مردانچہ ۔۔۔۔آ ج وہ تصویر سے باہر نکل کر لمحہ بھر کو میرے سامنے ہوئی تھی ۔۔۔

vaia – Zaara Mazhar
==============
مردانچہ ۔۔۔۔
تحریر ۔۔ زارا مظہر ۔۔۔۔

آ ج وہ تصویر سے باہر نکل کر لمحہ بھر کو میرے سامنے ہوئی تھی ۔۔۔ پھر ہوا کی طرح سرسراتی آ گے نکل گئی ۔ میں اسے دیکھ کر ششدر رہ گیا ۔۔۔ میں فیس بک کا معروف دانشور ۔۔۔ ہم دونوں تین مہینے سے میسنجر پہ روز بات کرتے تھے کبھی لکھ کر کبھی بول کر ۔۔ لکھ کر بات کرتی تو مجھے لگتا میسنجر پہ دور تلک موتی ہی موتی چھن کر کے گرے ہیں اور اب ٹپ ٹپ ٹپے کھا رہے ہیں یا ستاروں کی کہکشاں بکھری ہے میرا میسنجر سج جاتا ۔۔۔ مجھے وہ سچے موتی بہت سہج سہج کر اکٹھے کرنے پڑتے اسکی لکھی ہوئی کہکشاں پہ یوں قدم دھرتا جیسے اجرامِ فلکی کا نظام درہم برہم ہونے کا خدشہ ہو ۔ ہم ساری رات بات کرتے اور میں اسکے بکھرائے ہوئے سُروں میں بہتا رہتا بھیگتا رہتا ۔۔۔ اسکی گفتگو کا جلترنگ میرے کانوں میں بجتا رہتا ۔۔۔ بہت چنچل تھی وہ ۔۔ روز صبح شام اپنی ڈی بدل دیتی ۔۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک بھڑکتا ہوا شعر وال پہ چپکا دیتی ۔ یا کوئی ذومعنی بات ۔۔۔ ہزاروں پروانے دیوانہ وار کمنٹس کرتے ۔۔۔ وہ مڑ کر نا دیکھتی ۔۔۔۔۔
البتہ اسکی گفتگو سے مجھےکبھی نہیں لگا کہ وہ اتنی شوخ ہوگی ۔۔۔ مگر اسے چین نہیں تھا ادھر دیئے کی طرح ٹمٹما جاتی تو ادھر جگنو کی طرح چمکارا مار جاتی ۔ کبھی پھولوں کی طرح بھینی بھینی مہک اٹھتی ۔ تو کبھی بھانبھڑ مچا دیتی ۔۔۔ کبھی شعلہ لگتی کبھی شپنم ۔۔۔ آ خر یہ مدھر جام پی پی کر اور بھانبھڑوں میں مچ مچ کر میں بے تاب ہوگیا شعلہ جوالہ بن گیا ۔ ملنے پہ اصرار کرنے لگا ۔۔۔ وہ طرح دیتی رہی میں ناراضگی دکھانے لگا ملو ۔۔۔ ملو ۔۔۔ بس ملو ۔۔۔
کیا کرو گے مل کے ؟


لمبی سڑک پہ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر گھومیں گے ۔۔۔ بارش کے موٹے قطروں میں ۔۔۔۔بچتے ہوئے بھیگیں گے ۔۔۔ میں نے تصور میں رنگ بھرا ۔ اور اگر اس دن بارش نا ہوئی ؟ اسنے چاندی جیسے قہقہے کی جلترنگ بجائی ۔۔۔
اس دن ست رنگی بارش ہوگی تم دیکھ لینا ۔۔
جس ہوا میں تم گھل رہی ہوگی جس بارش میں تم بادل بن کے برس رہی ہوگی تمیاری شخصیت کے سارے رنگ اس بارش میں اتر آ ئیں گے ۔ میں قطرہ قطرہ رنگ چنوں گا ۔۔ رنگ اور رس الگ کروں گا ۔۔ آ خر اس نے بوجھل ہوتے ہوئے حامی بھر لی ۔۔۔ تم وائیٹ ڈریس پہن کر آنا رنگ تو تمہاری شخصیت سے ۔۔۔ تمہاری گفتگو سے نکال کر میں خود بھروں گا ۔۔ تم ایک گلابی سی بات کرو گی تو وہ اسٹروک لگ جا ئےگا ۔۔۔ پھر سنہرا پھر روپہلا ۔۔۔۔ پھر لال ۔۔۔ پھر ہرا ، نیلا ، پیلا ۔۔۔
اچھا اچھا ۔۔۔ اس نے ایک نقرئی قہقہہ سماعتوں میں انڈیل دیا ۔۔۔ اور آ ف لائین ہو گئی ۔۔
یوں آ ج اس ساونی صبح میں پارک میں تھا۔۔۔ اس کے بہت اصرار پر میں نے اسے اپنی کوئی نشانی نہیں بتائی ۔۔۔
سفید رنگ میں میں نے اسے دور سے آ تے دیکھ لیا ۔۔۔ دائیں بائیں لوگ گردنیں گھما گھما کر دیکھ رہے تھے نظریں اس کے قدموں میں بچھ بچھ جا رہی تھیں جوں جوں قریب آ تی گئ میں مشکل میں پڑتا گیا ۔۔۔ بہت خوبصورت تھی سنگِ مرمر جیسی مگر جو شخصیت میں نے اسکی باتوں سے ڈھالی تھی وہ اس کے برعکس تھی میں اوٹ میں ہوگیا وہ نامعلوم انداز میں تلاشتی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی آ رہی تھی اس کے قریب آ نے تک میرے تصور کا شیش محل ایک چھناکے سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا ۔۔۔وہ الجھی الجھی سی گزر گئی ۔۔۔۔ وہ ویسی بالکل نہیں تھی جیسا میں سمجھتا رہا تھا ۔۔ بلاشبہ لاکھوں نہیں تو ہزاروں میں ایک ضرور تھی مگر میرے پیمانے کی نہیں تھی ۔۔۔ میرا ایک دن ۔۔۔ پورا ایک دن اور تین مہینے برباد ہو گئے تھے میں شدید تر احساسِ زیاں سے مغلوب ہو کر گھر لوٹ آ یا اور فیس بک کھول کر پینڈنگ ریکویسٹس دیکھنے لگا