مزہب کا سب سے پہلا حملہ عورت کے وجود، اس کی آزادی پر ہوتا ہیے

Arshad Mahmood
===============
Secularism is a Women’s Issue

مزہب کا سب سے پہلا حملہ عورت کے وجود، اس کی آزادی، اس کی شخصیت، اس کی روح ، اس کے دماغ پر ہوتا ہیے۔ مذہب کو سب سے زیادہ ‘خطرہ’ عورت کی ذات سے ہے، عورت کی آزادی میں مذہب کی فنا مضمر ہوتی ہے۔ عورت آزاد ہو جائے مذہب کہیں کا نہیں رہتا۔ چنانچہ مذہب سب سے پہلے عورت کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسے مطیع بناتا ہے ، چادر اور چار (کپڑوں کی بوری میں ) دیواری میں مقید کرتا ہے۔ مرد کی زیر حکمرانی کرتا ہے۔ پورے مرد کا حق بھی عورت سے چھین لیا جاتا ہے۔ ہمارے مذہب میں تو عورت کو ایک چوتھائی مرد کا حق دیا گیا ہے۔ اس نے باقی تین میں بھی شیئر ہونا ہے۔ ملائیت کو احساس ہوتا ہے کہ عورت پر قابو کئے بغیر ان کا ایجنڈا آگے نہیں بڑھ سکتا۔۔ کیونکہ عورت قابو میں آگئی تو پوری فیملی اور اگلی نسل بھی ہاتھ آگئی۔۔ عورت ہی سب سے زیادہ کنزرویٹو اور عقیدہ پرست بن جاتی ہے۔۔ کیونکہ اس کے پاس مذہب کے علاوہ کوئی علمی، زہنی، تفریحی سرگرمی رہ ہی کوئی نہیں جاتی۔۔

اس لئے سیکولرازم کا حصول عورت زات کا اصل ایشو بنتا ہے۔۔ سیکولرازم ایک ایسا سماجی نظم ہے ، جس میں مذہب آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس سے دوسروں کو کنٹرول کرنا انہیں پھانسنا، مجبور کرنا ممنوع ہوتا ہے۔ عورت ملائیت کے اثرات سے آزاد ہوئے بغیر انسانی حثیت نہیں پا سکتی۔۔ وہ سماج، ریاست اور مرد کی ملکیت ہی رہتی ہے۔۔

Arshad Mahmood
============
کسی ملک کی آزادی اور خودمختاری کا کوئی مطلب باقی نہیں رہ جاتا‘ اگر اس کے اپنے باسیوں کے پھلنے پھولنے کے امکانات سلب ہوجائیں۔ زندگی کی سلامتی اس لیے چاہی جاتی ہے کہ زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارا جا سکے‘ لیکن اگر ’’سلامتی‘‘ کا مطلب گھٹ گھٹ کر جینا ہو تو ایسی سلامتی محض فریب بن کر رہ جائے گی‘ لہٰذا ہمیں سب سے بڑا مسئلہ ’’سلامتی‘‘ کو نہیں ’’ترقی‘‘ کو بنانا چاہیے اور سلامتی کا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ قوم کی ترقی کے اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ کروڑوں لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کی خوشحالی سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اور ہم نے اسے مشروط کر رکھا ہے کہ جب تک ہمسایہ ملک کے قبضے سے ایک چھوٹے سے رقبے پر مشتمل علاقہ ہمارے ساتھ آ نہیں ملتا۔ اس علاقے میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا قومی وسائل کا خطیر حصہ دفاع کے لیے مختص رہے گا۔ پچھلے پچاس سال کا تجربہ و مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہ صورت حال آگے کی کئی نصف صدیاں مزید کھاجائے گی۔ کیا یہ اس ملک کے ساتھ ظالمانہ مذاق نہیں جسے اتنی بڑی قربانیوں سے حاصل کیا گیا کہ اس کی تعمیر و ترقی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے موخر کرنے کا اعلان کر دیا جائے اور اس پر معاشرے کے تمام طبقے تالی بجانے پر مجبور ہوں کہ اس کا نام حب الوطنی ہے

میری کتاب: تعلیم اور ہماری قومی الجھنیں