قصّہ ایک رومانوی شام کا ۔۔۔۔

Zaara Mazhar_ Chashma, Pakistan
=============

موسم بہت سہانا بلکہ شاعرانہ زبان میں بہت ظالم ہورہا تھا ۔۔۔ دن بھر کی تیز بارش کے بعد ہمارا رتیلا علاقہ سیلا سیلا اور نچڑا ہوا سا تھا اور حدِ نظر تک ایک دھلا دھلایا سا ماحول بنا ہوا تھا ۔ بارش کے بعد ہلکی ہوا سے جھومتے درخت سُر سنگیت کی محفل بپا کئیے ہوئے تھے ۔ ایسا ماحول جس میں کافی یا چائے کی سنہری خوشبو رچنے کو مچلنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔ ہم ( میری ضد پہ )لانگ ڈرائیو پہ نکلے ۔۔۔ کافی کا فلاسک اور مگ بمعہ الّم غلّم باسکٹ میں ہمراہ تھے ۔ خیال تھا کہ جھیل کے نیلے پانیوں میں پاؤں ڈبو کر کافی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے فرائی مچھلی کھائیں گے اور ۔۔۔ جھیل میں تیرتی ، پھڑکتی زندہ مچھلیوں کے کانوں میں کچھ نظمیں اور ادھورے افسانے سنانے کی کوشش کریں گے جو ہم چاہتے ہوئے بھی تحریر نہیں کر سکتے ۔ بگلوں کے سفید پروں کی پھڑپھڑاہٹ قریب سے محسوس کریں گے ۔۔۔ سیپ اور گھونگھے جمع کریں گے ۔۔۔ رنگ برنگے اور چتکبرے ، چکنے پتھر جیبوں میں بھریں گے اور آ خر میں جینز کے پائنچے الٹ کر جھیل میں اتر جائیں گے ۔۔ جھیل کی تہ میں نرم ریت میں دھنستےتلوے بیک وقت سہج سہج اور جما جما کے رکھنا بھی ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے ۔۔ پاؤں کو سنبھال کر رکھنا کہ رپٹ نا جائیں اور سہج سے رکھنا کہ کنکراور نوکیلے پتھر پیروں میں نا چبھ جائیں ۔ یہ ساری خوبصورتیاں اور شوخیاں گاڑی کی رفتار کے ساتھ ساتھ دماغ میں چل رہی تھیں ۔۔۔
گاڑی میں پھیلی رومانوی سی خاموشی کو توڑتے ہوئے صاحب نے کھنگورا بھرا تو ہم سمجھے شاید موسم کے زیرِ اثر کوئی خوبصورت خوشبو جیسی بات یا پرانی یاد ۔۔۔ یاد آ رہی ہے ۔۔۔ ہم نے دونوں کانوں کی مکمل توجہ ادھر موڑ دی ۔۔۔ مگر انہوں نے دور سے آ تے بھینسوں کے ایک گلّے کی جانب نظر مرکوز کرتے ہوئے انتہائی بے زاری سے فرمایا ۔۔۔۔ جب روڈ کے کنارے بھینس یا عورت چل رہی ہوتو ڈرائیونگ بہت احتیاط سے کرنی چاہیے ۔۔۔ بھینس جگالی میں اور عورتیں باتوں میں اتنی مگن ہوتی ہیں کہ سامنے سے آ تا بڑے سے بڑا ٹرک یا ٹرالر بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور جب انکے سر میں سودا سماتا ہے کہ سڑک پار اترنا بے تو بےخوف ہو کر ٹریفک میں کود پڑتی ہیں ورنہ ٹریفک جام یا رش کبھی مسئلہ نہیں بنتا ۔۔۔ ہم ابھی 100کی رفتار سے صاحب کو گھورنے کی کوشش میں تھے ( کیونکہ وہ ہماری طرف متوجہ نہیں تھے )کہ کنارے کنارے چلتی دو خواتین کو بے دھیانی سے بنا ادھر ادھر دیکھےسڑک پار کرنے کی سوجھ گئی ۔۔ اور شدید بریک چرچرانے سے ہماری گھورتی آ نکھیں خود بخود مِچ گئیں ۔۔۔