روس 9 نومبر کو افغانستان پر بین الاقوامی مذاکرات کی میزبانی کرے گا

افغان حکومت اور طالبان کے علاوہ امریکا ، پاکستان ، بھارت اور ایران کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت

روس 9 نومبر کو افغانستان پر بین الاقوامی مذاکرات کی میزبانی کرے گا ۔روسی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ان مذاکرات میں افغان صدر اشرف غنی کی حکومت اور طالبان نے اپنے اپنے وفود بھیجنے سے اتفاق کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’’یہ پہلو موقع ہوگا کہ دوحہ میں طالبان تحریک کا سیاسی دفتر اپنے وفد کو بین الاقوامی سطح پر مذاکرات میں شرکت کے لیے بھیجے گا‘‘۔

تاہم افغان حکومت نے ابھی تک اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے کہ کابل حکومت ان مذاکرات میں شرکت کرے گی۔افغان وزارت ِخارجہ کے ترجمان صبغت اللہ احمد ی نے کہا ہے کہ ’’ ہم ابھی تک روسی حکام کے ساتھ اس کانفرنس کے بارے میں بات چیت کررہے ہیں اور ہنوز کوئی سمجھوتا طے نہیں پایا ہے‘‘۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا ، بھارت ، ایران ، پاکستان ، چین اور وسط ایشیا کی پانچ سابق سوویت ریاستوں کو بھی اپنے نمایندے بھیجنے کی دعوت دی ہے۔ روس نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ افغانستان میں جاری بحران کا سیاسی حل کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے۔

دریں اثناء افغان صدر اشرف غنی نے 2019ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار دوبارہ حصہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔وہ 2014ء سے افغانستان کے صدر چلے آ رہے ہیں۔وہ اب تک ملک میں امن وامان کی صورت حال کی بحالی اور تمام علاقوں میں اپنی حکومت کی عمل داری کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

امریکی حکومت کی ایک کمیٹی نے حال ہی میں رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران میں کابل حکومت کے ہاتھ سے بہت سے علاقے نکل گئے ہیں ،اس کی عمل داری محدود ہو کر رہ گئی ہے اور طالبان کے خلاف لڑائی میں اس کی سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

میدان ِجنگ میں طالبان مزاحمت کاروں کو شکست دینے میں ناکامی کے بعد امریکا نے ایک مرتبہ پھر امن کوششیں شروع کی ہیں اور حالیہ مہینوں میں امریکی حکام نے قطر میں طالبان کے نمایندوں سے دو مرتبہ بات چیت کی ہے۔امریکا کے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے 12 اکتوبر کو طالبان کے وفد سے بات چیت کی تھی اور طالبان نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔