پاپوش ۔۔۔۔۔ ہمارے پاس بھی ویسے ہی باعزت سے پاپوش ہونے چاہئیں ۔۔۔

Zaara Mazhar
============
پاپوش ۔۔۔۔۔
تحریر زارا مظہر ۔۔۔۔

بچپن میں ایک دفعہ کسی اخباری تراشے میں پاپوش کے بارے میں پڑھا ۔۔۔جوتوں کا لکھنوی سا باعزت نام ہمیں بہت پسند آ یا ورنہ تو ہر کوئی پیر کی جوتی ہی سمجھتا اور جوتے کی نوک پہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔ پلنگ پوش ، خوان پوش ، سر پوش اور ٹرے پوش کتنے ہی پوش تو گھر میں مستعمل تھے اور بڑی عزت سے دھو دھلا کر بوقتِ ضرورت استعمال کئے جاتے تھے ۔ لگن لگ گئی کہ ہمارے پاس بھی ویسے ہی باعزت سے پاپوش ہونے چاہئیں ۔۔۔ باقی سب بہن بھائی بھلے جوتے ہے پہنتے رہیں ۔ اس زمانے میں چیزیں ایسی قابلِ رسائی نا تھیں اور نا ماں باپ اتنے فرمانبردار کہ اسی وقت فرمائش پوری کرنے کے لیئے بازار چل پڑتے ۔۔۔ بات منوانے کے لئے سو سو حیلے اور جتن کرنے پڑتے ۔ اس پاپوش کے محاسن میں جو نمایاں خوبی تھی وہ یہ بیان کی گئی تھی کہ گھر ہو یا دفتر ، اسکول ہو کہ کالج ، سفر ہو یا حضر ، بارش ہو یا کیچڑ ۔۔۔ بس ایک ہی پاپوش پہن کر ہر جگہ جایا جا سکتا ہے ۔۔ اسکی گرمی ، نرمی اور صفائی ستھرائی اور احتیاط کے لیئے کوئی سر دردی نہیں اور مزید یہ کہ اب ایسے پاپوش پاکستان میں بھی آ سانی سے دستیاب ہیں ۔ ہمارا من خوشی سے بے تاب ہو گیا کہ ہمارا موجودہ گھریلو سینڈل کب ٹوٹے اور کب ہم بازار سے نیا پاپوش خرید سکیں ۔ اس دور میں باٹا کے جوتے مضبوطی کے لیئے ایک کوالٹی نام تھا اور ہماری سینڈلیں وہیں سے آ تی تھیں ۔ اب جب تک وہ ٹوٹ نا جاتیں نیا جوتا ملنا محال تھا ۔۔۔۔ خیر ہم نے ترکیبیں لڑانی شروع کر دیں کہ موجودہ گڑ کے سے رنگ کی چپل سے جان چھوٹے تو خوش رنگ پاپوشیں لے آ ئیں ۔۔۔ بڑے بھائی جان نے نئی نئی شیو شروع کی تھی ان کے گِن گِن کے رکھے ٹریٹ بلیڈ پیکٹ سے ایک بلیڈ نتائج سے بے پرواہ ہو کے چرایاور چپل کے گلےپر پھیر دیا اپنی انگلیاں بھی زخمی ہوئیں مگر ہم برداشت کر گئے ۔۔۔ اب امّاں کی سرکار میں پہنچے اور مرحومہ کے ساتھ جائے وقوعہ بھی دکھائی ۔۔۔ انہوں نے ہاتھ میں لیکر بنظرِ غائیر جائزہ لیا اور اس قتل کی واردات کو ہم سے ایک نمبر بڑے بھائی کی انتقامی کاروائی قرار دیا ۔۔۔ مزید براں انہوں نے باٹا کمپنی کے فراڈیا اور جھوٹا ہونے پہ کم اور ہماری کھلنڈری ، لاپرواہ اور لڑاکا طبیعت پر زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک طویل لیکچر دیا کہ انکے جوتے تو سال بھر سے پہلے نا ٹوٹنے کی گارنٹی ہے ۔۔ اور جو جوتا ، چپل نا ٹوٹے وہ تمہارے پیروں کے حوالے کر دی جائے تو اس جوتے کی سلامتی کی خیر نہیں ۔ اور یہ بھی کہ بھائی کے ساتھ۔مل کر لڑکوں والے کھیل کھیل کر اور اسے ہرا کر کیوں جھگڑے مول لیتی ہو ۔ چھریاں کانٹے اگے ہیں تمہارے جسم پر اور زبان پر ۔ ساتھ ہی ساتھ شام کو بازار چلنے کا عندیہ دے دیا ۔۔۔ ہمیں مارے خوشی کے بے چینی لگ گئی ۔ ساری دوپہر ٹی وی پہ چلنے والے باٹا کے نئے شوخ اشتہار کھلی آ نکھوں کے سپنے بن کے دِکھتے رہے اور لمحہ لمحہ گننے کے بعد شام سہانی آ گئی ہم باٹا سے اپنے پسندیدہ سینڈل بنام sandak لال رنگ میں خرید کر بہت خوش تھے سینڈل ہر جوڑے کے ساتھ سج جاتی اور ہم بھی ہر وقت نک سک سے درست نظر آ تے ۔۔ بس ایک مشکل تھی کہ لال رنگی ہونے کے سبب اسکول پہن کی نہیں جا سکتے تھے ۔ ورنہ اسی سے درختوں پہ چڑھ جاتے ۔ حویلی کی باؤنڈری ٹاپ لیتے اور بھائیوں سے ریس جیت لیتے ۔ پیروں کو بالکل تکلیف نا ہوتی ۔ اکثر تو پہنے پہنے ہی سو جاتے ۔ سینڈل کی خوبی تھی کہ پیروں کی ہڈی اور کھال کے ساتھ مڑ جاتی سو ٹوٹنے سے بھی بچی رہتی ۔ ۔ سینڈل کو روز ایک دفعہ برش ، سرف سے دھو لیتے تو وہ پاپوش بیر بہوٹی کی شکل اختیار کر لیتی یوں لگتا ابھی نئی خریدی ہے ۔۔۔ کمرے کا فرش ہوتا ، سیڑھیاں یا صحن کچھ دن تو ہم سہج سہج نزاکت سے چلتے رہے جیسے فرش کانچ کے بنے ہوں یا چلنے سے دکھتے ہوں ۔ ہم بادِ صبا کی مانند پھولوں کی پتیوں پہ چلتے یعنی بقول شاعر

قدم گن گن کے رکھتے ہیں کمر بل کھا ہی جاتی ہے
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت ا ہی جاتی ہے ۔۔۔۔

اماں کو ہماری ہبڑ دبڑ طبیعت میں ٹہراؤ بہت پسند آ یا انہوں نے کہا اب یہ پاپوش دو سال کہیں نہیں جاتی ۔۔۔ اور ایسا ہی ہوا ۔۔۔ ہمارا قومی نشان ہی ریڈ شوز بن گیا ۔۔۔ ہمارے پٹھانی مزاج بھائی ہمارے یوں سلو موشن میں چلنے سے چڑنے لگے ہمیں Red shoes اسٹوری پورے صوتی آ ہنگ اور اپنے بارہ مصالحوں کے ساتھ سناتے ۔۔۔جب فرشتے نے لڑکی کے ناچنے والے ریڈ شوز سمیت اسکے پاؤں کاٹ دیئے ۔۔۔ جوتے تب بھی دیوانہ وار ڈانس کرتے ہوئے دور ملگجے کھیتوں میں اوجھل ہو گئے ۔ اسکے انجام سے خوفزدہ ہو کے ہمارا دل بجھ گیا اور پھر آ خر کار ان سے بھر گیا ۔۔۔ پتہ نہیں کسی کو دے دی یا پھینک دی گئی کچھ یاد نہیں ۔۔۔ کئی نشیب و فراز آ ئے برسوں گزر گئے وقت پہ زمانوں کی گرد پڑ گئی ۔۔۔ ہم بڑے سے بہت بڑ ے ہو گئے بہت کچھ بدل گیا ۔۔۔۔ ہر چیز کے کئی کئی برانڈز متعارف ہو گئے کئی طرح کے جوتے مختلف دعوؤں کے ساتھ مارکیٹ میں ملنے لگے ۔۔۔ تھائی لینڈ اور سری لنکن جوتوں نے بھی کوالٹی اور مناسب قیمت میں بڑا نام کیا ۔۔ برانڈڈ جوتے قابلِ رسائی رہنے لگے ۔۔۔ عام خواتین کی طرح ہم بھی جوتوں کپڑوں کے کریز میں مبتلا ہیں ۔۔۔ مارکیٹ جانا ہو اور ضرورت نا بھی ہو تو آ ؤٹ لیٹس میں کوئی نئی آ ئٹم ملنے کے شوق میں جھاتی مار لیتے ہیں ۔۔۔ کوئی چار سال پہلے stylo سے سیزن کے جوتے خریدتے ہوئے ایک اورنج کلر اسٹائلش سی پاپوش نظر آ ئیں سیلز مین نے ہزاروں ہی محاسن گنوا دئیے ۔۔۔ اچانک ہمیں اپنے بچپن کا وہ جنون یاد آ گیا اور ضرورت نا ہونے کے باوجود ہم نے وہ ہاف سلیپرز بھی خرید لیئے ۔۔ عام سے باتھ سلیپر تھے ۔۔مگر ان کے اوپر سجا پھول ہمارا دل لے گیا( ہمیں پھولوں والے جوتے بے پناہ پسند ہیں ) انتہائی آ رام دہ ۔۔۔ پہن کر یوں لگتا جیسے ہواؤں میں اڑ رہے ہوں ۔۔ یا فضاؤں میں تیر رہے ہوں ۔۔ کہیں کبھی پڑھا تھا آ رام دہ جوتوں میں طبیعت سرشار رہتی ہے واقعی درست ثابت ہو رہا تھا ۔ اتنا مزہ آ نے لگا کہ پچپن میں ۔۔۔۔ بچپن میں جینے لگے( ہم پچپن کے ہرگز نہیں ہیں بچپن کو متوازن کرنے کے لیئے لکھ بیٹھے ہیں ) بھائی کے ڈائیلاگ صوتی آ ہنگ کے ساتھ کانوں میں بجتے رہتے ہم سدا کے ماضی پرست ۔۔۔ لبوں پہ مسکراہٹ کچھ یوں جمی رہتی کہ کئی بار صاحب بھی مشکوک ہو کر آ گے پیچھے دیکھتے ۔۔۔۔ جیسے ہم جنات کے زیرِ اثر آ گئے ہوں ۔
ہم باہر ۔۔۔۔ دور و نزدیک جہاں بھی جانے لگتے جوتا ہم سے پہلے گاڑی میں موجود ہوتا ۔ لمبے لمبے اسفار میں پاؤں بڑے آ رام سے رہتے ۔ اس پاپوش کی بھی یہ خوبی اولٰی رہی کہ ہر جوڑے کے ساتھ سج جاتی ۔۔ ایک روز دائیں پیر کا پھول باغبانی کرتے ہوئے جانے کیسے جھڑ گیا ہم لا علم رہے ۔۔۔ میڈ لمبے صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی ہمارا دھیان اچانک لاؤنج کے قدِ آ دم شیشے سے پھسلتا ہوا سینڈل پہ گیا اور ہمیں ایک صدمے سے دو چار کر گیا جھڑے پھول والی سوفٹی بہت بری لگ رہی تھی یوں جیسے بے بال و پَر کا آ لنے سے گرا بوٹ ۔۔۔ باہر بھاگے ابھی کوڑا سمیٹا گیا تھا پھینکا نہیں تھا جوزفین( دو روز قبل رکھی۔جانے والی عارضی ملازمہ ) نے ہماری سراسیمگی دیکھ کر سمجھا شائد سونے کا کوئی پھول تھا ہم نے دوسرا جوتا دکھا کر جرح کی اس نے کہا ہاں ابھی تو کوڑے میں بھاگتا پھر رہا تھا ۔۔۔ ہم نے پوری باسکٹ الٹوا لی پھول کہیں نہیں تھا گنجی سی سوفٹی جسے ہم بڑے چاؤ سے پاپوش کہا کرتے تھے بہت بری لگ رہی تھی دل بری طرح ٹوٹا تلاش کرتے کرتے اچانک لان کی جانب نظر اٹھی ایک کوّا اسے بوٹی سمجھ کر بھنمبھوڑ رہا تھا ہمارے بھاگنے پہ چھوڑ کے اڑ گیا ہم نے جھپٹ کر سنبھالااور صمد سے کس کے جوتے پہ جما دیا ۔۔۔ خیر یونہی گھومتے گھامتے گرمی آ گئی اور ہم نے اپنی عادت کے مطابق بے موسمے جوتے دھوئے ۔۔۔۔ باقی صاف ستھرے کیئے اور سنبھال دیئے اسٹور کی الماری میں ۔۔۔ انہی دنوں شمالی علاقہ جات کی سیر پہ نکلنے کا موقعہ ملا جوگرز اور پمپس رکھتے وقت دھیان میں جھیلیں اور دریا تھے سو یہ بھی رکھ لیے ۔۔۔۔۔اور اچھا ہی کیا سیف الملوک میں اترنے کا مرحلہ آ یا تو ہینڈ بیگ میں شاپر میں لپٹی یہی پاپوش ہمارے کام آ ئیں ۔۔۔ آ بشاروں کے نیچے گھسے یا دریائے کنہار میں پیر ڈبونے کی خواہش ہوئی تو یہی بہترین رہے ۔۔۔ جوتے تو بہت خوش وضع و خوش رنگ تھے مگر ان کا پھول گیلا ہونے سے جھڑ جاتا یہ نقص کئی بار گیلا ہونے پہ ہمارے علم میں آ یا حالانکہ جوتے ربڑ کے تھے۔۔۔ کسی ایلفی ، صمد بانڈ میجک اسٹون ، فیبی کون سے وقتی طور پر جڑ جاتا مگر گیلا ہونے پہ پھر جھڑ جاتا ۔ پاپوش کی ساری خوشوضعگی اس پھول میں تھی ۔۔۔ جیسے جن کی جان طوطے میں ہوتی ہے ۔ اتفاق ایسا کہ دائیں پیر والا پھول ہر بار گھر یا گاڑی میں گر جاتا ۔۔
اس روز ہم بڑے انہماک سے سیف الملوک کی فوٹو گرافی میں مصروف تھے ۔۔( ہمارا ایک جنونی شوق ) قدرت بھی بڑی مہربان رہی جھیل کی تصاویر لینے کے دوران سورج اور بادل کی آ نکھ مچولی کچھ یوں رہی کہ ہم کچھ نا قابلِ فراموش شاہکار اپنے کیمرے میں بند کر نے میں کامیاب ہو گئے ۔۔۔ جب پل کراس کرکے پہاڑی اترائی سے میدان کی طرف ہوئے تو نظر پاپوش پر گئی اور اس دائیں پیر کے پھول کو پھر غائب پاکر ہم نے جھٹکا کھا لیا ۔۔۔ شکر ہے غش نہیں آ گیا ورنہ غرقاب ہو جاتے ۔۔۔ صاحب کی گھوریوں کے باوجود واپسی کی دوڑ لگا دی اور اپنی اولاد کی تین رکنی ٹیم کے حوالے ایک ایک سمت کر کے چوتھی سمت پہ اپنی عقابی نگاہیں گاڑ دیں ۔۔۔ شکر ہے عمر کے ایک نعرۂ مستانہ کے ساتھ گم گشتہ پھول مٹی میں مسلا ہوا مل گیا ۔۔۔۔۔ ہم نے جلدی سے جھپٹ کر قیمتی اثاثے کی مانند پرس کی زپ والی جیب میں بند کیا اور طمانیت بھرا سانس لیا ۔۔۔ اس بار گھر آ کے ہم نے جوتے اور پھول کے معاملے پر ایک ماہرانہ رائے کے لیئے کالونی کے واحد سن رسیدہ موچی سے مشورہ لیا تو اس اس بزرگِ سن رسیدہ نے انتہائی معاندانہ و عمیق جائزے کے بعد بتایا ۔۔۔۔ بی بی یہ پھول کسی چِپکو سے نہیں تندی کے ٹانکے سے ٹِکے گا ۔۔۔ ہم دس پندرہ منٹ مزید گفت وشنید کے ذریعے یہ اطمینان کرتے رہے کہ جوتے کی خوبصورتی اور نزاکت پر تو کوئی آ نچ نہیں آ ئے گی ۔۔ خدانخواستہ بعد سرجری ٹانکے یا نشان تو نظر نہیں آ ئیں گے ان کی یقین دہانی پر ہم نے جوتا ان کے حوالے کیا اور دونوں پھولوں پر ٹانکے اپنے سامنے لگوانے پر اصرار کیا ۔ ہماری اتنی جرح کے بعد ان پیر بزرگ کو یقین ہو گیا کہ آ ج میرے فن کی صحیح قدر دان ملی ہے سو انہوں نے بڑی نفاست اور باریکی سے پھول کو ماترے کی طرح ایک ایک ٹانکا لگا کر پانچ سیکنڈ میں ہماری قیمتی اور دلاری پاپوشیں ہمارے حوالے کر دیں ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیے آ ج چوتھے سال بھی پوری تب و تاب سے ہمارے ساتھ ہیں ۔۔۔