یادیں ۔۔۔۔ بس یادیں رہ جاتی ہیں ۔۔۔۔

Zaara Mazhar_Pakistan
==============
نو دس بجے تک جملہ گھریلو کاموں سے فرصت مل جاتی ہے ۔۔ کبھی دوستیں ملنے آ جاتی ہیں کبھی ہم چلے جاتے ہیں ۔۔۔ کبھی پڑھنے لکھنے کا من ہو جاتا ہے ۔۔۔ آ ج بھی گھریلو کاموں سے جونہی فارغ ہوئے سوچا کبابوں کا مصالحہ تیار کر لیا جائے کباب فریز کر دیں تو کافی آ سانی ہو جاتی ہے ۔۔ دال بھگوئی اور لہسن پیاز کی باسکٹ شیلف پہ کھسکا لی مصالحہ بنانے اور چڑھانے کے دوران اچانک دستک ہونے لگی ۔ ہم لاپروائی سے کان لپیٹے نظر انداز کرتے رہے ۔۔ مگر اب کے دستک بھی شدید تھی ۔۔۔اور ہمارا ہاتھ بھی فارغ سو ہاتھ جھاڑ کر سیدھے ہوئے اور آ نے والوں کو راستہ دیا۔۔ کچھ پرانی ۔۔۔ بے حد پرانی یادیں ملنے آ ئیں تھیں ۔ یہ پرانی یادیں تو انسان کا سب سے قیمتی اور خوبصورت سرمایہ ہیں ۔۔۔ جینے کا سہارا ۔۔۔ ان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جتنی پرانی ہوتی ہیں اتنی ہی جگمگانے لگتی ہیں ۔۔۔۔پھر سنہری ہو ہو کے سونا سا بن جاتی ہیں بے انتہا قیمتی ۔۔۔ ہر انسان کے پاس یہ قیمتی زیورات انٹیکس کی طرح محفوظ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اپنے انوکھے ہی ڈیزائین کے ساتھ ۔۔۔جب جب نکالیں دل کو طمانیت ملتی ہے ۔۔ جتنی چاہیں نمائش لگا لیں چور کی چوری کا کوئی ڈر ہی نہیں ۔ خیر ہم نے ککر بند کیا اور مہمانوں کے لیئے در وا کر دیا ۔۔۔ ہر طرف ہماری گذشتہ زندگی کے ماہ و سال بکھرے پڑے تھے ۔۔ ہم کسی ایک بات کو پکڑ کر آ گے چلتے تو اطراف میں ایک ہجوم چلنے لگتا ۔۔۔ کباب بنانے ہوں تو گوشت چڑھانے سے گھنٹہ بھر پہلے دال بھگو دیا کرو ۔۔۔۔ والدہ کی آواز سماعتوں میں گھلی ۔۔۔ بڑے کے کباب بنانے کے لیئے کلو بھر گوشت میں پاؤ بھر دال اور ایک گلاس پانی کے ساتھ دھیمی آ نچ ضروری ہے ۔ بوٹی کے کباب اچھے بنتے ہیں سِل پہ پسے ہوئے۔۔۔ والدہ نے لہسن پیاز کی ڈلیا اپنی جانب کھسکاتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔۔۔ چوپر میں پیسنے سے بالکل ناکارہ سے اور بکھرے بکھرے سے بنتے ہیں اور قیمے کے کباب ذائقہ میں اچھے نہیں ہوتے نا ہی شکل میں خوبصورتی آ تی ہے ۔۔۔اب کے ہم نے اپنے کچن میں والدہ کو سل پہ شامی کباب پیستے ہوئے دیکھ کر آ نکھیں مسلیں ۔۔۔ ہرا مصالحہ خوب باریک کتر کے شامل کیا کرو ۔۔۔۔ امی کی آ وازیں کانوں میں گونجنیں لگیں ۔۔۔ گھر کے مردوں کو کھانا پہلے کھلانے سے کھانے میں برکت ہو جاتی ہے ۔۔۔ دیکھتی نہیں کتنی محنت سے ہمارے لئے سردی ، گرمی ، دھوپ ، ٹھنڈ اور تو تو میں میں برداشت کر کے آ تے ہیں ۔۔۔ ابا اور بھائی یا کوئی مہمان گھر میں داخل ہوں تو سب سے پہلے سلام کر کے پانی پیش کیا کرو ۔۔۔ بلکہ یہاں سامنے ہی جگ بھر کے جالی سے ڈھانپ دیا کرو ۔۔۔ سبزی ترکاری بناتے وقت مصالحوں کی تباہی نا لگایا کرو دال اور گوشت میں ڈلنے والے مصالحے سبزی میں نہیں ڈلتے ۔۔۔ کوشش کرو سبزی ذیادہ ہرے مصالحے میں پکے ۔ سبزی میں گرم مصالحے کا کیا کام ۔۔۔ نری معدے کی تباہی ۔۔۔ پیاز کو سنہرا کر کے جو مصالحہ بنایا جاتا ہے اس سے ہانڈی کا رنگ اور ذائقہ دونوں لاجواب ہوتے ہیں ۔۔۔ پیاز کو سنہری کرتے ہوئے یہ موٹے موٹے دیدے ہانڈی کے اندر رکھا کرو ہنڈیا کی ساری خوش رنگی انہی چند لمحوں میں بند ہوتی ہے ذرا ہیاز کا رنگ گہرا ہوا نہیں ساری ہانڈی فیل ۔۔۔ اتنا کالا سالن اب کون کھائے گا اور کھانا تو پہلے نظریں کھاتی ہیں پھر طبعیت مائل ہو تو لقمہ منہ تک جاتا ہے ۔ ۔۔۔ سب برباد ہنڈیا کا رنگ ہی نہیں اُگرا ۔۔۔ امی کی غصہ بھری آ واز کانوں میں دوبارہ گونجی ۔۔ سبزی میں لہسن ڈال کر خرچہ نا بڑھا دیا کرو ۔۔۔ کھانا پکانا تو آ ہی جاتا ہے کچن کا بجٹ بھی کنٹرول میں رکھنا چاہئے خاتون خانہ کو ۔۔۔ سبزی کے ساتھ آ ئی ہری مرچیں باریک پیس کر شامل کیا کرو زیادہ لال مرچ تو نقصان کرتی ہے ۔۔۔ ہمیں سمجھ نا آ تی کس سالن میں ادرک پیس کر ڈالیں کس میں باریک کاٹ کر ۔۔۔۔۔ روز گڑ بڑ ہو جاتی ۔۔۔۔ شوربےمیں نیچے بیٹھے ادرک کے ٹکڑے ٹماٹر کے چھلکے اور ہری مرچ کےکُترے دیکھ کر والدہ محترمہ کی نفیس طبیعت کو تپ چڑھ جاتی ۔۔۔ یہ کلیہ پلے میں باندھ لو کہ سبزی ، بھجیا یا بھنے سالن میں مصالحہ جات باریک کاٹ کر اور شوربے میں پیس کر شامل کیا کرو ۔۔۔ دھنیا اخبار کے کاغذ میں لپیٹ کر پکڑایا والدہ نے فرج میں رکھو ۔۔۔ کل بھی کام آ جائے گا ۔۔۔ سنو!!! گوشت کی بھنائی کرتے وقت بانڈی کو دہی میں بھونا کرو ٹماٹروں کی بربادی لگانے کی ضورت نہیں ۔۔۔ ویسے بھی گوشت دہی میں اچھا بھنتا ہے ۔۔۔ جب یہ کلیہ یاد ہوگیا توہماری واہ واہ ہونے لگی ۔۔۔ نہاری بناتے وقت ثابت مصالحے ململ کی پوٹلی میں باندھ کر ڈالا کرتیں جو کترنیں ابا کے کرتے سیتے وقت بچتیں والدہ سنبھال چھوڑتیں ۔۔۔ نہاری کی ساری خوبی اس کے گاڑھے خوش رنگ ملائم شوربے میں ہوتی ہے ۔۔۔ مصالحہ ثابت نا ہو اور بوٹی ملائی ہونی چاہیئے جو نوالے سے ٹوٹے ۔ ایک ہنڈیا بناتے دوسری کا تقابلی ذکر بھی شاملِ حال رہتا ۔۔۔ دالوں کو بھنے مصالحے میں پکانے کی بجائے ابال کر بنانا اچھا ہوتا ہے آ خر میں بگھار لگی ہنڈیا کی خوشبو کے کیا کہنے ۔۔۔ آس پاس کے چار گھروں میں خوشبو جاتی ہے اگر بگھار دیسی گھی کا ہو ۔۔۔ امی کی سنہری ، دیسی گھی جیسی کھری اور ملائم آ واز کانوں میں بجی ۔۔۔ اچار مربّے کثرت سے بنتے گھر میں والدہ ہر وقت مصروف رہتیں ہمیں بھی مصروف رکھتیں ۔۔۔ اچار کا ٹب دھوپ میں رکھ دو اوپر جا ہی رہی ہوتو ۔۔۔ ململ کا کپڑا کس دینا منہ پہ گرد اور کیڑے مکوڑوں سے بچت ہو جاتی ہے ۔۔۔ چولہے پہ چڑھی ہنڈیا کے ساتھ مربّے کے بڑے پتیلے تلے بھی دیا سلائی دکھا دی جاتی ۔۔۔ اب اس میں بھی چمچہ چلا دو دیکھنا آ م کی پھانکیں ٹوٹنے نا پائیں ۔۔۔ ان سب کاموں میں ہاتھ بٹاتے بٹاتے بے خبری میں ہی سہی ہم خود بھی ماہر ہو گئے ۔۔۔ مختلف مواقع پر کی گئئ والدہ کی نصیحتیں جانے کب چپکے سے زندگی کا حصہ بن گئیں ۔۔۔ سسرال میں ہر کوئی کہتا پایا جاتا بچی کی تربیت بہت اچھی کی ہے اس کی والدہ نے ۔۔۔چھوٹے بڑے کی عزت اور لحاظ کا معلوم ہے حالانکہ اوبڑاں دی اے ۔۔۔کیویں رچ وَس گئی اے ۔۔۔۔ ایک پڑوسن خالہ دوسری کے کان میں رشک سے کہتیں ۔ سسرال میں سے چھوٹی بہن کے لیئے رشتوں کی لائین لگ گئی ۔۔۔ ایک سسرالی عزیز جو شادی میں شریک نا ہو سکے تھے ۔۔۔ کچھ دنوں بعد مبارکی کے لیئے آ ئے اور بہو کے رنگ ڈھنگ اور سلیقہ دیکھ کر بہو کے والدین سے ملنے کی خواہش لیئے پہنچ گئے ۔۔۔ اور بیٹے کے لیئے سوال ڈال آ ئے ۔۔
لیجئے جناب کبابوں کا آ میزہ تیار ہوگیا ہے ہم کباب بناتے ہیں آ پ بھی اپنی یادوں کو مہمان کیجیئے ۔۔۔۔ سونے کی کان کا چکر لگائیے ہماری باقی کہانی پھر سہی ۔۔۔

ز ۔ م
19 ستمبر 2018ء