محبت کی دو کلیاں اور اسلام آباد کی ایک خنک شام ۔۔۔۔

Zaara Mazhar
سمیرا امام‎.

محبت کی دو کلیاں اور اسلام آباد کی ایک خنک شام ۔۔۔۔

دو چھوٹے چھوٹے خوبصورت گلابوں کے بیچ سمیرا امام کا تروتازہ چہرہ ہمارے سامنے مسکرا رہا تھا ۔ ہم نے تو بس یہی پوچھا تھا سمیرا اسلام آباد میں کہاں رہتی ہیں آ پ ۔۔۔ اور سمیرا نے کوئی دوسری بات پوچھے بغیر صرف یہ کہا کہ وہ آ رہی ہیں ۔۔۔۔


یوں وہ حسین دوپہر بھر پور شام میں ڈھل گئی ہم نے تھوڑے سے وقت کو غنیمت جانا اور پہلی ملاقات والے تکلف کا احساس بیچ میں سے ڈانٹ کر بھگا دیا ۔۔۔ اگر تکلف کرتے تو وقت یونہی ختم ہو جاتا ۔ سمیرا مقامی گرلز کالج میں پڑھاتی ہیں جمعہ کا دن طے ہوا تھا ملاقات کے لیئے ۔۔۔ اور کالج سے فراغت کے بعد ڈیڑھ دو گھنٹے کا تھکا دینے والا سفر کر کے ہم تک پہنچی تھیں مگر چہرےکو دید کے شوق نے تازگی بخش رکھی تھی ۔ جانے کیوں ہمیں معطّر گلاب گلاب لگ رہی تھیں ۔ چہرہ ماہتابی لو دے رہا تھا کبھی کبھی آنکھوں میں اچانک جگنو اور ستارے سے دمک جاتے پھر انکی خوبصورت باتوں سے ہمارا کمرہ مہکنے لگا ۔ باہر پورے اسلام آباد کو پانچ اکتوبر کی ہلکی خنکی نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا مگر اندر کا ماحول ہمارے جوش کی وجہ سے اچھا خاصا حرارت آ میز تھا ۔ ہم قطرہ قطرہ پگھلتے رہے ۔ وقت کی سوئی بھاگتی سی محسوس ہوئی ۔ مگر ہم نے اسکی جانب پیٹھ پھیر لی ۔ اپنی بہت ساری خوبصورت لکھنے والی بہنوں کو مل کر ان کی تحریروں کے حوالے سے یاد کیا ۔۔۔ بہت باتیں تھیں جو ابھی کرنا تھیں مگر سمیرا کو کسی اور مہمان کو اپنے ساتھ تربیلا لے جانا تھا اتنی جلدی چھ بج گئے پتہ ہی نہیں چلا ۔ جاتے جاتے سمیرا ملاقات کی یادگار کے لیئے گلاب کی دو کلیاں ہمارے بیڈ پہ چھوڑ گئیں ۔ ہم محبتوں کے معاملے میں بہت خوش قسمت ہیں ۔ محبت کی یہ دونوں کلیاں ہمیشہ مہکتی رہیں اپنی خوشبو بکھیرتی رہیں آ مین ۔۔۔