہ ایف بی کے استعمال کے لیئے وقت مقرر کر لیاجائے ۔۔۔ خود بھی پابندی کی جائے اور افرادِ خانہ سے بھی کروائی جائے ۔۔۔ چوبیس گھنٹے کے بجائےمخصوص گھنٹوں میں نیٹ ورک آ ن کیا جائے ۔۔۔ جیسے کسی زمانے میں پورا گھرانہ پرائم ٹائم میں ٹیلی ڈرامہ دیکھا کرتا تھا اسی طرح ایف بی کا پرائم ٹائم اپنی اپنی سہولت کے مطابق اپنے گھروں میں سیٹ کر لیا جائے اور گھنٹہ دو گھنٹہ استعمال کے بعد دوبارہ آ ف کر کے اہلِ خانہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ آ ئیں ۔۔۔ مشکل تو ہے ناممکن نہیں ۔۔۔

ز ۔ م
12 اکتوبر 2018ء