ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی خدمات سن کر جج حیران رہ گیا

Mutiur Rahman Aziz

============
ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی خدمات سن کر جج حیران رہ گیا

تحریر ….9911853902…. مطیع الرحمن عزیز

گزشتہ دنوں کچھ سازش کنندگان ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو حیدر آباد پولس کے ذریعہ جیل بھیج کر شاطر اور شدت پسند عناصر یہ سمجھ رہے تھے کہ ڈاکٹر نوہیراشیخ کو ڈرا لیں گے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ جیسے کنہیا کمار کو گرفتار کیا تو وہ ملک کے پچاس کروڑ نوجوانوں کا ہیرو بن گیا۔ اروند کجریوال کو گرفتارکیا گیا تو وہ دہلی کا وزیر اعلیٰ بن کر تمام ملک اور دنیا والوں کے لئے مثال بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے تعلق سے سننے اور جاننے والے ملک کے لاکھوں کروڑوں افراد نے اس بات کا مشاہدہ اپنی کھلی آنکھوں سے کیا کہ کس طرح سے کوئی سرکش درندہ صفت بھیڑیا ایک مظلوم کو اس کے خواب اور خدمت سے دور کردینا چاہتا ہے۔ اپنی گندی سیاست کو بچانے کیلئے ظلم کا سہارا لینا کہاں تک کوئی نیچ نام نہاد لیڈر اپنی عصمت دری کے مجرم فوجیوں کے ساتھ جا سکتا ہے اس کا بھی مشاہدہ ملک بھر کے افراد نے بہت ہوش وحواش سے کیا ہے۔ ملک بھر کے کروڑہا کروڑ مسلمانوں کی نگاہ حیدر آباد کی اس عدالت کی طرف لگی ہوئی تھی جس میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی طرف سے سپریم کورٹ کے وکیل ونیت جی متعین تھے ، تو دوسری جانب اسی مکروہ چہرے والے لیڈر کے پیسے اور غلط کاروں کے چندے سے مہیا کئے گئے وکیل سڑی گلی بدبو دار لاش کی طرح اپنی ٹوٹی پھوٹی جھوٹی زبان میں عدالت سے بار بار اسی بات کی رٹ لگائے ہوئے تھے محترم جج صاحب ”ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو ضمانت نہ دی جائے“ ۔ ساتھ ہی ساتھ ان بدخواہ وکیلوں کے سر میں سر ملائے ہوئے حیدرآباد کی پولس ٹیم بھی اپنی کھسیانی سی دلیل لے کر منمنانے کا کام کر رہی تھی ۔ لہذا ہوا وہی جس کا تمام ملک بھر کے با شعور مسلمانوں کو امید تھی۔ وہی ہوا جس کے لئے ملک بھر کی سیکڑوں مسجدوں اور مدرسوں نیز گھروں میں فجر سے عشاءتک ہر نماز میں دعائیں کی جا رہی تھیں۔ دعائیں کی جا رہی تھیں کہ ” اے اللہ ہماری آپا کو رسوا نہ ہونے دینا کیونکہ یہ ہندستان کی وہ چراغ ہیں جس کے بجھنے کے بعد اس صدی میں کوئی اس قدر غریبوں سے محبت ، مسکینوں سے رواداری اور مفلوک الحال کا دوست ملنے والا مشکل ہے “ ۔ اللہ نے لاکھوں گھروں اور کروڑوں افراد کی دعائیں سنی اور میرے مطابق ایک چمکتے ہوئے ستارے سے ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو دمکتا ہوا سورج وماہتاب بنا دیا۔

دونوں وکیلوں اور پولس کے اپنے اپنے دعوے سننے کے بعد جج صاحب نے ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی طرف دیکھا اور کہا کہ بہن آپ کی خدمت کو ہم فراموش نہیں ہونے دیں گے۔ آپ وہ شخصیت ہیں جس کا حیدر آباد کی سرزمین پر زندگی بسر کرنا ایک خوش نصیبی سے کم نہیں ہوگا۔ عزت مآب جج صاحب نے سب سے زیادہ سوال پولس سے کیا اور پولس کی منشا پر شک کا اظہار کرتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں ایک سمت اطمینان سے بیٹھ جانے کو کہا۔ دوسری جانب اچھل اچھل کر اپنی زبردستی کی دلیل پیش کر رہے دعوے دار وکیل کو بھی خاموش رہنے کی تلقین کی گئی۔ اب باری دفاعی وکیل سپریم کورٹ جناب ونیت جی کی تھی۔عزت مآب جناب جج صاحب نے ونیت جی سے سوال کیا کہ کیا ہیرا گروپ آف کمپنی اس سے قبل کسی کو فائدہ دے چکی ہے۔ جس پر جناب ونیت جی نے تین ہزار صفحات پر مکمل دستاویزات جج صاحب کے سامنے پیش کر دیا۔ جسے جج صاحب نے بغور دیکھا۔ اور افسوس کا اظہار کیا کہ واقعی یہ ایک مثالی کردار ہے جس میں کسی کمپنی نے مسلسل پرافٹ ہی دیا ہے۔ ہمیں قربان جانا چاہئے ایسی کمپنی پر ۔ اگر اسی طرح کی سو کمپنیاں ملک میں قائم ہو جائیں تو ملک سے غریبی کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے گا۔

اس درمیان شرپسند عناصر کی جانب سے متعین وکیل نے ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی کمپنی کا قیام 2008 میں ہونے اور دس سال کے عرصے میں انٹر نیشنل پیمانے پراتنی زیادہ ترقی کرنے پر اعتراض ظاہر کیا۔ جس پر عزت مآب جج صاحب غصے میں آگئے ۔ اور جوشیلے انداز میں ملک کی چار کمپنیوں کے نام گناتے ہوئے کہاکہ فلاں فلاں ملک میں قائم کمپنی بھی تھوڑے عرصے میں زیادہ ترقی کر گئی ہے۔ تو کیا تمہارے مطابق ہم ان سب کو اس لئے مورد الزام ٹھہرائیں کہ وہ اتنی ترقی کیوں کر گئیں۔ جج صاحب نے پھٹکار لگاتے ہوئے وکیل دعوے دار سے کہا کہ اپنی ڈگری اور وقار کی عزت کرو۔ اور اسی کی جانب سے دفاع کرو۔ جس میں کچھ حقیقت ہو۔ یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے لاکھوں کروڑوں افراد بے چینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور تم ایک معصوم عورت کو۔ جس کی خدمات کو ملک کے سب سے با وقار عہدے پر فائز صد ر جمہوریہ ہند بھی فراموش نہیں کر سکے۔ ارے فکر کرو ان گھرانوں کا جن کے چولہے اسی ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی کمپنی سے جلتے ہیں۔ شہیدوں کے چھوٹے چھوٹے بچے کہاں جائیں گے جن کی تعلیم اور تربیت کی ساری ذمہ داری ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اٹھا رکھی ہے۔

عزت مآب جناب جج صاحب نے مزید بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں زیادہ ہاتھ سیاسی چالبازوں کا لگتا ہے۔ اور بلیک میلنگ نیز ڈرانے دھمکانے اور کسی کی عزت کو فراموش کرنے کا کھیل پوری طرح سے اس کیس میں دیکھا ہی جا رہا ہے۔ مزید جج صاحب نے چال باز وکیلوں سے دریافت کیا کہ کوئی ثبوت ہے جس کے ذریعہ تم ان پر کلیم کر سکوکہ انہوں نے کسی کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ تو ان وکیلوں نے دعوی کیا کہ یہ سو سے زائد ایف آئی آر ہیں جن کو ملک بھر سے لوگوں نے کیا ہے۔ اس بات پر وکیل دفاع جناب ونیت جی نے اپنی جانب سے مہیا دستاویز جج صاحب کو پیش کیا اور کہا کہ عزت مآب جج صاحب ان کمپلین کنندگان میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے اس سے قبل بارہا پیسے انوسٹ کئے اور نکال لئے۔ اور سالہا سال فائدے بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ اور رہی بات اس درمیان پرافٹ نہ دے پانے کی تو ابھی حال فی الحال کمپنی کچھ الگ سسٹم قائم کرتے ہوئے ارادہ کر رہی ہے کہ تین ماہی سسٹم سے لوگوں کو ان کے فائدے پہنچائے جائیں۔ جس پر جج صاحب نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر کمپنی اپنے ٹرم اور کنڈیشن تبدیل کرنے کا مجاز رکھتی ہے۔

جناب جج صاحب نے تمام دستاویزات دیکھنے کے بعد ایف آئی آر درج کرائے ہوئے افراد سے سوال کیا کہ کیا تم نے جب سے انوسٹ کیا ہے اس وقت سے آج تک کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا۔ تو ہچکچاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرانے والے افراد نے مزید اور شکوک اور شبہات ظاہر کیا۔ جس پر وکیل دفاع جناب ونیت جی نے مزید اور دستاویز جج صاحب کے پاس رکھا اور کہا کہ جناب عالی یہ وہ دستاویز ہیں جس میں درج ہے کہ انہوں نے اپنی رقم کے برابر کا فائدہ اب تک حاصل کر لیا ہے۔ اور رہی بات ان سو کے قریب شکایت کنندگان کی جنہیں اصل میں سیاسی بلیک میلروں کے ذریعہ بہکایا گیا ہے تو ہمارے پاس پانچ ہزار کے قریب ملک بھرسے ایسے انوسٹرس کے اقبالیہ تحریری بیان ہیں جس میں انوسٹرس نے کہا ہے یہ صاف صاف کہا ہے کہ ”آپا ڈاکٹر نوہیرا شیخ بے گناہ ہیں اور ان کی گرفتاری ناجائز اور سازش کا حصہ ہے“۔ تو جج صاحب آپ ان سو کے قریب بہکے ہوئے افراد کی بات سنیں گے یا ان پانچ ہزار افراد کی جن کی آس اور امید سب کچھ ڈاکٹر نوہیرا شیخ ہی ہیں۔

ان باتوں کو سنتے ہوئے عزت مآب جناب جج صاحب نے ایک بار پھر غصہ میں آتے ہوئے کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایک بے گناہ کو بیل نہ دیا جائے۔ کیا تم اس لئے انہیں قید وبند کی مشکلیں دینا چاہتے ہو تاکہ ان کے ذریعہ چلنے والے لاکھوں گھرانے کے چراغ گل کر دئے جائیں۔ کیا تم انہیں سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہو ،جو ملک بھارت کے ہر باعزت شہری کا حق ہے۔ جسے چاہئے وہ سیاست میں جائے اور سماج کی خدمت کرے۔ اور کیا تم لوگ تمام ڈپارٹمنٹ کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہو ؟جب کہ ہر چیز کے لئے ایک الگ ڈپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔ اگر منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے تو اسے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ دیکھے گا۔ تم لوگ احسان مانو ہیرا گروپ آف کمپنیز کا جو غیر ممالک سے کما کر لاتے ہیں اور ملک کو مضبوط کرتے ہیں ، جب کہ آج تک ملک کی کرنسی کو باہر جاتے ہوئے تو دیکھا ہے،لیکن آتے ہوئے کم ہی لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ لہذا اس معاملے میں دعوے داری اور الزام تراشی کا کوئی کیس عائد ہوتا ہی نہیں ہے۔