طنز و مزاح کے معروف شاعر اکبر الہ آبادی کی یومِ پیدائش کے ضمن میں خصوصی پیشکش

 طنز و مزاح کے معروف شاعر اکبر الہ آبادی کی یومِ پیدائش 16نومنر کے ضمن میں خصوصی پیشکش
محمد عباس دھالیوال.
مالیر کوٹلہ، پنجاب.
رابطہ 9855259650
“طنز و مزاح کے بڑے شاعر اصلاح ملت کے عظیم علمبردار اکبر الہ آبادی “

اردو شاعری میں طنز و مزاح کے شعرا کا تذکرہ ہوتے ہی ادب میں ” لسان العصر” کا لقب پانے والے اکبرؔ الہ آبادی کا نام روز روشن کی طرح ہمارے سامنے آموجود ہوتا ہے اور ان کا نام کانوں پڑتے ہی مانو قارئین کے ذہن و دل میں جیسے ہنسی کے فوارے پھوٹنے لگتے ہیں. دراصل اکبر نے اس عہد میں اپنی شاعری کا آغاز کیا جب اردو کے بیشتر شعراء اپنی شاعری کا نصب العین محض محبوب کی زلف کے پیچ و خم کو سجانے سنوارنے کو ہی تسلیم کر تے تھے ایسے میں اکبر نے شاعری کی ان عام روایات کو خیر باد کہہ کر ادب کی اس نازک صنف شاعری کو اپنی قوم کی اصلاح کے لیے استعمال کیا اور تنزل و مغرب کی اندھی تقلید کرنے والے مسلمانوں کو اپنی شاعری میں طنز و مزاح کا نشانہ بناتے ہوئے انکی اصلاح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی. اکبر نے اپنی شاعری کے ذریعہ قوم کی اصلاح کے جو نمایاں کارنامے انجام دیے وہ شاید اس وقت کے نثر نگار بھی نہ دے پائے.
دراصل اکبرؔ نے جس دور میں ہوش سنبھالا اس عہد میں ہندوستان سیاسی‘ معاشی‘معاشرتی اور ادبی نقطہ نظر سے انقلابی تبدیلیوں کے بڑے برے وقت سے گزر رہا تھا ۔اکبرؔ ابھی گیارہ سال کے ہی ہوئے تھے کہ 1857ء کی پہلی جنگ آزادی کی لڑائی شروع ہوگئی ۔ انگریز اس لڑائی کو غدر کا نام دیتے تھے ۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد ہندوستان سے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوگیا اور اس عظیم الشان ملک کو انگریزوں نے اپنا پوری طرح سے غلام بنا لیا.
اسکے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا ایک بازار گرم کر دیا. وہ ہر طرح سے مسلمانوں کو کمزور کردینا چاہتے تھے۔ کیونکہ انگریزوں کے من میں یہ بات گھر کر گئی تھی کہ اگر ہندوستان کو اپنے قبضے میں رکھنا ہے تو یہاں کے مسلمانوں کو کچل کر ہی اپنے قدم مضبوطی سے جما سکتے تھے ۔
اس کے چلتے انگریزوں نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کے قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا تو دوسری جانب مسلمانو ں کے تعلیمی نظام کو درہم برہم کر برباد کرنے پہ تلے ہوئے تھے ۔
مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے لگاتار ہٹا یا جا رہا تھا۔ ان کی جا گیریں ضبط کی جا رہی تھیں . ان منصب چھینے جا رہے تھے اور وظیفے ختم کردئیے گئے تھے ۔ متعدد افراد کو کالے پانی کی سزا سنائی گئی۔ انگریزوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دہلی اردو اخبار کے مدیر مولانا محمد باقر کی طر ح یا تو توپ سے اڑا دیا جاتا یا پھر پھانسی پر چڑھایا جاتا تھا. لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر کر دیا گیاتھا. یہاں قابل ذکر ہے کہ پہلے جو لوگ حکومت میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے یا پھر مغلیہ سلطنت میں شہزادے اور ولی عہد کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے انکو اس قدر لاچار و بے بس کر دیا گیا تھا کہ وہ معذور ہوکر بھیک مانگنے کو مجبور ہو رہے تھے ۔ ملک کے مذکورہ زوال کا نقشہ میرؔ تقی میر نے کچھ اس طرح سے پیش کیا ہے کہ.
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تخت و تاج کا
ایسے حالات میں ملک کے عوام خصوصاً مسلم قوم گہری مایوسی کے دور سے گزر رہی تھی. ان ملک کے زیر و زبر والے پیچیدہ حالات کو ملک کے غیور ادباء و شعراء بھلا کیوں کر آنکھیں موند سکتے تھے. چنانچہ اس وقت محب وطن کا جذبہ رکھنے والے چند ادباء و شعراء نے ملک و قوم کو بیدار کرنے کے لیے نہایت اہم و فعال رول ادا کیا. ان میں مولانا محمد باقر، سرسید احمد خان ، حالی اور ڈپٹی نذیر احمد، اور اقبال کے نام کا ذکر نمایاں طور پر کیا جا سکتا ہے. انھیں میں سے طنز و مزاح کے عظیم شاعر اکبر ؔ آلہ آبادی بھی اس وقت ایک ملت کے اصلاح پسند کے طور پر ابھر کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔اس ضمن میں صدیق الرحمٰن قدوائی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ” اکبرؔ کے نزدیک شاعری کا مقصد زندگی کی تنقید و اصلاح تھا۔۔۔ سرسید تحریک کے علمبرداروں نے اور اکبر ؔ نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق شاعری کے ذریعے قومی اصلا ح کی کوشش کی۔سماجی اعتبار سے متضاد نقطہ نظر رکھنے کے باوجود سرسید حالی اور اکبر ؔ یکساں ادبی نقطہ نظر کے حامل تھے‘‘۔
جب ہم اکبر کے حالاتِ زندگی کو مطالعہ میں لاتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ طنز و مزاح کے یہ عظیم شاعر اکبر الہ آبادی، الہ آباد کے ایک نزدیکی گاؤں میں 16، نومبر 1846 کو پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سیداکبر حسین رضوی تھا اور تخلص اکبر استعمال کرتے تھے ۔ اکبر نے ابتدائی تعلیم مدارس اور سرکاری اسکول سے حاصل کی اور تعلیم سے فراغت کے بعد محکمہ تعمیرات میں ملازمت اختیار کی۔ لیکن اس دوران مذید تعلیم حاصل کر تے رہے جس کے نتیجے میں 1869ء میں مختاری کا امتحان پاس کر نائب تحصیلدار بن گئے ۔ ایک سال بعد ہی آپ 1870ء میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کا عہدہ سنبھالنے میں کامیاب ہوئے ۔ جبکہ اس کے بعد 1872ء میں وکالت کا امتحان پاس کیا۔ 1880ء تک وکالت کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ منصف مقرر ہوگئے تک وکالت کی، پھر ترقی کرکے سب آرڈینیٹ جج اور بعد میں جج مقرر ہوئے۔ 1898ء میں خان بہادر کے خطاب سے نوازا گئے ۔ 1903ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے. شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا اور وحید الہ آبادی سے کی شاگردی اختیار کی ملازمت سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اکبر پوری طرح سے شاعری کے لیے وقف ہو گئے. آپ نے اردو ادب کو اپنے بیش قیمتی ادبی خدمات سے نوازا ہے اس میں کلیات اکبرؔ ‘مکاتیب اکبر اور فیوچر آف اسلام کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے۔

اکبر کو بیک وقت مختلف زبانوں فارسی، عربی اور انگریزی میں عبور و مہارت حاصل تھی۔ یہی ہے کہ ان کے اکثر اشعار میں انگریزی کے حروف و الفاظ میں پائے جاتے ہیں اس طرح سے انھوں نے اردو شاعری میں انگلش کے الفاظ کا استعمال اس مہارت سے کیا ہے کہ کوئی دوسرا شاعر ایسا نہیں کر سکا.
اکبر الہ آبادی کی جب گھریلو زندگی کو دیکھتے ہیں تو اکبر کی پہلی شادی غالباً تیرہ چودہ سال کی عمر میں ہوئی یہاں قابل ذکر ہے کہ آپ کی پہلی بیوی زمیندار خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور دیہاتی تھی اور عمر میں بھی آپ سے کسی حد تک بڑی تھی کچھ انھیں وجوہات کی بنا پر اکبر کو وہ
پسند نہ تھی اس طرح ان کی ازدواجی زندگی زیادہ خوش گوار نہ تھی. جبکہ ان بطن سے دواولادیں عابد حسین نذیر حسین کی شکل میں پیدا ہوئیں . اس کے بعد اکبر نے دوسری شادی ایک ’’لوٹا جان‘‘ نامی طوائف سے کی جبکہ تیسری شادی فاطمہ صغریٰ سے ہوئی وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس سے ان کو دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی۔ ہاشم حسین، عشرت حسین پیدا ہوئے. یہ وہی عشرت ہیں جنھیں پیار سے اکبر عشرتی بلاتے تھے جنہیں اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے انگلینڈ میں بھیجا اور اس دوران ایک مشہور نظم عشرتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہی آپ بھی نظم کے چند اشعار یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ
عشرتیؔ گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
پہنچے ہوٹل میں تو پھر عید کی پروا نہ رہی
کیک کو چکھ کے سوئیوں کا مزا بھول گئے
بھولے ماں باپ کو اغیار کے چرنوں میں وہاں
سایۂ کفر پڑا نور خدا بھول گئے
موم کی پتلیوں پر ایسی طبیعت پگھلی
چمن ہند کی پریوں کی ادا بھول گئے
نقل مغرب کی ترنگ آئی تمہارے دل میں
اور یہ نکتہ کہ مری اصل ہے کیا بھول گئے
کیا تعجب ہے جو لڑکوں نے بھلایا گھر کو
جب کہ بوڑھے روش دین خدا بھول گئے

ویسے تو شاعری کا شوق اکبر کوبچپن سے ہی تھا لیکن 1888ء سے ان کی شاعری کا باقاعدہ طور پر دور شروع ہوا. آپ نے قدیم ترین فرسودہ شاعری سے بالکل الگ اپنی منفرد قسم کی شاعری کا آغاز کیا یعنی اکبر نے شاعری میں اپنی راہیں خود ہی نکالیں اور خود ہی انھیں ہموار بھی کیا آپ کی شاعری کا واضح مقصد قوم کی اصلاح کرنا تھا۔
اکبر کے کلام کی جو نمایاں خوبیاں و اوصاف ابھر کر سامنے آتے ہیں ان کو ہم اس طرح سے دیکھ سکتے ہیں
اردو ادب میں اکبر الہ آبادی پیروڈی شاعری کے موجد خیال کیے جاتے ہیں
اردو شاعری میں طنز و مزاح میں جو شہرت اکبر الہ آبادی نے پائی ہے کوئی دوسرا شاعر اس کے نزدیک تو کیا دور دور تک بھی نظر نہیں آتا.
آپ کی شاعری قومی یکجہتی کے جذبے سے سرشار ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو اہل ادب آج بھی قومی یکجہتی علمبردار کے علمبردار کے طور پر یاد کرتے ہیں
آپ اپنے ملک کی اقدار کے محافظ و پاسبان ہیں یعنی مشرقی روایات کے دلدادہ ہیں جبکہ مغربی تہذیب و تعلیم کے خلاف نظر آتے ہیں اس کی شہادت ان کے مختلف اشعار سے دیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں.
جس دور میں اکبر نے شاعری کی ہے اس عہد میں خواتین کے تعلیم حاصل کرنے کو معیوب خیال کیا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ پہلے پہل کی شاعری میں اکبر تعلیم نسواں کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں.

اکبر الہ آبادی بھی حیوان ظریف غالب کی طرح اکبر الہ بادی کو بھی آموں سے عشق تھا ۔ اپنے ایک دوست منشی نثار حسین کو لکھتے ہیں کہ

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے
ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے
معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے
ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں
تعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے
بہت اچھا ہوا آئے نہ وہ میری عیادت کو
جو وہ آتے تو غیر آتے جو غیر آتے تو غم ہوتا

انسانی زندگی میں دولت کس قدر ناپائیدار و دھوکہ ہے اس کا خلاصہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
اگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کی
مجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا

مغربی تعلیم کے اکبر الہ آبادی بہت سخت خلاف تھے یہی وجہ ہے کہ وہ ایسا کوئی موقع وہ نہیں گنواتے جو ایسی تعلیم پہ طنز نہ کرتے ہوں چند اشعار آپ بھی دیکھیں.

تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے؟ فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے؟ فقط سرکاری ہے
صیاد ہنر دکھلائے اگر تعلیم سے سب کچھ ممکن ہے
بلبل کے لیے کیا مشکل ہے اُلو بھی بنے اور خوش بھی رہے

تم شوق سے کالج میں پھلو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اُڑو چرخ پہ جھولو
لیکن ایک سخن بندہٴ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

اکبر قدیم روایات کے پاسبان و حامی تھے یہی وجہ ہے کہ وہ دورِ جدید کی تبدیلیوں کو برداشت نہیں کر پاتے اور جدید تہذیب اور نام نہاد تعلیم نسواں کی دلداوہ عورتوں کی بھی اکبر خوب خبر لیتے ہوئے فرماتے ہیں آپ بھی دیکھیں کہ۔
حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمع انجمن پہلے چراغ خانہ تھی
تعلیم دختراں سے یہ امید ہے ضرور
ناچے دلہن خوشی ہے خود اپنی برات میں
مجلس نسواں میں دیکھو عزت تعلیم کو
پردہ اٹھاچاہتا ہے علم کی تعظیم کو
کون کہتا ہے علم زناں خوب نہیں
ایک ہی بات فقط کہنا ہےیاں حکمت کو
دوا سے شوہرو اطفال کی خاطر تعلیم
قوم کے واسطے تعلیم نہ دو عورت کو
بے پردہ نظر آ ئیں مجھے چند بیبیاں
اکبرؔ زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑگیا
پوچھا جوان سے آپ کا پردہ کدھر گیا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
جبکہ ایک جگہ لڑکیوں کی تعلیم کو ضرور ی محسوس کرتے ہوئے یہ نصیحت بھی دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ
تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر
خاتون خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں

سرسید اور حالی کی طرح اکبر ؔ بھی اصلاح پسند کے طور پر سامنے آتے ہیں۔اس پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے صدیق الرحمٰن قدوائی لکھتے ہیں۔
’’ اکبرؔ کے نزدیک شاعری کا مقصد زندگی کی تنقید و اصلاح تھا۔۔۔ سرسید تحریک کے علمبرداروں نے اور اکبر ؔ نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق شاعری کے ذریعے قومی اصلا ح کی کوشش کی۔سماجی اعتبار سے متضاد نقطہ نظر رکھنے کے باوجود سرسید حالی اور اکبر ؔ یکساں ادبی نقطہ نظر کے حامل تھے‘‘۔
سر سید کی طرح اکبر کو بھی اپنی قوم کی ناخواندہ رہنے کی بے حد فکر تھی جبکہ دوسری قوموں کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی نمایاں خدمات دے رہے تھے لیکن اکثر مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ وہ پڑھنے کی مشقت گوارہ نہیں کرتے تھے حصول تعلیم کے علاوہ وہ ہر مشکل کام انجام دینے کو تیار تھے اسی خیال کو انھوں نے اپنی نظم فرضی لطیفہ میں کچھ انداز طنز و مزاح کے لبادہ میں پیش کیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں یقیناً آپ محسوس کریں گے کہ آج سے سو ڈیڑھ سو سال جو مسلمانوں کے حالات تھے آج بھی کم و بیش وہی حالات ہیں یعنی آج بھی مسلمان اسی طرح سے تعلیم سے جی چراتے نظر آتے ہیں

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ
مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس
یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں
نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس
سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ
کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس
کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے
کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس
تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے
بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس
کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی
کجا عاشق کجا کالج کی بکواس
کجا یہ فطرتی جوش طبیعت
کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس
بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے
ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس
یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی
مجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس
دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود
نہیں منظور مغز سر کا آماس
یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ
اکبر ایک قادرالکلام شاعر تھے آپ کو نئے نئے کافیے گھڑنے پہ خدا داد صل حاصل تھی مشکل سے مشکل کافیوں کو بہ آسانی شاعری میں ڈھال لیتے تھے انگریزی الفاظ کو اکبر نے جس طرح کافیوں کی شکل میں استعمال کیا ہے اس کی نہ ان سے پہلے نہ ہی ان کے بعد اب تک کوئی نظیر نہیں ملتی. چنانچہ آپ بھی اکبر کی ایک نظم جلوہ دربار دہلی میں سے ان کے کافیوں کی بہار دیکھیں..
سر میں شوق کا سودا دیکھا
دہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا
جو کچھ دیکھا اچھا دیکھا
کیا بتلائیں کیا کیا دیکھا
جمنا جی کے پاٹ کو دیکھا
اچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا
سب سے اونچے لاٹ کو دیکھا
حضرت ”ڈیوک کناٹؔ” کو دیکھا
پلٹن اور رسالے دیکھے
گورے دیکھے کالے دیکھے
سنگینیں اور بھالے دیکھے
بینڈ بجانے والے دیکھے
خیموں کا اک جنگل دیکھا
اس جنگل میں منگل دیکھا
برھما اور ورنگل دیکھا
عزت خواہوں کا دنگل دیکھا
سڑکیں تھیں ہر کمپ سے جاری
پانی تھا ہر پمپ سے جاری
نور کی موجیں لیمپ سے جاری
تیزی تھی ہر جمپ سے جاری
ڈالی میں نارنگی دیکھی
محفل میں سارنگی دیکھی
بیرنگی بارنگی دیکھی
دہر کی رنگا رنگی دیکھی
اچھے اچھوں کو بھٹکا دیکھا
بھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھا
منہ کو اگرچہ لٹکا دیکھا
دل دربار سے اٹکا دیکھا
ہاتھی دیکھے بھاری بھرکم
ان کا چلنا کم کم تھم تھم
زریں جھولیں نور کا عالم
میلوں تک وہ چم چم چم چم
چوکی اک چولکھی دیکھی
خوب ہی چکھی پکھی دیکھی
ہر سو نعمت رکھی دیکھی
شہد اور دودھ کی مکھی دیکھی
ایک کا حصہ من و سلویٰ
ایک کا حصہ تھوڑا حلوا
ایک کا حصہ بھیڑ اور بلوا
میرا حصہ دور کا جلوا
اکبر نے زندگی سے وابستہ مختلف مضامین کو اپنے طنز و مزاح سے لبریز انداز کو قطعات کے پیرائے میں ڈھال کر نہایت دلکش انداز میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے چند منفرد قسم رنگ کے قطعات آپ بھی دیکھیں. کہ
اک برگ ضمحل نے یہ اسپیچ میں کہا
موسم کی کچھ خبر نہیں اے ڈالیو تمہیں
اچھا جواب خشک یہ اک شاخ نے دیا
موسم سے با خبر ہوں تو کیا جڑ کو چھوڑ دیں
تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا
افعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا
اکبرؔ نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی
جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا

ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کی
ہر باغ میں یہ کلی نہیں کھلنے کی
کچھ پڑھ کے تو صنعت و زراعت کو دیکھ
عزت کے لیے کافی ہے اے دل نیکی

وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاں
اغیار ان پر گزرتے ہیں اب خندہ زناں
جھگڑا کبھی گائے کا زباں کی کبھی بحث
ہے سخت مضر یہ نسخۂ گاؤ زباں

یہ بات غلط کہ دار الاسلام ہے ہند
یہ جھوٹ کہ ملک لچھمنؔ و رامؔ ہے ہند
ہم سب ہیں مطیع و خیر خواہ انگلش
یورپ کے لیے بس ایک گودام ہے ہند
یوں تو اکبر الہ آبادی کا شمار سرسید کے مخالفو ں میں ہوتا ہے۔ مدرسة العلوم کو اکبر نے ہمیشہ اپنی تنقید کا نشانہ بنایا مگر علی گڑھ میں اپنے قیام کے دوران اکبر بھی سرسید کے مشن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انھوں نے سرسید کی کوششوں کو سراہا اور یہی کہا کہ.
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا

نہ پوچھو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں

اکبر کو میڈیا کی اہمیت و افادیت کا خوب اندازہ تھا کہ کسی ملک و قوم کو جگانے اور دشمن مقابل کھڑا کرنے میں اخبارات ایک فعال رول ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ
کھینچو نہ کمانوں سے نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو اخبار نکالو
اکبر ؔ کے کلام مختلف قسم کے رنگوں سے بھرپور ہے جہاں اس میں طنز ‘ظرافت ‘ مزاح عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہے وہیں سنجیدگی و رومانس بھی ان کے کلام کے اہم عناصر ہیں ۔ اکبر ؔ کا طنز کہیں تیکھا کہیں چیونٹی کی طرح کاٹتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے اور قارئین لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ غور و فکر کرنے پہ مجبور ہوجاتا ہے چند منفرد قسم کے رنگ آپ بھی یہاں ملاحظہ فرمائیں.
اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

اگر مذہب خلل انداز ہے ملکی مقاصد میں
تو شیخ و برہمن پنہاں رہیں دیر و مساجد میں

الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

ان کو کیا کام ہے مروت سے اپنی رخ سے یہ منہ نہ موڑیں گے
جان شاید فرشتے چھوڑ بھی دیں ڈاکٹر فیس کو نہ چھوڑیں گے
اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے

انہیں بھی جوش الفت ہو تو لطف اٹھے محبت کا
ہمیں دن رات اگر تڑپے تو پھر اس میں مزا کیا ہے

بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

جبکہ ایک جگہ خدا کے تعلق سے سائنس پہ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
نہیں سائنس وقف ابھی دین سے
خدا دور ہے حدِ دور بین سے
جبکہ پڑھی لکھی ہونے کے ساتھ ساتھ من پسند بیوی ملنے کے ضمن میں خلاصہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے
اکثر وکالت میں جس طرح سے جھوٹ و فریب سے کام لیا جاتا ہے اس کے چلتے اکبر طنزیہ انداز میں کہتے ہیں. کہ
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

ایک جگہ مذید کہتے ہیں کہ
فرق وکالت و طوائف میں یہ ہے کہ
اس کی پیشی ہے اسکا پیشہ ہے

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا
عاشق و معشوق اگر ازدواجی زندگی میں بندھ جائیں تو کیا ہوتا ہے ملاحظہ فرمائیں کہ
تعلق عاشق و معشوق کا تو لطف رکھتا تھا
مزے اب وہ کہاں باقی رہے بیوی میاں ہو کر
اکثر ڈاکٹروں خصوصاً آج کل جس طرح سے طمع پائی جاتی ہے اس پہ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ.
ان کو کیا کام ہے مروت سے اپنی سے یہ منہ نہ موڑیں گے
جان شاید فرشتے چھوڑ بھی دیں ڈاکٹر فیس کو نہ چھوڑیں گے

آجکل جو مسلمانوں کے نازک حالات ہیں یقیناً اس میں ہم سے سرجد ہونے والے اعمال کو بہت زیادہ دخل ہے اسی کے چلتے اکبر کہتے ہیں کہ
جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھ
ایک جگہ ختنہ کے وقت بچے و نائی ذہنیت کی عکاسی کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ

جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

جوانی کی ہے آمد شرم سے جھک سکتی ہیں آنکھیں
مگر سینے کا فتنہ رک نہیں سکتا ابھرنے سے
حسینوں کے بجلی گرانے کے انداز کو اس انداز میں پیش کر تے ہیں کہ
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
غیر سے سوال کرنے کی بجائے ایک جگہ خدا س مانگنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ.
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں
حقیقی و مزاجی شاعری کے فرق ان الفاظ میں واضح کرتے ہیں کہ
حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایا
کہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے
جدید ترین بنگلوں و کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی زندگی سے اسلامی روایات کس طرح رخصت ہو رہی ہیں اس کے ضمن میں اکبر کیا کہتے ہیں چند اشعار آپ بھی دیکھیں کہ
بنگلوں سے نماز اور وظیفہ رخصت
کالج سے امام ابو حنیفہ رخصت

صاحب سے سنی ہے اب قیامت کی خبر
قسطنطنیہ سے ہیں خلیفہ رخصت
کالج سے جنہیں امیدیں ہیں مذہب کو بھلا کیا مانیں گے
مغرب کو تو پہچانا ہی نہیں قبلے کو وہ کیا پہچانیں گے

اکبر ؔ کے کلام میں جا بجا ظرافت کے پھول جھڑتے نظر آتے ہیں ۔
عمر گذری ہے اسی بزم کی سیاحی میں
دوسری پشت ہے چندے کی طلب گاری میں
اکبر ؔ نے اپنے کلام میں انگریزی کے حروف کو اس قدر خوبصورت انداز میں استعمال کیا ہے کہ شاید اس ڈھب سے کوئی دوسرا شاعر نہیں کر پایا کبھی کبھی لفظوں کی الٹ پھیر سے ایسا حسن پیدا کرتے ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی
عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کام
ہم توABمیں رہے اغیار BAہوگئے

اکبرؔ نے اپنے کلام میں شیخ‘واعظ‘مولویوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اور ان کی اصطلاحوں سے مزاح پیدا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری بھول جا
شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا
اکبرؔ کے کلام میں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ بہت سے سنجیدہ اشعار بھی دیکھنے کو ملتے ہیں یاسیت اور سادگی کا اظہار کرتے ہوئے اکبر ؔ کہتے ہیں۔
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی
ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
اکبر الہ آبادی کی روز مرہ زندگی میں بھی غالب کی پیش آنے والی مختلف لوگوں سے ہونے والی گفتگو میں اکثر لطائف خود بخود جنم لے لیتے ہیں.
جیسے کہ ہندوستان میں داڑھی منڈوانے کا روا ج پہلے میں عام تھا ۔ لیکن لارڈ کرزن جب اس ملک میں آئے تو ان کی دیکھا دیکھی مونچھیں بھی چہروں سے غائب ہونے لگیں۔ پہلے پہل خان بہادر سید آل نبی وکیل آگرہ اور مسٹر مظہرالحق بیر سٹر نے لارڈ کرزن کی تقلید کی۔ پھر تو انگریزی دانوں میں عام رواج ہوگیا ۔چنانچہ آپ نے اس کی ہجو میں حسب ذیل قطعہ ارشاد فرمایا۔
کردیا کرزن نے زن مردوں کو صورت دیکھئے
آبرو چہرے کی سب فیشن بناکر پونچھ لی
سچ یہ ہے انسان کو یورپ نے ہلکا کردیا
ابتدا ڈاڑھی سے کی اور انتہا میں مونچھ لی

اسی طرح کلکتہ کی مشہور مغنیہ گوہر جان ایک مرتبہ الہ اآباد گئی اور جانکی بائی طوائف کے مکان پر ٹھہری ۔ جب گوہر جان رخصت ہونے لگی تو اپنی میزبان سے کہا کہ ’’میرا دل خان بہادر سید اکبر الہ آبادی سے ملنے کو بہت چاہتا ہے ۔‘‘ جانکی بائی نے کہا کہ’’ آج میں وقت مقرر کرلوں گی ، کل چلیں گے ۔‘‘ چنانچہ دوسرے دن دونوں اکبر الہ آبادی کے ہاں پہنچیں ۔ جانکی بائی نے تعارف کرایا اور کہا یہ کلکتہ کی نہایت مشہور و معروف مغنیہ گوہر جان ہیں ۔ آپ سے ملنے کا بے حد اشتیاق تھا، لہذا ان کو آپ سے ملانے لائی ہوں۔ اکبر نے کہا ’’زہے نصیب ، ورنہ میں نہ نبی ہوں نہ امام ،نہ غوث ،نہ قطب اور نہ کوئی ولی جو قابل زیارت خیال کیا جاؤں ۔ پہلے جج تھا اب ریٹائر ہوکر صرف اکبرؔ رہ گیا ہوں ۔ حیران ہوں کہ آپ کی خدمت میں کیا تحفہ پیش کروں ۔ خیر ایک شعر بطور یادگار لکھے دیتا ہوں ۔‘‘ یہ کہہ کر مندرجہ ذیل شعر ایک کاغذ پر لکھا اور گوہر جان کو پیش کیا۔
خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا

اکبرکے بطور شاعر مشہور ہوجانے پر بہت سے لوگوں نے ان کی شاگردی کا دعویٰ کردیا ۔ لیکن اسی بیچ ایک صاحب کو بہت دور کی سوجھی انہوں نے خود کو اکبر کا استاد مشہور کردیا ۔ اکبر کو جب اس بات کا علم ہوا کہ حیدرآباد میں ان کے ایک استاد ظہور پذیر ہوئے ہیں ، تو کہنے لگے ،’’ہاں مولوی صاحب کا ارشاد سچ ہے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے میرے بچپن میں ایک مولوی صاحب الہ آباد میں تھے ۔ وہ مجھے علم سکھاتے تھے اور میں انہیں عقل، مگر دونوں ناکام رہے ۔ نہ مولوی صاحب کو عقل آئی اور نہ مجھ کو علم ۔‘‘
اسی ایک مزید لطیفہ بہت مشہور ہے کہ ایک دفعہ اکبرالہ آبادی دلی میں خواجہ حسن نظامی کے یہاں مہمان تھے ۔ سب لوگ کھانا کھانے لگے تو آلو سے بنی سبزی (ترکاری) اکبر کو بہت پسند آئی ۔ انہوں نے خواجہ صاحب کی دختر حور بانو سے (جو کھانا کھلارہی تھی ) پوچھا کہ بڑے اچھے آلو ہیں ۔ کہاں سے آئے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خالو بازار سے لائے ہیں ۔ اس پر اکبرؔ نے فی البدیہہ شعر کہا کہ
لائے ہیں ڈھونڈکے بازار سے آلو اچھے
اس میں کچھ شک نہیں ہیں حور کے خالو اچھے
ایک اور لطیفہ بہت مشہور ہے ہوا یوں کہ اکبر الہ آبادی ایک بار خواجہ حسن نظامی کے ہاں مہمان تھے ۔ دو طوائفیں حضرت نظامی سے تعویذ لینے آئیں ۔ خواجہ صاحب گاؤ تکیہ سے لگے بیٹھے تھے ۔ اچانک ان کے دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھے اور اس طرح پھیل گئے جیسے بچے کو گود میں لینے کے لیے پھیلتے ہیں اور بے ساختہ زبان سے نکلا’’ آئیے آئیے ۔‘‘
طوائفوں کے چلے جانے کے بعد اکبر الہ آباد ی یوں گویا ہوئے ۔’’میں تو خیال کرتا تھا یہاں صرف فرشتے نازل ہوتے ہیں ، لیکن آج تو حوریں بھی اترآئیں ۔‘‘ اور یہ شعر پڑھا؛
فقیروں کے گھروں میں لطف کی راتیں بھی آتی ہیں
زیارت کے لیے اکثر مسماتیں بھی آتی ہیں

ایک دن اکبر الہ آبادی سے ان کے ایک دوست ملنے آئے ۔اکبرؔ نے پوچھا: ’’کہئےی آج ادھر کیسے بھول پڑے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا ،’’ آج شب برات ہے۔ لہذا آپ سے شبراتی لینے آیا ہوں ۔‘‘اس پر اکبر الہ آبادی نے برجستہ جواب دیا:

تحفۂ شب رات تمہیں کیا دوں
جان من تم تو خود پٹاخہ ہو

ڈاکٹر جمیل جالبی اکبرؔ کی شاعری پر مجموعی طور پر خلاصہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’ اکبرؔ کی شاعری اور ان کا تہذیبی زاویہء نظر ہمیں آج بھی دعوت فکر دیتا ہے ۔۔۔اکبرؔ کی آواز وہ آواز ہے جو نہ صرف پاکستان وہندوستان کو بلکہ سارے ایشیا کو زندہ رہنے اور خود کو از سر نو دریافت کرنے کی دعوت دیتی ہے۔اکبرؔ جیسا شاعرایشیا کی کسی بھی دوسری زبان میں مجھے نظر نہیں آتا۔ جس نے مغربی تہذیب کے غلبے سے بچنے کے لئے جس دلچسپ اوراور دلکش انداز میں اپنی جڑوں سے پیوستہ رہنے کی تلقین کی ہو۔اور قوموں کی تخلیقی صلاحیتوں کو زندہ و باقی رکھنے کا گر سکھایا ہو۔اس لئے میں اکبرؔ کو صرف مزاحیہ شاعر نہیں بلکہ جدید فلسفی شاعر سمجھتا ہوں‘‘۔
بلاآخر طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ اصلاح پسند ی کا یہ آسمانِ ادب کا یہ عظیم ستارہ 1921ء کی ایک شام کو ہمیشہ ہمیش کے لیے غروب ہوگیا۔ تاہم اپنے پیچھے ایسی روشن شعاعیں چھوڑگیا جن سے اہل ادب و دانش رہتی دنیا تک مشعلِ راہ کے مثل استفادہ اٹھاتے رہیں گے.