خود پسندی کی مذمت

خود پسندی یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے دینی یا دنیاوی کوئی نعمت عطا کی ہو وہ یہ تَصوُّر کرے کہ ا س نعمت کا ملنا میری ذاتی کاوش کا نتیجہ ہے اور اس پر ناز کرنے لگے۔ (کیمیائے سعادت، رکن سوم: مہلکات، اصل نہم، حقیقت عجب وادلال، ۲/۷۲۵)
خود پسندی ایک مذموم باطنی مرض ہے اور فی زمانہ مسلمانوں کی اکثریت ا س میں مبتلا نظر آتی ہے۔ اپنے علم وعمل پر ناز کرنا، کثرت عبادت پر اترانا، عزت، منصب اور دولت پر نازاں ہونا، فنی مہارت پر کسی کی انگشت نمائی برداشت نہ کرسکنا، کسی اور کو خاطر میں ہی نہ لانا بہت عام ہے۔ ایسے حضرا ت کو چاہئے کہ ِان روایات کا بغور مطالعہ کریں :
(1)…رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی نیک عمل پر اپنی تعریف کی تو اس کا شکر ضائع ہوا اور عمل برباد ہو گیا۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، العجب، ۲/۲۰۶، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۷۴)
(2)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں : (1) لالچ جس کی اطاعت کی جائے (2) خواہش جس کی پیروی کی جائے (3) بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔ (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۴/۲۱۲، الحدیث: ۵۷۵۴)
(3)…نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟
عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا : ’’ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔ (معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، ۷/۱۲۹، الحدیث: ۶