شوہر کو جب زباں ملے ۔۔۔۔

Zaara Mazhar
============
شوہر کو جب زباں ملے ۔۔۔۔

سولہ انچ کالر میں شرٹس اور چھتیس ویسٹ کی پینٹس ۔۔۔ فائزہ نے کاؤنٹر پر بیٹھے شاپ کیپر نومی سے کہا ۔۔۔ نومی نے بہی کھاتوں سے الجھتے ہوئے مصروف انداز میں سیل مین لڑکے کو ہدایت کی سلمان ۔۔۔۔ باجی کو اچھی والی پینٹس اور شرٹس دکھاؤ ۔۔
فائزہ اس مردانہ سیکشن کی طرف بڑھ گئی ۔۔ شاپ بہت چھوٹی تھی ۔۔۔ دو کسٹمر حضرات پہلے سے شوکیس میں موجود ٹائیاں ،رومال اور موزے پسند کر رہے تھے انہوں نے بادل نخواستہ سمٹ کر فائزہ کے لیئے جگہ چھوڑ دی ۔۔۔
چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں ہر فرد ایک دوسرے کے فیملی ممبرز اور ان کے نام تک جانتا تھا ۔ سو بہت خیال سے رہنا پڑتا تھا ۔۔ فائزہ نے تین چار پینٹس اور میچنگ شرٹس پسند کیں ۔۔ یہاں کبھی کبھار ہی اچھی یا پسند کی چیز ملتی تھی ۔ عموماً چیز پسند آ جاتی تو سائز نہ ملتا جو سائز مل جاتا تو رنگ ناقابل برداشت ہوتا ۔ آ ج اتفاق سے دونوں چیزیں اچھی لگ رہی تھیں سو اس نے پانچ جوڑے پیک کروا لیئے ۔ اگرچہ گھر سے دو جوڑے لینے کی نیت سے چلی تھی ۔۔۔۔۔۔ نومی نے پیک کرتے کرتے مصروفیت سے چونک کر پوچھا انکل کا کالر سائز چینج ہو گیا ہے کیا ۔۔ پہلے تو آ پ ہمیشہ ساڑھے پندرہ میں لیتی ہیں ۔۔ فائزہ نے دماغ پر زور دیا ۔۔۔ ایک ساڑھے پندرہ کالر کی گرے شرٹ الماری میں صرف ایک دفعہ پہننے کے بعد لٹک رہی تھی کیوں کہ اس میں آ فاق کی توند بند نہی ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔فائزہ کو بروقت یاد آ گیا ۔۔۔ نہیں نومی سولہ انچ ہی دو ۔۔
کافی دنوں سے بچوں کی ضروریات میں الجھ کر آ فاق کے ڈریسز لینے سے رہ گئے تھے ورنہ فائزہ ہمیشہ آ فاق کے اسٹاک میں نئے کپڑے رکھتی تھی جس سے اچانک آ نے والی تقریبات آ سانی سے بھگتا لی جاتیں ۔۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں آ فاق اپنے لیئے شاپنگ کرنا بالکل بھول چکا تھا ۔۔۔ جب سے فائزہ اسکی زندگی میں آ ئی تھی شاپنگ اسی کی ذمہ داری تھی ۔۔۔۔
انکل کو پہنا کر سائز چیک کر لیجئے گا کچھ فرق ہوا تو میں بیٹھا ہوں نا نومی نے خوش دلی سے کہا ۔۔۔ پانچ جوڑے اکٹھے نکل جانے کے خیال سے نومی خوش تھا ۔۔ ورنہ شاپ پہ ا کا دکا گاہک ہی آ تے تھے ۔۔۔ آ فاق آ فیشلی ٹور پر ہیں دو تین روز میں آ ئیں گے تب ہی ٹرائی لی جا سکے گی فائزہ نے نومی کو مطلع کیا ۔۔۔ کوئی بات نہیں جب مرضی لے آئیے بس شرٹس کی پیکنگ اور کلپس وغیرہ سنبھال کر رکھیے گا پوری نہیں ہوئیں تو میں دوبارہ پیک کر لوں گا ۔۔ نومی نے پیشہ ورانہ مستعدی سے کہا ۔۔ فائزہ نے شاپرز اٹھاتے ہوئے دکان چھوڑ دی ۔۔ تیسرے دن آ فاق کی واپسی ہوئی ۔۔۔۔۔ فائزہ کی توقع کے برخلاف آ ستینں دو دو انچ لمبی اور ہتھیلیوں کے وسط میں براجمان ہورہی تھیں ۔۔ اور پینٹ کا ہک بند ہوکے نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ البتہ توند کے نیچے بند ہو گیا فائزہ کے ساتھ ساتھ آ فاق بھی سخت بدمزہ ہوا ۔۔۔ وہ اس طرح کی ٹرائیوں سے سخت چڑتا تھا اور ہزار دقتوں کے بعد پہن کر چیک کرنے پہ راضی ہوتا تھا ۔ تمہاری توند مزید دو انچ کب اور کیسے بڑھ گئی ۔۔۔۔ پچھلی ساری پینٹس تو چھتیس کی ہیں اور ٹھیک آ رہی ہیں ۔ فائزہ نے شرٹس پوری نا آ نے کا غصہ بھی توند پہ نکال دیا ۔۔
کل واپس دے آنا نومی کو میں نے ابھی ادائیگی نہیں کی فائزہ نے ہدایت کی ۔۔۔ خود ہی جانا آ فاق نے چڑ کر کہا ۔ اشیائے ضروریہ ہوں یا اشیائے خوردونوش آ فاق کبھی تبدیل کر کے نہیں لاتا تھا چاہے ہزاروں کا نقصان ہوجائے ۔۔( ایک اور بری عادت ) اس نے کڑھ کر سوچا ۔۔ اچھا ٹیلر کو دے کر آ ستین آ لٹر کروا لیتے ہیں ۔۔۔ جی نہیں آ فاق چمک کر بول پڑا پچھلے سال آ پ نے ایک شرٹ کی استین آ لٹر کروائی تھیں جس دن پہن لوں الجھن میں رہتا ہوں ۔ کندھے کے اوپر سے ایک کِھچ سی پڑتی ہے ۔ آ فس کا کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا اور میں تھک بھی زیادہ جاتا ہوں ۔۔۔ مزید بحث سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اگلے دن وہ خود ہی کپڑے واپس کر آ ئی ۔۔ نومی نے شرٹس پیکنگ کے لیئے سلمان کو تھمائیں اور متبادل شرٹس انہی رنگوں اور چیک میں ساڑھے پندرہ کالر کے ساتھ دے دیں ۔۔۔ اور ہدایت کی کہ ایک ہی پیکنگ کھولیے گا ۔ پینٹ اڑتیس ویسٹ میں دو عدد ہی ملیں ۔ اب پھر سے سائز چیک کرنے کے لیئے آ فاق کی منتیں کرنا تھیں ۔۔۔ ہزار دقتوں سے آ فاق کو راضی کیا ۔۔۔ ایک شرٹ کی پیکنگ کھولی ۔۔۔ دس جگہوں پر لگی کامن پنز ۔۔ طرح طرح کی ہارڈ شیٹ کے پیسز اور پیکنگ میڑیل سے باہر نکالی اور پیچھے سے جاکر پہنانے میں مدد کی ۔۔۔ آ فاق بد دلی سے دونوں بازو پھیلا کر بجوکا ( اسٹیچو ) بنا کھڑا رہا ۔۔۔ فائزہ خود ہی گھوم پھر کر سیٹ کرتی رہی مگر فٹ بال جیسی توند کی وجہ سے بٹن بند نہیں ہو رہے تھے آ ستین اور شولڈرز البتہ بالکل پورے تھے ۔۔۔ فائزہ کو سخت غصہ آ رہا تھا آ دھ انچ کالر کے فرق میں دو انچ کندھےکا مارجن اسے تاؤ دلا رہا تھا ۔۔ تم بہت بے ڈول ہو گئے ہو آ فاق ۔۔ فائزہ چڑ گئی تمہارے لیئے خریداری کرنا دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے ۔۔۔ کئی کئی چکر لگا کر تمہارا سائز ملتا ہے ۔۔۔ ہر کمپنی کے سائز کا اپنا ہی پیمانہ ہے ۔۔۔ کسی کا پندرہ نمبر کالر تمہیں پورا آ تا ہے کسی کا ساڑھے پندرہ اور کسی کا سولہ ۔۔۔ شادی کے وقت تم کتنے اسمارٹ تھے ۔۔۔ چودہ نمبر کالر لیتی تھی بوننزا کا یا آ کسفورڈ کا مجال ہے جو کہیں اونیچ نیچ ہوتی ہو ۔۔ اب جو بھی برانڈ لے آ ؤ ۔۔۔ جس بھی ممکنہ نمبر کی لاؤ پوری ہی نہیں آ تی تمہیں ۔۔۔ عجیب طرح سے پھیل رہے ہو تم ۔۔۔ آ خر دنیا میں اور بھی تو بہت سے موٹے لوگ ہیں مگر تمہاری طرح کے بد وضع نہیں ہیں ۔۔ ایکسر سائز کیا کرو ورنہ جم جایا کرو ۔۔۔ فائزہ بولتی ہی چلی گئی ۔۔۔ آ فاق بیچارہ بری طرح شرمندہ ہونے لگا جیسے دنیا میں پہلی بار کوئی بڑھتی عمر کے ساتھ بے ڈول ہو رہا ہو ۔ وہ اکثر اس بات پہ آ فاق سے الجھ جاتی تھی اور وہ بیچارہ چپ چاپ سن لیتا تھا ۔۔
اب ایک بار پھر شرٹس واپس کرنے کی ضرورت تھی فائزہ کو بھی شرم آ رہی تھی کھلی ہوئی شرٹس بار بار تبدیل کرتے ہوئے ۔۔۔ اب کے تم ہی جاؤ ۔۔۔ نہیں تم جاؤ ۔۔۔ نہیں تم ۔۔ تم ہی جاؤ گی ۔۔ فائزہ کو معلوم تھا اب بھی اسے ہی جانا پڑے گا ۔۔۔ اور وہی ہوا ۔۔۔ مزید تین چار دن تم تم کے چکر میں گزر گئے آ خر فائزہ نے بارِ خاطر ہوتے ہوئے شرٹس لوٹا دیں ۔۔۔
تین چار روز بعد ایک کِٹی پارٹی تھی ۔۔۔ خواتین کے ہارٹ فیورٹ موضوع زیرِ بحث تھے ۔۔۔ بچوں کے نخرے ، شوہر حضرات کی ہٹ دھرمیوں سے ہوتی ہوئی بات ٹرینڈی جوتوں اور کپڑوں پر آ گئی اور پھر خواتین کو باقی سب فکریں اور شکوے بھول گئے ۔۔۔ مسز شمس نے بتایا خان صاحب کی شاپ پہ نیا اسٹاک آ یا ہے کپڑوں کا ۔۔۔ جس جس کو چاہئے جلدی لے آ ؤ ورنہ چنیدہ اور خوبصورت مال نکل جائے گا ۔
فائزہ شام کو مارکیٹ گئی اور اپنے لیئے کچھ جوڑے پسند کر لائی ۔۔۔۔ قصبے میں کوئی ڈھنگ کا ٹیلر ہی نہیں ہے ۔۔۔ بندہ اتنے ارمانوں سے پیسے خرچ کر کے اور وقت لگا کے کپڑے خریدتا ہے ۔۔۔ یہ جاہل درزی بیڑا غرق کر دیتے ہیں کبھی جو ڈھنگ کا جوڑا سی کر دیا ہو ۔۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی ۔۔۔ اگلے دن سے اس نے منت شروع کر دی آ فاق ٹیلر کے پاس لے جاؤ پلیز تاکہ وقت سے سل جائیں ۔۔۔ آ گے کلب کی چند گیدرنگز آ رہی ہیں پھر رش پڑ جائے گا ۔۔۔۔ اول تو وہ کپڑے پکڑے گا ہی نہیں اور اگر لے لیئے تو جیسے تیسے سی کر پکڑا دے گا ۔ مگر آ فس سے آ نے کے بعد آ فاق مشکل ہی سے گھر سے نکلنے پہ راضی ہوتا تھا ۔۔ دو تین دن کے منت ترلے کام آ گئے اور کپڑے ٹیلر تک پہنچ گئے ۔۔ ہفتے بھر بعد واپسی تھی ۔۔۔۔ اچھی بات یہ تھی کہ ٹیلر کی شاپ بینک کے رستے میں مین روڈ پر ہی تھی آ فاق آ سانی سے اٹھا لاتا ۔۔۔۔ وعدے کے مطابق درزی کپڑے دے دے یہ تو کبھی ممکن ہوتا ہی نہیں فائزہ نے دو دن مزید انتظار کیا ۔ آ فاق کو صبح دس دفعہ یاد دہانی کروائی ۔۔۔ لنچ بکس میں بھی یاد دہانی کا پرچہ لکھ کر رکھ دیا ۔۔۔ ان سب کے بعد آ فس کے چھٹی کے وقت پہ دو بار فون کر کے کپڑے اٹھانے کی تاکید کی اسے نائیٹ میں ایک چھوٹی سی گیدرنگ میں جانا تھا ۔۔ اس نے سوچا نئے پرنٹ کے کپڑے سب سے پہلے میں ہی پہن لوں گی ۔۔
کپڑے مل گئے ۔۔۔۔ مگر حسبِ معمول بالکل بے ڈھنگے ۔۔۔ جس شرٹ کے نیچے لائینگ کی ضرورت نہیں تھی اسے لائینگ کے ساتھ اسٹچ کر کے شرٹ کو بوری جتنا بھاری کر دیا تھا ۔۔۔ دوسری شرٹ کے سلٹ اتنے چھوٹے کے پیٹ نمایاں ہونے لگا ۔۔۔سگریٹ پینٹس دونوں ہی بغیر ناپ لیئے سی دیں ایک سائز سے دو انچ لمبی تو دوسری ٹخنوں سے دو انچ اونچی ۔۔۔ فائزہ کا جی چاہا جا کے ٹیلر کا سر پھاڑ دے ۔۔ مگر وقت نہیں تھا اس نےجلدی جلدی ایک پہلے سے پہنا ہوا سوٹ نکالا اور استری کر کے پہن لیا ۔۔۔ دیکھو آ فاق زیادہ فٹ تو نہیں لگ رہا ۔۔ مجھے کولہوں پہ کچھ فیٹس نظر آ رہی ہیں فائزہ اسکے آ گے پیچھے گھومی مگر اسکی توجہ اس وقت ٹوٹلی ایل سی ڈی پر چلتے میچ پر تھی ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ اس نے غائب دماغی سے جواب دیا ۔۔۔ دوسرا کوئی آ پشن تھا نہیں سو اس نے زیادہ توجہ نہیں دی اور تقریب میں چلی گئی ۔ اگلے دن آ فاق کی منتیں کر کر کے درزی کے پاس گئی خوب صلواتیں سنائیں مگر وہ مان کے نہیں دیا کہ کپڑوں میں کوئی نقص ہے ڈھٹائی سے یہی کہتا رہا کہ ناپ پر ہی سئیے ہیں اور ناپ فائزہ گھر چھوڑ آ ئی تھی ۔۔۔۔ خیر کئی چکر لگانے کے بعد کپڑے اس معیار پر آ ئے کہ فائزہ ناک بھوں چڑھا کر پہننے پر آ مادہ ہوئی ۔۔
دوسری طرف لگتا تھا آ فاق نے اس بار فائزہ کے طعنے دل پہ ہی لے لیئے ہیں سچ مچ جم جانے لگا دار چینی کا قہوہ آ فس میں بھی بنوا بنوا کر پیتا رہتا ۔ بہت دن شرمندہ سی خاموشی طاری رہی ۔ اکثر کسی گہرے خیال میں غرق نظر آ تا ۔ پھر ایک روز کافی غور و غوض کے بعد اچانک پھٹ پڑا ۔۔۔ تم جو ٹیلر کے پاس چھتیس بار جاتی ہو کہیں سے کم کہیں سے زیادہ کروانے کو ۔۔ مجال ہے ایک بار کے سلے کپڑے تمہیں پورے یا پسند ا جائیں ۔۔۔ بارہ من کی دھوبن نظر آ تی ہو اسی لیئے ریڈی میڈ لے نہیں سکتیں ۔ چکر تو مجھے ہی لگانے پڑتے ہیں تمہارے اپنے پیمانے بھی بگڑ چکے ہیں ہنہہ ۔۔۔
فائزہ گُپ ، چُپ ، ساکت ۔

ز ۔ م
11 /11 2018ء