نانا پاٹیکر سمیت چار فلمی شخصیات کے خلاف جنسی ہراس کا مقدمہ درج

بالی وڈ اداکارہ تنوشری دتہ کی درخواست پر ممبئی کی پولیس نے مشہور اداکار نانا پاٹیکر سمیت بالی وڈ کی چار شخصیات کے خلاف جنسی ہراس کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

فوجداری قوانین کی شق 354 اور 509 کے تحت نانا پاٹیکر کے علاوہ جن دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں ڈانس ڈائریکٹر گنیش اچاریا، فلم ڈائریکر راکیش سارنگ اور پرودڈیوسر سمیع صدیقی شامل ہیں۔

یہ چاروں افراد ‘ہارن او کے’ کے نام سے سنہ 2008 میں بننے والی فلم کا حصہ تھے جس میں تنوشری دتہ پر ایک گانا ریکارڈ کیا گیا جس کے بارے میں تنوشری کا موقف ہے کہ اس گانے کے کچھ مناظر فلمبند کرانے میں ان کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ .

تنوشری دتہ اس سے پہلے بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ نانا پاٹیکر کا مطالبہ یہ تھا کہ اس گانے میں کچھ ایسے مناظر شامل ہونا چاہئیں جن میں تنوشری کو نانا پاٹیکر کے ساتھ جسمانی قربت دکھانی چاہیے۔ .

تنوشری کا کہنا ہے کہ ان کے انکار کے باوجود ڈانس میں ایسے مناظر شامل کیے گئے۔ مذکورہ ڈانس کی فلم بندی کے بعد ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے خبریں بھی شائع ہوئی تھیں، تاہم نانا پاٹیکر تنوشری کے الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ .

اپنی حالیہ شکایت میں تنوشری دتہ کا کہنا ہے کہ اصل میں مذکورہ گانا اکیلے ان پر فلمایا جانا تھا اور یہ بھی طے ہوا تھا کہ ان کے ڈانس میں کوئی فحش، لچر یا ایسے مناظر شامل نہیں ہوں گے جنھیں فلمبند کراتے ہوئے انھیں ناگواری ہو۔ .

یہ واقعہ چار مارچ سنہ 2008 کو ممبئی کے فلمستان اسٹوڈیوز نمبر تین میں پیش آیا تھا۔ .

تنوشری دتہ نے پولیس میں جو درخواست دی ہے اس میں ان کا کہنا ہے کہ اس دن ‘جب شوٹنگ ہو رہی تھی تو میرے ساتھ نانا پاٹیکر کا رویہ نامناسب تھا۔ گانے میں ان کا کام ختم ہو چکا تھا، لیکن اس کے باجود وہ فلم کے سیٹ پر موجود تھے اور ڈانس سکھانے کے بہانے وہ کبھی مجھے میرے بازؤوں سے پکڑ رہے تھے اور کبھی ادھر ادھر دھکیل رہے تھے۔’ .

تنوشری دتہ کا مزید کہنا ہے کہ انھوں نے پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور کوریو گرافر سے بھی شکایت کی تھی۔ اور ‘پھر جب مجھے میری وین سے دوبارہ ریہرسل کے لیے بلایا گیا تو کوریوگرافر گنیش اچاریا نے بتایا کہ ڈانس میں کچھ ایسے نئے سٹیپس کا اضافہ کر دیا گیا ہے جن میں جسمانی قربت دکھائی جائے گی اور نانا پاٹیکر مجھے غیرمناسب انداز میں سے ہاتھ بھی لگائیں گے۔’ .

اپنی تازہ ترین درخواست میں تنوشری نے اپنی پہلی ایف آئی آر کا بھی حوالہ دیا ہے جو انھوں نے دس سال پہلے درج کرائی تھی جس پر ان کے بقول کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ .

دوسری جانب انڈیا میں ہیش ٹیگ می ٹُو کے تحت جاری جنسی ہراس کے خلاف مہم کے تناظر میں معروف ادکار اور پروڈیوسر عامر خان اور ان کی اہلیہ پروڈیوسر کرن راؤ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ‘ جنسی ہراس کے کسی بھی فعل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔’ .

یاد رہے کہ یہ دونوں میاں بیوی ‘عامر خان پروڈکشنز’ کے نام سے کمپنی چلاتے ہیں اور انھوں نے خود کو اُس فلم سے الگ کر لیا جس میں شامل ‘ایک شخص’ پر نامناسب جنسی رویہ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ .

عامر خان اور کرن راؤ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘دو ہفتے پہلے جب ‘ہیش ٹیگ می ٹُو’ کے سلسلے میں ہولناک کہانیاں سامنے آنا شروع ہوئیں، تو ہمیں بتایا گیا کہ ایک ایسا شخص جس کے ساتھ ہم ایک نیا فلمی منصوبہ شروع کرنے والے تھے، اس پر غیر مناسب جنسی رویے کا الزام ہے۔ جب ہم نے اس معاملے کی تفتیش کی تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور اس پر قانونی چارہ جوئی ہو رہی ہے۔’ .

Getty Images . ممبئی میں خواتین نے تنوشری دتہ کے حق میں مظاہرہ بھی کیا ہے .
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘ہم نہ تو کوئی تفتیشی ادارہ ہیں اور نہ ہم کسی شخص کے بارے میں کوئی رائے دے سکتے ہیں کیونکہ یہ کام پولیس اور عدالتوں کا ہے۔ اس لیے مقدمے میں شامل کسی بھی فرد پر کسی قسم کی تہمت لگائے بغیر ہم نے اس فلم سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔’ .

اگرچہ عامر خان اور کرن راؤ نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن ان کے بیان کے جاری ہونے کے فوراً بعد مصنف و ہدائتکار سبھاش کپور نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ عامر اور کرن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ سبھاش کپور نے ‘عامر خان پروڈکشنز’ کی ایک فلم کی ہدایت کاری کرنا تھی جو انڈیا کی میوزک انڈسٹری کی معروف شخصیت گلشن کمار کی زندگی کے بارے میں ہو گی۔ .

ایک ٹوئٹ میں سبھاش کپور کا کہنا تھا ‘چونکہ معاملے عدالت میں ہے اس لیے میری خواہش ہے کہ اپنی بے گناہی بھی عدالت میں ہی ثابت کروں۔ تاہم میں ایک سوال ضرور اٹھانا چاہوں گا۔ آیا کسی روتی ہوئی خاتون کی اجازت اور اُس کے جانے بغیر اس کی فلم بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا ہراساں کرنے کے مترادف نہیں؟ (یا آپ کے خیال میں) چونکہ اس خاتون کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جس پر نامناسب رویے کا ‘الزام’ ہے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو میرے خیال میں یہ بات کھاپ پنچائتی ذہنیت سے کم نہیں ہے۔’ .

source: .bbc.com/urdu