اقوام متحدہ کے امدادی ٹرکوں پر مشتمل قافلے کی شام میں الرکبان مہاجر کیمپ میں آمد

اقوام متحدہ کا ایک امدادی قافلہ شام کے اردن کی سرحد کے ساتھ واقع صحرائی علاقے میں قائم الرکبان مہاجر کیمپ میں پہنچ گیا ہے۔

اس کیمپ کےا نتظام کی ذمے دار شہری کونسل کے ایک رکن ابو عبداللہ نے بتایا ہے کہ ’’ پہلا امدادی قافلہ مہاجر کیمپ میں داخل ہوچکا ہے‘‘۔یہ شہری کونسل اقوام متحدہ کے رابطہ کار دفتر برائے انسانی امور کے ساتھ مل کر اس کیمپ میں امدادی سامان اور خوراک وغیرہ پہنچاتی ہے۔

الرکبان شام ، اردن اور عراق کے درمیان سرحدی سنگم کے نزدیک صحرائی علاقے میں واقع ہے اور اس کے نزدیک ہی طنف میں امریکا کا ایک فوجی اڈا واقع ہے۔اس مہاجر کیمپ میں شام میں جنگ کےنتیجے میں بے گھر ہونے والے پچاس ہزار سے زیادہ افراد رہ رہے ہیں۔اس کیمپ میں جنوری میں آخری مرتبہ اقوام متحدہ نے امدادی قافلہ بھیجا تھا۔

شامی فوج نے گذشتہ ماہ اس کیمپ کا اپنے سرحدی علاقے کی جانب سے محاصرہ کر لیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ وہ اسمگلروں اور تاجروں کو کیمپ کے مکینوں کو خوراک مہیا کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔کیمپ کے اردن کی جانب حصے پر امریکا کے حمایت یافتہ ایک باغی گروپ کا کنٹرول ہے۔

اردن نے اپنے سرحدی علاقے کی جانب سے کیمپ میں امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔البتہ اس نے جنوری میں امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس کو کیمپ کی اندرونی صورت حال کا ذمے دار قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران میں الرکبان کیمپ میں خوراک اور ضروری ادویہ کی قلت کی وجہ سے دس بارہ اموات ہوچکی ہیں۔ اس نے کیمپ کے مکینوں کی حالت کو تشویش ناک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان میں ہزاروں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں ۔شام نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کو کیمپ تک امدادی سامان قافلے کی شکل میں لے جانے کی اجازت دے دی تھی لیکن اس میں سکیورٹی اور لاجسٹیکل وجوہ کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے۔