لڑکی ۔۔۔۔۔

Zaara Mazhar_Pakistan

========
لڑکی ۔۔۔۔۔

جب مومو پیدا ہوئیں تو ہر آ نے والے نے ناک بھوں چڑھا کر کہا لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔۔۔ ہنہہ لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔۔ دادی نے ، تائی نے ، پھپھی نے ، چا چی ( جنہوں نے لڑکی تو کیا چڑیا کا بچہ بھی پیدا نہیں کیا تھا ) نے ۔۔۔ پھر ہر روز جتایا جاتا لڑکی ہے ۔۔۔ لڑکی ہے ۔۔ لڑکیوں کے اسکول میں داخلہ کروا دیا گیا ۔۔۔ باہر نا نکلا کرو لڑکی ہو ۔۔۔۔۔بڑی ہو گئی ہو دوپٹہ اوڑھا کرو ۔۔۔۔۔ کتنا دل چاہتا مومو کا کہیں پہلے بڑ ے تینوں بھائیوں کو بھی اوڑھائیں وہ تو ہم سے پہلے بڑے ہو گئے تھے ۔۔۔ مگر فوراً ہی اگلا جملہ کانوں میں ڈالا جاتا لڑکی ہو ۔۔۔ مومو نے چپ چاپ دوپٹے کی بُکل مار لی ۔۔ زبان مت چلاؤ لڑکی ذات ہو ۔۔ حالانکہ ان کا جی چاہتا کتر کتر زبان چلائیں جیسے پڑوس والی دادی چھالیہ کترتے وقت سروتا اور زبان ایک ساتھ چلاتی تھیں ۔ مگر انہوں نے تالو کے ساتھ سی لی ۔۔۔ گھر داری سیکھو لڑکی ہو ۔۔۔مومو کو بھائیوں کے ساتھ کنچے کھیلتے پتنگ اڑاتے اور کرکٹ کھیلتے ہوئے گھسیٹ لیا جاتا ۔۔۔۔ ڈور کی گچھیوں اور لوٹی ہوئی پتنگوں کو تیلی دکھا دی جاتی ۔۔۔ وہ چپ چاپ ستم سہتے ہوئے گھر داری سیکھنے لگتیں ۔۔۔ تم بہت زور سے قہقہے لگاتی ہو ہلکی آ واز رکھو لڑکی ہو ۔۔۔۔۔ گلی تک میں قہقہہ گونج رہا ہے ۔۔۔ گھر میں اور بھی لڑکیاں ہیں مگر تم جیسی دیدہ ہوائی کوئی اور نہیں ہے ۔ مومو نے حلق میں روک کر وہیں گھونٹ دئیے اپنے قہقہے ۔۔۔ تمہاری آ نکھیں شرم و حیا سے عاری ہیں نظر نیچی رکھ کر چلا کرو ۔۔۔۔۔ لڑکی ہو ۔ وہ اطاعت میں آ نکھیں بند رکھنے لگیں ۔۔۔ حالانکہ دل بغاوت کرنے کو چاہتا ۔ مومو نے نیچی نظر سے ماسٹرز کر لیا ۔۔۔ گولڈ میڈلسٹ ہو گئیں اپنے ہی کالج میں پڑھانے کی آ فر آ گئی مومو کی آ نکھیں جگمگانے لگیں ۔۔۔ نہیں جی نوکری نہیں کرنی لڑکی ہو ۔۔۔ بڑی بھاری ذمہ داری ہو ۔۔۔ آ نکھوں کی جوت ہی بجھ گئی ۔۔
اب تمہیں گھر سے رخصت کرنا ہے لڑکی ہو ۔۔ وہ چپ چاپ ڈولی میں بیٹھ گئیں ۔۔۔ حالانکہ بہت بار جی چاہا جیسے بھائی کو تصویریں دکھا دکھا کر لڑکی پسند کروائی جا رہی ہے ہمیں بھی لڑکوں کی سو پچاس دکھا کر کہیں پسند کر لو ۔۔۔ مگر انہیں وہ ایک چنیدہ بھی نا دکھائی گئی کہ لڑکی ہو ۔ کروڑوں بار یہ لفظ سننے کے بعد جب مومو نے طوعاً کرہاً اور جبراً خود کو انوکھی مخلوق( لڑکی) تسلیم کر لیا اور ڈولی میں بیٹھ کر جونہی سسرال میں قدم رکھا ۔۔۔ بہو بسم اللہ ۔۔ دہلیز میں تیل ڈالا گیا ۔۔۔ بھابھی دوسری طرف سے لہنگا سمنبھالیے نند نے ایک جانب سے چٹکی میں کونا پکڑا ۔۔۔۔دلہن چاچی کے شاتھ شونا ہے ۔۔ ایک باریک سی آ واز ۔۔۔ تو آ پ ہیں ہماری بیگم آ داب ۔۔۔۔ ایک شوخ سی جزبوں بھری آ واز ۔۔۔ پھر چیاؤں پیاؤں میں سے ایک واضح ہوتی مم مم کے ساتھ مما کی آ واز ۔۔۔


مومو کے کان مانوس ہوگئے لڑکی لڑکی کی گردان سے ۔۔۔ مگر اب کوئی لڑکی کہتا ہی نہیں تھا ۔ کبھی کبھار کوئی بزرگ سسرالی رشتہ دار لڑکی کہتا تو بہت اچھا لگنے لگا ۔۔۔ مگر ایسا موقعہ بہت ہی کم آ تا ۔۔
بیٹی تھوڑی بڑی ہوئی تو اسکی سہیلیاں آ نٹی کہنے لگیں انہوں نے برداشت کر لیا ۔۔بچے بڑے ہونے لگے ۔۔۔۔ تھوڑے اور بڑے ہوگئے تو انکے دوست بھی گھر میں آ نے جانے لگے ۔۔۔ آ نٹی کہنے لگے ۔۔۔ انہوں پھر جبراً ہی سہی برداشت کر لیا ۔۔۔ اب تو کان ہی ترس گئے ۔۔۔۔۔ وہ لڑکی کا لفظ ہی بھول گئیں ۔۔۔ کل اچانک چچا جان کا فون آ یا ۔۔۔ ابا تو رہے نہیں تب سے چچا نے از خود یہ فرض اپنے ذمہ کر رکھا تھا ۔۔۔ ہاں بھئی لڑکی کیسی ہو ۔۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔ ؟؟؟ ان لونڈوں نے تو کبھی مڑ کر خیر خبر دی نا لی ۔۔۔ چچا نے مومو سے تینوں بڑے بھائیوں کا نام لیا ۔۔۔ تم ہی ہو جو کبھی آ جاتی ہو کبھی فون پہ پوچھ لیتی ہو لڑکی ہو نا ۔۔۔ میرے داماد کی خیریت کی تفصیل دو ۔ تمہاری چچی بہت دنوں سے بیمار ہیں بہت یاد کرتی ہیں تمہیں انہوں نے ہی کہا فون کر کے پوچھو لڑکی ہے کس حال میں عرصہ ہی ہوگیا خیر خبر کو ۔۔۔ چچا اپنی کہے جارہے تھے ۔۔۔ لڑکی کے اندر مری ہوئی لڑکی زندہ ہونے لگی نین کٹورے آنسوؤں سے لبالب ڈب ڈب کرنے لگے ۔۔۔

ز ۔ م
17 اکتوبر 2018ء