امریکا نے ایران پر سابقہ پابندیاں بحال کر دیں، پابندیوں کی تفصیلات

امریکا نے سنہ 2015ء کے معاہدے کے تحت اٹھائی گئی پابندیاں ایران پر دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے مالیاتی اداروں کے ساتھ لین دین جاری رکھا تو بین الاقوامی سویفٹ نیٹ ورک بھی ان پابندیوں کی زد میں آئے گا۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کی بحالی کے بعد ایران کے 700 ادارے اور افراد بلیک لسٹ کر دیے گئے ہیں۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچین نے کہا ہے کہ رقوم کی منتقلی کرنے والا سویفٹ نیٹ ورک جس کا صدر دفتر بیلجیم میں بھی ایران کے ساتھ لین دین کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا کرے گا۔ اگر سویفٹ نیٹ ورک کی طرف سے ایران کے ساتھ لین دین جاری رہا تو اس کے نتیجے میں سویفٹ نیٹ ورک بھی پابندیوں کی زد میں آئے گا۔

منوچین نے ٹیلیفون پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سویفٹ کسی بھی دوسرے ادارے سے مختلف نہیں۔

پابندیوں کی تفصیلات
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحال کی گئی پابندیوں میں تہران کے تیل، توانائی، ٹرانسپورٹ اور مالیاتی سیکٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رواں سال مئی کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں۔

آئندہ سوموار سےان پابندیوں کا باقاعدہ نفاذ ہوجائے گا،جس کے بعد ایران کے ساتھ تیل کے لین دین کرنے والے اداروں، غیرملکی کمپنیوں، پہلے سے بلیک لسٹ اداروں اور آٹھ ممالک کے لیے ایران سے تیل کی خریداری مشکل ہوجائے گی۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعے کو ایک کانفرنس کال کے دوران استثنیٰ کے فیصلے کا اعلان کیا۔ لیکن اُنھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی آیا کون سے ملکوں کو استثنیٰ دیا جائے گا یا یہ سہولت کب تک کے لیے ہوگی۔

پومپیو نے کہا کہ ’’ہمیں امید ہے کہ آٹھ علاقہ جات کے لیے عبوری اجازت دی جائے گی۔ لیکن صرف اُس صورت میں کہ اُنھوں نے خام تیل کے استعمال میں کافی کمی لانے کا عملی مظاہرہ کیا ہو، جب کہ دیگر کئی محاذوں پر تعاون کیا ہو اور یہ کہ اُنھوں نے خام مال کی درآمد کو بالکل ختم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہو‘‘۔

اس سے قبل، ’بلوم برگ‘ نے اطلاع دی تھی کہ جنوبی کوریا، بھارت اور جاپان استثنیٰ دیے گئے ملکوں میں شامل ہیں۔ پومپیو نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو استثنیٰ نہیں ملے گا۔

پومپیو نے مزید کہا کہ دو ملکوں کو ایرانی تیل کی درآمد بالکل بند کرنی ہوگی، جب کہ دیگر چھ ملکوں کو اپنی درآمدات ’’کافی حد تک‘‘ کم کرنی پڑیں گی۔